خطبہ حجتہ الوداع ۔۔ انسانی مساوات  اور معاشرتی انصاف کا عالمی منشور 


 خطبہ حجتہ الوداع وہ آخری خطبہ ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے  میدان عرفات میں اس وقت دیا جب ایک لاکھ   سے زائد جان نثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو تھے ۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج اور ۔اسی لحاظ سے  آخری خطبہ تھا اس خطبہ ۔ میں آپ نےفرمایا ۔ 

 ۔" میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک زنا جوا،سود بے حیائ قتل حق تلفی خیانت  تمام جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرمایا۔اور یہی اصل روشن خیالی و روشن ضمیری ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قسم کا قتل و قتال کو نا جائز قرار دیا ۔‌اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مذاھب کے افراد خواتین ،مرد ۔ بچے  بوڑھے حتی کہ زمینوں فصلوں تک کے حقوق متعین کیۓ۔ اور انہیں بلا ضرورت جلانے اور کاٹنے سے منع فرمایا ۔اس طرح ہم پر واضح ہو تا ہے کہ بلاضرورت کسی کا بھی قتل جائز نہیں ۔ اسلام میں جانوروں کے تک حقوق ہیں اور ہر جاندار کی جان کی حفاظت ایک سچے مسلمان کو کرنی ہے ۔چاہے وہ کسی بھی مذہب اور کسی بھی جنس سے تعلق رکھتا ہو ۔ .  ایک اور اہم بات  بات جو آپ نے  فرمائ وہ اداۓ امانت ہے ۔اس بارے میں آپ کا فرمان ہے ۔" جس کسی کے پاس کسی دوسرے کی امانت جمع ہو اسے اس کے مالک کو  لوٹادی جاۓ۔ "

اس کے علاوہ سود کی حرمت پر آپ نے فرمایا۔" آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے ۔ ۔‌ . سواۓراس المال کے ۔نا تم ایک دوسرے پر ظلم کرو نا قیامت کے دن تم پر ظلم کیا جاۓ گا "اس طرح سود کو ہمیشہ کے لیۓ حرام قرار دیا گیا۔

۔اس کے بعد آپ نے جو  فرمایا۔۔ وہ قتل و   قتال کی حرمت ہے ۔چنانچہ آپ نے اپنے گھر سے اس کی ابتدا  کرتے ہوۓ ارشاد فرمایا ۔"جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دییۓجاتے  ہیں ۔سب سے پہلے میں  بنو ہاشم کے ایک بچے ابن ربیعہبن حارث بن عبد المطلب کا بدلہ و دیت معاف کرتا ہوں ۔"نیز یہ بھی فرمایا۔" اے لوگو ۔تم پر ایک دوسرے کی جان قیامت تک کے لیۓ حرام ہے ۔جیسا کہ آج کے  دن اور اس ماہ کی  تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے۔ یعنی یوم عرفہ اور ذو الحج کے مہینہ میں ۔

اس کے ساتھ ہی آپ نے ببانگ دہل فرمایا کہ ۔ "کسی عربی کو کسی عجمی پر  ،کسی عجمی کو ،کسی عربی پر  فضیلیت نہیں ہے ۔ کسی کالے کو گورے پر کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں ہے ۔ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر ۔فضیلت ہوگی۔ آخری چیز جس کے بارے میں فرمایا  وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔  مردوں کو عورتوں کے حقوق کے بارے میں ڈرنے کی بات کی ہے ۔اور یہ بات آپ نے تین بار فرمائ ۔۔کہ "عورتوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ  سے ڈرو ۔ "

رسول اللہ  نے آخری  خطبہ میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیۓفرمایا۔" اے لوگو ۔غور سے سنو ۔جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیۓ جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ کر رکھوگے تو کبھی ٹھوکرنا کھاؤ گے ۔وہ چیز بجاۓ خود واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے" ۔یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئ۔ اس طرح خطبہ حجتہ الوداع میں ہمارے پیارے نبی نے  انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کا عالمی منشور ترتیب دیا ۔جس کو دنیا کا کوئ مذہب چیلینج نہیں کر سکتا ۔ 






 ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چاہ زم زم اور سعی

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45

آن لائن پیسے کمانا