ٹایم ٹراویل 220

ایک نہایت خوبصورت،سا شخص جس نے  ہو بہو فواد خان جیسالک اپنا یا تھا ۔اپنی ڈیپی بدل رہا تھا کہ 
آپ پھر فیس بک پر جا کر بیٹھ گۓ۔ہمیں پتا نہیں تھا ورنہ ہم بادشاہ سلامت کو کہ دیتے کہ یہ موا لیپ ٹاپ نا دیں ۔ہاۓمرزا غالب غالب نا رہے ۔آپ کو کہا بھی تھا مہینہ کا راشن ختم ہو گیا ہے۔ہم نے لسٹ بنا دی ہے جايۓاور کسی بھی سوپر مال سے لے آیں۔مرزا غالب کی اہلیہ محترمہ نے اپنے تازہ تازہ بیوٹی پارلر سے کٹواۓبالوں ایک ادا سے جھٹک کر کہا۔
جی !جانو جی ،ارادہ باندھا تو تھا جانے کامگر
فیس بک نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
غالب کے اس انداز پر اہلیہ محترمہ جل کر رہ گٸں۔
ہم آپ کو گروسری لانے کے لیے کہ رہے ہیں اور آپ ہمیں موۓشعر سنا رہے ہیں۔اس شاعری نے  آپ کو کہیں کا نا رکھا ،اب اس زمانے میں بھی یہ شاعری ،کر  رہے ہیں ۔ہم آپ سے کہ رہے ہیں کہ  شاعری چھوڑیۓاور کچھ بزنس دغیرہ کریں۔آگرہ کا پیٹھا بہت مشہور ہے کیوں نا آپ اسکا کاروبار کر لیتے۔
لاحول ولا قوة،
”یہاں فیس بک پر ہماری شاعری کی دھوم مچی ہے اور تم ہمیں پیٹھے کی دوکان لگانے کے لیے کہ رہی ہو۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی
انکے اس اندز پر اہلیہ ”اونہہ“ کہتیں ہاٸ ہیل سے ٹک ٹک کرتیں کٹی پارٹی کے لیے چلی گٸں۔
خس کم جہاں پاک کہتے مرزا غالب پھر سے فیس بک کھول کر بیٹھ گۓ۔
فیس بک پر ایک فرینڈ ریکوسٹ آٸ پڑی تھی۔کوٸ میراں نامی لڑکی کی،غالب نے فوراً قبول کرلی۔پرو فایل تصویر میں انجیلینا جولی کی تصویر تھی۔غالب نے فوراً ایک شعر داغا۔
نازکی انکی لب کی کیا کہیۓ
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
لیکن وہاں سے غصہ والا تاثر کے ساتھ یہ پیغام آیا کہ
”کسی زمانے میں یہ ہمارا شعر ہوا کرتا تھا ۔گو کہ اب ہم نے شاعری ترک کر دی ہے لیکن اس شعر کے سارے کاپی راٸٹس ہمارے پاس ہیں۔
اس جواب کو پڑھکر غالب نے لکھا
ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں کسی زمانہ میں میر بھی تھا
آجکل آپ کیا کر رہی ہیں“مرزا غالب نے دل والا ایموجی بھیج کر کہا۔
ہم آجکل مزاحیہ شاعری کر رہے ہیں ۔
کیوں اپنا پروفیشن بدل لیا،آپ تو کافی المیہ شاعری کرتی تھیں۔غالب نے حیرانی والا ایموجی بھیجا۔
جی ۔چونکہ اس میں اسکوپ کم تھا۔ لوگ اعتراض کرتے تھے کہ ہماری شاعری پڑھ کر ہنسنے والے بچے رونے لگتے ہیں ۔اس لیے ہم نے سوچا لوگ رلا کر جاتے ہیں مگر ہنسانے نہیں آتے ۔ اس لیے ہم نے مزاحیہ اداکاری شاعری وغیرہ شروع کر دی  ۔ہم ٹک ٹاک پر کامیڈی بھی کرتے ہیں ۔لایک اورسبسکرایب کرنا نا بھو لیں۔وہاں سے شرمانے والے ایموجی کے ساتھ جواب آیا تھا۔مرزا غالب نے جواب میں کٸ پھول بھیجے ۔
وہ پھر سے فیس بک پر مو جود لڑکیوں کو تاڑنے لگے۔ایک لڑکی پروین شاکر نظر آٸ ۔اس نے اپنی وال پر ایک شعر لگا یا تھا۔
کیسے کہ دوں کہ چھوڑ دیا اس نے مجھے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسواٸ کی
مرزاغالب نے فوراًانکا اسٹیٹس دیکھا وہ سنگل تھیں اس لیے فوراً  فرینڈ ریکوسٹ بھیج دی ۔جو کہ کچھ تامل کے بعد قبول کر لی گٸ۔

آپ وہی مرزا غالب ہیں جو فیسبک پر چھچھوری شاعری کے لیے مشہور ہیں
جی !خاکسار ہی ہے۔مرزا غالب نے ایک ادا سے کہا اور دل والا ری ایکٹ بھیجا۔
اسکے جواب میں پروین نے لکھا
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گۓ
مرزا غالب نے پھر ہنسنے والا ایموجی بھیجا۔
وہ تو خوشبو ہے ہواٶں میں بکھر جایگا
مسٸلہ پھول کا ہے پھول کدھر جایگا پروین نے لکھ بھیجا
مسٸلہ پھول کا ہے ناں خوشبو کا، مسٸلہ ہماری بیگم کا ہے۔مرزا غالب نے ایک آہ سرد بھر کر کہا۔پروین ہنسیں اور کہا۔
غالب صاحب معذرت،فیض احمد فیض صاحب آن لاین ہیں ۔وہ آجکل گنج پن دور کرنے کے لیے تیل بنا رہے ہیں ۔اس کے لیے انہیں میری مدد کی ضرورت ہے ۔
لیکن تیل کی تو اسکو خود ضرورت ہے ۔مرزا غالب نے شوخی سے کہا تو پروین شاکر ہنس کر خدا حافظ کہ گٸں۔مرزا غالب ابھی فیس بک پر ہی تھے کہ اہلیہ آگٸں اور انہیں دیکھ آگ بگولہ ہو گٸں ۔
آپ یہیں ہیں ابھی،انکی للکار پر مرزا غالب کے ہاتھوں سے لیپ ٹاپ ہی گر گیا۔
اٹھیے اب، ورنہ ہم نے ابھی آپکو اسمبل کر پھر سے اٹھارویں صدی میں بھیج دینا ہے ۔غضب خدا کا ،سارا دن بس فیس بک فیس بک ،اسی لیے آپکے خطوط بھی ادھورے رہ گۓ۔دیوان چھپ گۓ تھے۔یہ قسمت کی مہربانی سے،بس اب اٹھ جایۓورنہ ..   .. ... وہ رک گٸں اور غالب اپنے آپ کو بچاتے باہر کی جانب بھاگے،



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ