عورت اور کار ڈرایونگ مزاحیہ تحریر
عورت اور کار ڈرائیونگ
ا" ٹھیک ہے ۔ اب ہماری یہ مختصر سی ٹی پارٹی اپنی اختتام کو پہنچی ۔ اب ہم اجازت چاہتے ہیں ۔ " بیگم نفیس نے اپنا چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھا تھا ۔ اور ہم نے بھی شکر کی سانس لی ۔ وہ یوں کہ آج اس ٹی پارٹی میں ہم تیسری بار مدعو تھے ۔ ورنہ ایسی پارٹی وغیرہ میں حصہ لینا یا آنا ا ہمارا مشغلہ ہر گز نہیں تھا ۔
" سمیہ ۔ آپ ہمیں ڈراپ کر دیں گی " ہم نے لجاجت سے سمیہ کی جانب دیکھا تھا ۔ جو کہ ہماری پڑوسن تھی۔ لیکن سمیہ سے پہلے بیگم نفیس نے ہمیں دیکھا ۔
آ"آپ کے پاس تو خود کی کار ہے ۔ پھر سمیہ کیوں ڈراپ کرے " ان کے چہرے پر حیرت کا تاثر ابھرا ۔
" جی کار تو ہے لیکن ڈرائیور رکھا نہیں ۔ شوہر تو آج سنڈے منارہے ہیں ۔اس لیۓ کیب کر لی تھی اب سمیہ کا گھر راستہ میں ہی ہے تو اس کے ساتھ ہی چلے جائیں گے ۔ "
ہمارے اتنا کہنے کی دیر تھی بیگم نفیس پر تو جیسے اچانک عورتوں کے مساوی حقوق خودمختار عورت اور جانے کون کون سی عورت کے کردار " جن" بن کر حاوی ہو گۓ اور وہ لگیں تقریر کرنے جس کا مختصراجائزہ یہ تھا کہ ہمیں ہر کام خود کرنا چاہیۓ ۔کار بھی خود ڈرائیو کرنی چاہیے۔ کسی پر منحصر ہو نا بالکل بھی اچھی بات نہیں ۔خاص طور پر شوہر پر ۔ آخر آج کی عورت کب سیکھے گی ۔ پر اعتماد رہنا ۔کسی پر منحصر نا ہونا ۔آخر کب ۔۔۔۔ " ان کی تقریر دھواں دھار تھی ۔ اور چہرے کا سرخ رنگ ان سے زیادہ بو ل رہا تھا جو کہ یقینا میک اپ کا کمال تھا ۔
آخر کب تک عورت یوں رہے گی ۔ مرد کے حکم کی منتظر ۔ مرد کے احسان تلے جینے والی ۔ آخر کب تک ۔۔۔"
" جی ۔ ہم نے تو ساری زندگی کا منصوبہ بنا لیا ہے ۔ " ہم نے دل ہی دل میں کہا ۔ بیگم نفیس کے منہ پر کہتے تو وہ ہمارا منہ نا توڑتیں ۔
آپ کو خود سیکھنی چاہیے ۔ کار ۔ اپنی کار خود ڈرائیو کریں تاکہ مرد پر رعب و دبدبہ رہے ۔ کہ آپ بھی آزاد اور حوصلہ مند عورت ہیں ۔ " انکی تقریر سے اب دھواں آنے لگا تھا ۔ جو ہمارے کانوں تک آتا محسوس ہو رہا تھا ۔
" لو جی وہ تو ویسے بھی ہمارے رعب میں رہتے ہیں ابھی ۔ اور کتنا رعب ڈالیں بیچارے شوہر پر۔ " ہم نے بیچارگی سے سمیہ کو دیکھا جو ہماری کیفیت سمجھ رہی تھی ۔
اسے پتا تھا ہم ایسی ٹی پارٹیز پسند نہیں کرتے اس پر مستزاد مرد اور عورت کی برابری والا نعرہ ۔
" بیگم نفیس ۔ حمنہ نے کچھ مہینے قبل ہی کار لی ہے ۔ وہ سیکھ رہی ہے کار ڈرائیو نگ ۔ آپ یوں سمجھیں کچھ دنوں میں حمنہ بھی اپنی کار خود ڈرائیو کر تے ٹی پارٹی میں آۓ گی ۔ " سمیہ نے مسکرا کر بیگم نفیس کے سامنے بڑ ماری ۔ جو ہمیں سخت ناگوار گذری ۔
کیونکہ کار سیکھنے کا ہمیں شوق نہیں تھا ۔ نا ایسا کوئ ارادہ تھا ۔
" ضرور سیکھیں ۔ مسز کامران ۔ عورت کو کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہیے ۔ ہمیشہ سر اٹھا کر جینا چاہیے یوں ۔۔۔" انہوں نے اپنا سر اونچا کیا تو سر کے بالوں کا نقلی جوڑا ایک طرف ڈھلک گیا ۔ا ور ہم اپنی ہنسی روکتے سمیہ کے ساتھ باہر آۓ تھے ۔مسز نفیس کا شمار شہر کے ان نو دولتیوں میں ہو تا تھا جو خلیج سے ریال کما کر اچانک اپنے آپ کو جدید تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے چکر میں اپنی جڑوں کو کاٹنے لگتے ہیں ۔ وہ جدید تہذیب کو پہنے اوڑھنے کے چکر میں آدھے تیتر آدھے بٹیر بنے بیٹھے تھے ۔
**********
مسز نفیس کا مشورہ ہمیں قابل توجہ تو نظر نہیں آیا تھا۔ لیکن کچھ واقعات یوں ہوۓ کہ وہی مشورہ ہمیں قابل غور لگنے لگا ۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمیں بازار جانا تھا ۔ لیکن شوہر صاحب نے لال جھنڈی دکھادی کہ وہ آج ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ۔۔
کیوں ۔ کیوں نہیں چل سکتے ۔" ہم نے احتجاج کیا ۔
" کام ہے ۔ " انہوں نے موبائل میں اپنی نگاہیں مرکوز کی ہو ئ تھیں ۔
" کیا کام ۔۔ ہمیں ضروری چیزیں خریدنی ہیں ۔ "
" ضروری چیزیں خریدنا نہیں بلکہ فضول خرچی کا ایک بہانہ ہوتا ہے ۔ اس لیے گھر بیٹھو ۔" انہوں نے پھر سے موبائل میں نظریں جمائیں ۔
" آپ چل رہے ہیں کہ نہیں ۔ " ہم نے دھمکی آمیز نظروں سے انہیں گھورا ۔
" نہیں " وہ ہماری دھمکی آمیز نظروں کو ایک" نہیں " سے ہوا میں اڑاتے یہ جا وہ جا ۔ اور ہم ان کی پشت گھورتے رہ گۓ۔
اس کے بعد دوسری بار بھی کچھ ایسا ہی رویہ اپنا یا ۔
امی کے پاس جانا تھا اور انہوں نے حسب معمول وہی کہا ۔
" ہر دوسرے دن امی کے پاس جاؤ گی تو عزت نہیں رہتی ۔ اس لیے جانے کی کوئ ضرورت نہیں ۔ " اب کے اخبار میں گھسے ہوۓتھے ۔
امی نے نہایت عزت سے ہمیں اپنے پوتے کی بسم اللہ میں بلایا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔۔ " ہم روہانسے ہو گۓ۔
" اب بسم اللہ میں نہیں جا سکیں تو کچھ دن بعد روزہ رکھائ میں چلی جانا ۔ " کمال بے نیازی سے کہا گیا ۔
ااور ہم دل ہی دل میں کچکچا کر رہ گۓ کہ روزہ رکھائ کو تو ابھی چا سال اور لگنے تھے ۔
ان واقعات نے ہمیں بیگم نفیس کے مشورہ پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ۔
صحیح تو کہہ رہی تھیں ۔ بیگم نفیس ۔ آج اگر خود ڈرائیو کرنا آتا تو یوں شوہر صاحب کی منتیں نا کرنی پڑتیں ۔ خود ڈرائیور کرتے مال چلے جاتے ۔اور" مال" اڑاتے خود ڈرائیو کرتے اور امی کے پاس موجود ۔ یوں ہماری سوچوں کا رخ اب ڈرائیونگ سیکھنے پر چلا گیا تھا ۔ کار چلانا سیکھنا چاہیے ۔ " ہم نے اپنے اندر جوش محسوس کیا ۔
" لیکن کار ۔۔۔ کچھ مشکل ہے ۔ خواتینکی کار ڈرائیونگ کو لیکر کافی لطائف زبان ذد عام ہیں ۔ جیسے
عورت جب کار ڈرایئو کرتی ہے تو آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔وہ کار وہاں پارک کرے گی جہاں" نو پارکنگ" کا بورڈ لگا ہو گا۔بریک گاڑی ٹھوکنے کے بعد لگاۓ گی۔اور دائیں جانا ہو تو بایاں اور بایاں جانا ہو تو دایاں ہاتھ بتاۓ گی۔۔گاڑی آگے لیتے لیتے یکدم سے ریورس لے لیگی۔پیچھے بندہ حیران پریشان اپنی گاڑی سنبھالنے میں لگ جاتا ہے۔
یہ سب باتیں یاد کیا آئیں ۔ہمارے جوش پر پانی کے چند چھینٹے پڑے ۔
" لیکن کیا ہم صرف اس بات پر کار چلانا نہیں سیکھیں گے کہ سب ہماری کار ڈرائیونگ پر ہنسیں گے ۔ جبکہ
آعورتوں نے تو اپنی قابلیت کے جھنڈے ہر جگہ گاڑے ہیں۔گاڑی تو کیا چیز ہے۔اس نے تو ہوائ جہاز بھی چلالیا ہے۔
"ہونہہ۔ان مرد حضرات نے عورتوں کو سمجھ کیا رکھا ہے۔"
اس بات نے ہمارا وہ جوش جو برف کی طرح پگھل گیا تھا دوبارہ ابلنے لگا ۔اور ہم سیدھا میاں کے پاس چلے گۓ۔
"ہم نے بھی کار چلانی سیکھنی ہے"۔ہم نے جوش سے ہاتھ ہوا میں لہراۓ۔اور صبح کا وہ اخبار جو ہمیشہ میاں کے چہرے کے آگے ٹکا ہو تا تھا ۔ میز پر پٹخا ۔
" کیا ہوا ۔ "
" ہم نے بھی کار چلانا سیکھنا ہے " ہم نے دوبارہ اسی جوش کے ساتھ کہا۔
پہلے سائیکل چلانا تو سیکھ لو"۔انہوں نے ہمارے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔اور خود پانی پینے لگے۔
"سائیکل چھوڑیں ہم تو کار ہی سیکھیں گے۔ہاں۔"
ہماری بات پر وہ طنزیہ مسکراۓ اور کہا"۔کار ،سیکھینگی،لیکن آپ کو کار سکھاۓ گا کون،میں اپنی جان خطرہ میں نہیں ڈالوں گا۔"وہ کہتے اٹھ گۓانکی اس بات پر ہمارا منہ بن گیا۔لیکن چونکہ ہمارا ارادہ ہو چکا تھا اس لیۓ شام میں جب دونوں بچے کار میں بیٹھے تھے۔ہم بھی کار کی ڈرائیو نگ سیٹ پر بیٹھ گۓ۔بچے سمجھے شوقیہ بیٹھے ہیں۔ہم نے کہا "کار اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں "۔دونوں ہنسنے لگے۔
"ممی،کار سیکھنے چلی ہیں اور اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں نہیں پتا،"
"خاموش"،ہم نے گھرکا۔بڑا بیٹا معنی خیز سی مسکراہٹ لیۓ بتانے لگا۔بتانے کیا اس نے کار اسٹارٹ ہی کردی۔
چونکہ ابتداۓ عشق ہے والا معاملہ تھا۔ہم نے انتہائ بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اکیسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔کار کی فرمانبرداری تو دیکھیے یوں نکلی جیسے منتظرہی تھی ۔سیدھے گھرکے سامنے بنے چبوترے کے کارنر کاٹتی ہوئ نکلی ،ہماری تو سانس حلق میں اٹک گئ.
پہلے سائیکل چلانا تو سیکھ لو"۔انہوں نے ہمارے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔اور خود پانی پینے لگے۔
"سائیکل چھوڑیں ہم تو کار ہی سیکھیں گے۔ہاں۔"
ہماری بات پر وہ طنزیہ مسکراۓ اور کہا"۔کار ،سیکھینگی،لیکن آپ کو کار سکھاۓ گا کون،میں اپنی جان خطرہ میں نہیں ڈالوں گا۔"وہ کہتے اٹھ گۓانکی اس بات پر ہمارا منہ بن گیا۔لیکن چونکہ ہمارا ارادہ ہو چکا تھا اس لیۓ شام میں جب دونوں بچے کار میں بیٹھے تھے۔ہم بھی کار کی ڈرائیو نگ سیٹ پر بیٹھ گۓ۔بچے سمجھے شوقیہ بیٹھے ہیں۔ہم نے کہا "کار اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں "۔دونوں ہنسنے لگے۔
"ممی،کار سیکھنے چلی ہیں اور اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں نہیں پتا،"
"خاموش"،ہم نے گھرکا۔بڑا بیٹا معنی خیز سی مسکراہٹ لیۓ بتانے لگا۔بتانے کیا اس نے کار اسٹارٹ ہی کردی۔
چونکہ ابتداۓ عشق ہے والا معاملہ تھا۔ہم نے انتہائ بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اکیسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔کار کی فرمانبرداری تو دیکھیے یوں نکلی جیسے منتظرہی تھی ۔سیدھے گھرکے سامنے بنے چبوترے کے کارنر کاٹتی ہوئ نکلی ،ہماری تو سانس حلق میں اٹک گئ.
"او میرے خدا"ہماری چیخ نکلی تو بچے نے فوراً بریک لگایا۔کار رکی تو ہماری جان میں جان آئ۔اور ہم سب کار سے نکل کر سیدھے گھر میں گھسے۔
میاں جی کو پتا چلا تو خوب ڈانٹے"کار سیکھنا جوکھم بھرا کام ہےایسے کون کرتاہے۔خدانخواستہ بچوں کی جان پر بن آتی تو۔"
"پھر تو آپ کو ہی سکھانا پڑے گا۔آپ رہینگے تو تھوڑی ہمت رہے گی۔"
"ہمت؟ٹکر مارنے کے لیے،"
"ن ن نہیں کار سیکھنے کے لیے۔آپ صرف ساتھ رہیں اور بس۔"
بس پھر کیا تھا۔چھٹی کا دن مقرر ہوا، اور ہم نے آغاز کیا ۔ ،میاں جی نے سب سے پہلے بریک اور کلچ کا بتایا،دیکھو یہ بریک اور کلچ کو اچھی طرح سمجھ لو،اور جب میں بریک لگانے کے لیے کہوں ،” روکو“تو گاڑی روک دینا ۔ٹھیک ہے اور یہ کلچ ،انہوں نے بتایا،اس پر اپنے پیر کا دباٶ برقرار رکھنا اور دھیرے دھیرے اس کو چھوڑنا۔ اب میں کار اسٹارٹ کرونگا اور تم بغیر گاڑی آف کیے گاڑی نکالنا۔
"پھر تو آپ کو ہی سکھانا پڑے گا۔آپ رہینگے تو تھوڑی ہمت رہے گی۔"
"ہمت؟ٹکر مارنے کے لیے،"
"ن ن نہیں کار سیکھنے کے لیے۔آپ صرف ساتھ رہیں اور بس۔"
بس پھر کیا تھا۔چھٹی کا دن مقرر ہوا، اور ہم نے آغاز کیا ۔ ،میاں جی نے سب سے پہلے بریک اور کلچ کا بتایا،دیکھو یہ بریک اور کلچ کو اچھی طرح سمجھ لو،اور جب میں بریک لگانے کے لیے کہوں ،” روکو“تو گاڑی روک دینا ۔ٹھیک ہے اور یہ کلچ ،انہوں نے بتایا،اس پر اپنے پیر کا دباٶ برقرار رکھنا اور دھیرے دھیرے اس کو چھوڑنا۔ اب میں کار اسٹارٹ کرونگا اور تم بغیر گاڑی آف کیے گاڑی نکالنا۔
ہم نے تائيد میں سر ہلایا اور کلچ دھیرے دھیرے چھوڑنے لگے۔اور کار نکال لی ۔واہ، کیا کنٹرول ہے انجن پر"،بیٹے نے تالی بجاٸ۔
ا"ارے بچوکنٹرول کرنا تو بیویوں ہی کو آتا پے۔چاہے وہ انجن ہو کہ شوہر"۔ہمارے میاں جی نے ٹھنڈی سانس بھری۔
ہم کار چلانے میں چونکہ مگن تھے اس لیۓ انکی بات پر دھیان نا دیا۔یوں ایک ہفتہ گذرا۔دوسرے ہفتہ میں ہم کچھ زیادہ سیکھ نا پاۓ۔کیونکہ کلچ نے ہماری ناک میں دم کر دیا تھا۔بار بار پکڑنا ،چھوڑنا،ہم جھلا کر رہ گۓ۔
یہ کیا کلچ ستارہا ہے ۔اس سے تو اچھا ہے بندہ پوریاں بیل لے۔"
"تو ساری دنیا کے مرد حضرات یہی تو کہتے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھ کر پوریاں بیلنی چاہۓ۔"انہوں نے جل کر کہا۔
(یہ تو چاہتے ہی نہیں کہ ہم کار چلانا سیکھیں۔خود مختار جو ہو جاٸینگے۔شاپنگ سے لیکر امی کے گھر تک جانے کے لیۓاسی لیے ایسے جل جل کر کہہ رہے ہیں ہونہہ )
ہم نے انہیں ایسے دیکھا جیسے دشمن کو دیکھتے ہیں۔
آ"پ کار سکھائیں گے کہ نہیں۔"
"سکھا تو رہا ہوں،اپنی جان کو رسک میں ڈالکر،"انکے بھی صبر کا پیمانہ مانو ٹوٹ گیا ہو۔
(اپنی جان رسک میں ڈالنے کا تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے انہیں موت کے کنویں میں کار چلانے کا کہہ دیاہو۔ہونہہ)
ا"اب ذرا گیر وغیرہ کو سمجھ لو ۔اب تک تم فرسٹ گیر میں ہی چلا رہی تھیں۔لیکن سکنڈ ،تھرڈ،اور فورتھ گیر بھی ہوتا ہے۔"انہوں نے تحمل سے کہا ۔
"جب فرسٹ گیر میں کار چل رہی ہے تو سکنڈ تھرڈ گیر کیوں ڈالنا۔"ہم نے منہ بنا کر اپنی منطق جھاڑی۔
جب صابن سے بال دھو سکتی ہو تو دنیا بھر کے شمپوز کیوں لگاتی ہو"۔انہوں نے جیسے ہماری منطق کی دھجیاں بکھیر دیں۔
ا"وہ وہ تو بال نرم ملائم اور چمکیلے کرنے کے لیے،جبکہ صابن سے بال رف سے ہو جاتے ہیں۔"
"بس اسی طرح فرسٹ گیر میں انجن پر زیادہ دباٶ پڑ جاتا ہے اس لیۓ سکنڈ تھرڈ گیر میں گاڑی چلاٸ جاتی ہے۔"
ا"اچھا"،ہم نے سر ہلایا۔
"اچھا،ایک بات تو بتاٶ"،انہوں نے کار نیو ٹرل میں رکھی۔
"جب سے کونسے گیر میں گاڑی چل رہی تھی۔"
ہم نے کچھ دیر سوچا۔پھر گیرز کو دیکھااور بنا سوچے سمجھے کہا ”نیوٹرل “ میں۔
"اوے شاباشے۔"انہوں نے ہنس کر کار کی سیٹ کو ٹیک لگاٸ۔جیسے کہہ رہے ہوں اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔"کیوں کیا ہوا "۔ہم ہونق سے بن گۓ۔
"ممی،آپ بھول گٸں،نیوٹرل مطلب بلکل ساکت ،نیوٹرل گیر میں ڈالنے سے بھی گاڑی رکی رہتی ہے"
ا"ارے بچوکنٹرول کرنا تو بیویوں ہی کو آتا پے۔چاہے وہ انجن ہو کہ شوہر"۔ہمارے میاں جی نے ٹھنڈی سانس بھری۔
ہم کار چلانے میں چونکہ مگن تھے اس لیۓ انکی بات پر دھیان نا دیا۔یوں ایک ہفتہ گذرا۔دوسرے ہفتہ میں ہم کچھ زیادہ سیکھ نا پاۓ۔کیونکہ کلچ نے ہماری ناک میں دم کر دیا تھا۔بار بار پکڑنا ،چھوڑنا،ہم جھلا کر رہ گۓ۔
یہ کیا کلچ ستارہا ہے ۔اس سے تو اچھا ہے بندہ پوریاں بیل لے۔"
"تو ساری دنیا کے مرد حضرات یہی تو کہتے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھ کر پوریاں بیلنی چاہۓ۔"انہوں نے جل کر کہا۔
(یہ تو چاہتے ہی نہیں کہ ہم کار چلانا سیکھیں۔خود مختار جو ہو جاٸینگے۔شاپنگ سے لیکر امی کے گھر تک جانے کے لیۓاسی لیے ایسے جل جل کر کہہ رہے ہیں ہونہہ )
ہم نے انہیں ایسے دیکھا جیسے دشمن کو دیکھتے ہیں۔
آ"پ کار سکھائیں گے کہ نہیں۔"
"سکھا تو رہا ہوں،اپنی جان کو رسک میں ڈالکر،"انکے بھی صبر کا پیمانہ مانو ٹوٹ گیا ہو۔
(اپنی جان رسک میں ڈالنے کا تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے انہیں موت کے کنویں میں کار چلانے کا کہہ دیاہو۔ہونہہ)
ا"اب ذرا گیر وغیرہ کو سمجھ لو ۔اب تک تم فرسٹ گیر میں ہی چلا رہی تھیں۔لیکن سکنڈ ،تھرڈ،اور فورتھ گیر بھی ہوتا ہے۔"انہوں نے تحمل سے کہا ۔
"جب فرسٹ گیر میں کار چل رہی ہے تو سکنڈ تھرڈ گیر کیوں ڈالنا۔"ہم نے منہ بنا کر اپنی منطق جھاڑی۔
جب صابن سے بال دھو سکتی ہو تو دنیا بھر کے شمپوز کیوں لگاتی ہو"۔انہوں نے جیسے ہماری منطق کی دھجیاں بکھیر دیں۔
ا"وہ وہ تو بال نرم ملائم اور چمکیلے کرنے کے لیے،جبکہ صابن سے بال رف سے ہو جاتے ہیں۔"
"بس اسی طرح فرسٹ گیر میں انجن پر زیادہ دباٶ پڑ جاتا ہے اس لیۓ سکنڈ تھرڈ گیر میں گاڑی چلاٸ جاتی ہے۔"
ا"اچھا"،ہم نے سر ہلایا۔
"اچھا،ایک بات تو بتاٶ"،انہوں نے کار نیو ٹرل میں رکھی۔
"جب سے کونسے گیر میں گاڑی چل رہی تھی۔"
ہم نے کچھ دیر سوچا۔پھر گیرز کو دیکھااور بنا سوچے سمجھے کہا ”نیوٹرل “ میں۔
"اوے شاباشے۔"انہوں نے ہنس کر کار کی سیٹ کو ٹیک لگاٸ۔جیسے کہہ رہے ہوں اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔"کیوں کیا ہوا "۔ہم ہونق سے بن گۓ۔
"ممی،آپ بھول گٸں،نیوٹرل مطلب بلکل ساکت ،نیوٹرل گیر میں ڈالنے سے بھی گاڑی رکی رہتی ہے"
۔"لو ،تب سے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ گاڑی نیوٹرل میں چل رہی ہے۔"ہم نے ماتھا پیٹ لیا۔
اب تیسرا ہفتہ شروع ہوا،ہم صبح صبح فجر کے ساتھ ہی نکلتے تھے۔کلچ اور گیر کی تھوڑی بہت سمجھ آگٸ تھی۔لیکن اسٹیرنگ وھیل ہمیں چکرارہا تھا۔ہم اسے صحیح ہینڈل نا کر پارہے تھے۔جسکی وجہ سے ہماری گاڑی کبھی لفٹ اور کبھی رائٹ ہوتی رہتی۔ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ہم نے میاں جی سے پوچھا،"صحیح چل رہی ہے ناں۔"
"بلکل ،بلکل،جی چاہ رہا ہے کہ ناگن ڈانس کروں"۔انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی سے لگاتے ہوۓکہا۔
"ہایٸں وہ کیوں ۔"
ا"فف ممی،آپ کی کارسڑک پر بلکل سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔کبھی اس جانب تو کبھی اس جانب"۔بچے بھی جیسے تنگ آگۓتھے۔
"اوہ ،اب کوشش کرونگی کہ ایسا نا ہو۔"ہم نے اسٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
"کیا کوشش کرو گی۔اسٹیرینگ کو ایسے پکڑتی ہو جیسے کہیں بھاگا جارہا ہو۔ارے بابا اس کو تھوڑا ہلکے سے پکڑوٗاور بہت ہلکے انداز میں اسکو گھماٶ۔ایسے گھماتی ہو جیسے کہ آخری بار گھما رہی ہو ۔
ا"اچھا اچھا "،ہم نے اسٹیرنگ پر گرفت تھوڑی ڈھیلی کی ۔
ا"اب سیدھی سڑک تھی ،اکا دکا لوگ بھی نہیں تھے۔ہم اچھا جارہے تھے کہ سامنے ایک گلی میں سے بھینسیں نکل آٸیں۔وہ اپنی مارننگ واک پر نکلی تھیں شاید۔ہمیں لگا ہم برے پھنسے۔ہماری کار کے بلکل قریب ایک بھینس آگٸ تھی۔ہم پریشانی میں ہارن پر ہارن دینے لگے۔
اب تیسرا ہفتہ شروع ہوا،ہم صبح صبح فجر کے ساتھ ہی نکلتے تھے۔کلچ اور گیر کی تھوڑی بہت سمجھ آگٸ تھی۔لیکن اسٹیرنگ وھیل ہمیں چکرارہا تھا۔ہم اسے صحیح ہینڈل نا کر پارہے تھے۔جسکی وجہ سے ہماری گاڑی کبھی لفٹ اور کبھی رائٹ ہوتی رہتی۔ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ہم نے میاں جی سے پوچھا،"صحیح چل رہی ہے ناں۔"
"بلکل ،بلکل،جی چاہ رہا ہے کہ ناگن ڈانس کروں"۔انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی سے لگاتے ہوۓکہا۔
"ہایٸں وہ کیوں ۔"
ا"فف ممی،آپ کی کارسڑک پر بلکل سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔کبھی اس جانب تو کبھی اس جانب"۔بچے بھی جیسے تنگ آگۓتھے۔
"اوہ ،اب کوشش کرونگی کہ ایسا نا ہو۔"ہم نے اسٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
"کیا کوشش کرو گی۔اسٹیرینگ کو ایسے پکڑتی ہو جیسے کہیں بھاگا جارہا ہو۔ارے بابا اس کو تھوڑا ہلکے سے پکڑوٗاور بہت ہلکے انداز میں اسکو گھماٶ۔ایسے گھماتی ہو جیسے کہ آخری بار گھما رہی ہو ۔
ا"اچھا اچھا "،ہم نے اسٹیرنگ پر گرفت تھوڑی ڈھیلی کی ۔
ا"اب سیدھی سڑک تھی ،اکا دکا لوگ بھی نہیں تھے۔ہم اچھا جارہے تھے کہ سامنے ایک گلی میں سے بھینسیں نکل آٸیں۔وہ اپنی مارننگ واک پر نکلی تھیں شاید۔ہمیں لگا ہم برے پھنسے۔ہماری کار کے بلکل قریب ایک بھینس آگٸ تھی۔ہم پریشانی میں ہارن پر ہارن دینے لگے۔
۔"اب یہ بھینس کے آگے بین کیوں بجارہی ہو۔اف، میرا مطلب ہےہارن کیوں دے رہی ہو۔"انہوں نے ہمیں چڑ کر دیکھا۔
ا"اس بھینس کو بھگانے کے لیے"،ہم نے بےچارگی سے کہا ۔
ا"اس کو چھیڑو مت،تم سائیڈ سے گاڑی نکال لو،وہ اپنے راستے جارہی ہے۔"
"مرتے کیا نا کرتے،ہم نے بڑی مشکل سے کار اس کو بنا دھکا ديۓنکالی.
ا"اس بھینس کو بھگانے کے لیے"،ہم نے بےچارگی سے کہا ۔
ا"اس کو چھیڑو مت،تم سائیڈ سے گاڑی نکال لو،وہ اپنے راستے جارہی ہے۔"
"مرتے کیا نا کرتے،ہم نے بڑی مشکل سے کار اس کو بنا دھکا ديۓنکالی.
۔"ویری گڈ،"ان دونوں نے تالیاں بجایٸں۔ہم نے پہلے شکر کا سانس لیا۔پھر اس بھینس کو پلٹ کر دیکھا،.
"صبح صبح نکلی ہے بھینس کہیں کی ،"لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے بھینس بھی کہہ رہی ہو۔
،"صبح صبح تو تم بھی نکلی ہو۔"
***********
آج صبح ہی میاں جی نے بتادیا تھا کہ آج کہیں دوسری سایٹ پر جاینگے۔انکے ایک دوست نے اس کالو نی کا پتا دیا تھا۔اور کہا تھا کہ کافی خوبصورت اور کھلی جگہ بھی ہے۔کیونکہ یہاں ابھی پلاٹنگ چل رہی تھی۔یہ سنکر ہم سب پر جوش تھے کہ دیکھیں یہ نٸ کالونی کیسی ہے۔
اب ڈرائیونگ سیٹ میاں جی نے سنبھالی تھی ،چونکہ مین روڈ پر وہی چلاتے تھےاور جب ذیلی سڑک شروع ہوتی جہاں گاڑیوں کا آنا جانا نا کہ برابر ہوتا تب وہ ہمیں چلانے کے لیے دے دیتے۔
"ایک بات تو ہے کار چلانا دماغ کی ساری چولیں ہلا دیتا ہے۔
دونوں پیر مسلسل حرکت میں،دونوں ہاتھ بھی ،اور نظروں کو بھی سامنے فوکس کرنا ہو تا ہے ۔کافی سے زیادہ مشکل کام لگ رہا ہے"۔کار میں بیٹھتے ہی ہم کہنے لگے۔
ہ"ہوں"۔وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولے۔
"دل ،دماغ بہت چوکس رکھنا پڑتا ہے۔اگر کہیں ذرا سی چوک ہوٸ تو کام تمام ہو جاۓ"۔ہم انہیں دیکھتے ہوۓکہنے لگے۔
”ہوں،“پھر وہی" ہوں ؟۔"
انکی صرف "ہوں ہوں" سے تنگ آکر ہم نے باہر دیکھنا شروع کیا۔اور باہر کے نظارے اتنے دلکش لگے کہ ہم کھو سے گۓ۔
"واہ إ کیا خوبصورت نظارے ہیں ۔اولین صبح،آسمان میں اڑتے پرندے اور جگہ جگہ سر سبز پیڑ ،سب سے بڑھکر صبح کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا جو مین سٹی میں ملنی تقریباً ناممکن ہے۔"
کچھ بھی ہو ،آپکے دوست نے یہ بڑی زبردست جگہ بتاٸ ہے۔"ہم نے سرشار ہو کر کہا۔
دونوں پیر مسلسل حرکت میں،دونوں ہاتھ بھی ،اور نظروں کو بھی سامنے فوکس کرنا ہو تا ہے ۔کافی سے زیادہ مشکل کام لگ رہا ہے"۔کار میں بیٹھتے ہی ہم کہنے لگے۔
ہ"ہوں"۔وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولے۔
"دل ،دماغ بہت چوکس رکھنا پڑتا ہے۔اگر کہیں ذرا سی چوک ہوٸ تو کام تمام ہو جاۓ"۔ہم انہیں دیکھتے ہوۓکہنے لگے۔
”ہوں،“پھر وہی" ہوں ؟۔"
انکی صرف "ہوں ہوں" سے تنگ آکر ہم نے باہر دیکھنا شروع کیا۔اور باہر کے نظارے اتنے دلکش لگے کہ ہم کھو سے گۓ۔
"واہ إ کیا خوبصورت نظارے ہیں ۔اولین صبح،آسمان میں اڑتے پرندے اور جگہ جگہ سر سبز پیڑ ،سب سے بڑھکر صبح کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا جو مین سٹی میں ملنی تقریباً ناممکن ہے۔"
کچھ بھی ہو ،آپکے دوست نے یہ بڑی زبردست جگہ بتاٸ ہے۔"ہم نے سرشار ہو کر کہا۔
"ہوں"۔پھر وہی ہوں ؟
ہم بد مزہ ہو کر خاموش ہو گۓ۔مین روڈ کے بعد اب چھوٹی سڑک شروع ہو گٸ تھی۔ اب ڈرائیونگ سیٹ پر ہم اور بازو والی سیٹ پر شوہر صاحب براجمان تھے۔
ہم نے پورا دھیان لگایا ہوا تھا۔لیکن میاں جی بیچ بیچ میں کچھ نہ کچھ کہتے جارہے تھے ۔
ہم بد مزہ ہو کر خاموش ہو گۓ۔مین روڈ کے بعد اب چھوٹی سڑک شروع ہو گٸ تھی۔ اب ڈرائیونگ سیٹ پر ہم اور بازو والی سیٹ پر شوہر صاحب براجمان تھے۔
ہم نے پورا دھیان لگایا ہوا تھا۔لیکن میاں جی بیچ بیچ میں کچھ نہ کچھ کہتے جارہے تھے ۔
"ناشتہ بنا کر رکھا ہے ناں،دودھ گرم کر دیا تھا،لاک تو صحیح کیا ناں گھر کو" وغیرہ وغیرہ۔
" یہ آپ نے کیا لگا رکھا ہے۔"ہم نے چڑ کر انہیں دیکھا۔"ہمیں کار چلانے پر فوکس کرنے دیں ناں ."
"بالکل با لکل یہی بات آپ عورتوں کے دماغ میں کیوں نہیں آتی جب ہم کار چلارہے ہوتے ہیں۔جب شوہر کار چلا رہا ہو تو ایسی شاعری سوجھتی ہے کہ خدا کی پناہ۔...
" یہ آپ نے کیا لگا رکھا ہے۔"ہم نے چڑ کر انہیں دیکھا۔"ہمیں کار چلانے پر فوکس کرنے دیں ناں ."
"بالکل با لکل یہی بات آپ عورتوں کے دماغ میں کیوں نہیں آتی جب ہم کار چلارہے ہوتے ہیں۔جب شوہر کار چلا رہا ہو تو ایسی شاعری سوجھتی ہے کہ خدا کی پناہ۔...
اللہ!وہ منظر تو دیکھیں،واہ کیا آسمان ہے اور ڈوبتا سورج ،چڑھتا سورج ،کیا پیارا لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ ،اللہ یہ اللہ وہ"۔وہ عورتوں والے انداز میں بولے تو ہم کھسیا گۓ۔ابھی کچھ دیر پہلے والی ہماری ”شاعری “کی طرف اشارہ جو تھا۔
"ہم پر بھی ذمہ داری رہتی ہے کہ صحیح سلامت منزل تک پہنچنے کی،اس لیۓجب بھی کوٸ ڈرائیو کر رہا ہو تو یوں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیۓ۔"آخر میں انکے ناصحانہ انداز پر ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب ایک نٸ ذیلی سڑک شروع ہوٸ تھی۔بچے بھی پرجوش انداز میں ہمیں سراہ رہے تھے۔بیٹے نے فون پکڑا تھا۔وہ ہماری ڈرائیونگ کی لائیو ویڈیو بنا رہا تھا۔بیٹی کمنٹری کرنے لگ پڑی تھی۔
"ہم پر بھی ذمہ داری رہتی ہے کہ صحیح سلامت منزل تک پہنچنے کی،اس لیۓجب بھی کوٸ ڈرائیو کر رہا ہو تو یوں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیۓ۔"آخر میں انکے ناصحانہ انداز پر ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب ایک نٸ ذیلی سڑک شروع ہوٸ تھی۔بچے بھی پرجوش انداز میں ہمیں سراہ رہے تھے۔بیٹے نے فون پکڑا تھا۔وہ ہماری ڈرائیونگ کی لائیو ویڈیو بنا رہا تھا۔بیٹی کمنٹری کرنے لگ پڑی تھی۔
ور اب ممی نے رائٹ ٹرن لیا نہیں لفٹ نہیں رائٹ لیا ۔اب وہ ہمیں کنفیوز کر رہی ہیں اررر ے یہ کیاکتے"۔وہ کہتے کہتے رک گٸ ۔اور کتوں کو دیکھ کر ہمارا چہرا ہی فق ہو گیا۔
ا"ان کتوں کو شاید کسی نے پالا ہوا تھا۔اچھے خاصے جرمن شیفرڈ جیسے لگ رہے تھے ۔موٹے تازے اور تقریباً آدمی کے قد کے برابر،اب ہمارے تو کاٹو تو بدن میں خون نہیں والا معاملہ تھا ، شوہر بھی گھبراگۓبد قسمتی سے ان کتوں کو ہم سب چور لگ رہے تھے۔اجنبی لوگوں کو وہ چور سمجھ کر بھونکنا شروع کر چکے تھے۔اور ساتھ ہی ہماری جانب بڑھنے لگے تھے
ا"ان کتوں کو شاید کسی نے پالا ہوا تھا۔اچھے خاصے جرمن شیفرڈ جیسے لگ رہے تھے ۔موٹے تازے اور تقریباً آدمی کے قد کے برابر،اب ہمارے تو کاٹو تو بدن میں خون نہیں والا معاملہ تھا ، شوہر بھی گھبراگۓبد قسمتی سے ان کتوں کو ہم سب چور لگ رہے تھے۔اجنبی لوگوں کو وہ چور سمجھ کر بھونکنا شروع کر چکے تھے۔اور ساتھ ہی ہماری جانب بڑھنے لگے تھے
۔"سب پہلے ونڈوز چڑھا لو"۔میاں جی بولے اور ساتھ ہی اپنی کھڑکی کا شیشہ چڑھانا شروع کیا۔ہمارا شیشہ چڑھا ہوا تھا اس لیۓ پریشانی نا ہو ٸ مگر ہماری سٹی گم ہو گٸ تھی۔چونکہ کتے ہمارے پیچھے بھونکتے ہوۓ آرہے تھے۔ہم نے کار کی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔
"تم چلاتی رہو ویسے بھی آگے رائٹ ٹرن لیں تو پھر سے وہی سڑک نکلے گی تم چلاتی رہو ان کتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔"
"لیں،ضرورت کیسے نہیں ہمارے پیچھے پڑے ہیں نامراد،ایسے جیسے ہم نے انکا کچھ خزانہ لیا ہو"۔ہم چڑ کر بولے
"تم چلاتی رہو ویسے بھی آگے رائٹ ٹرن لیں تو پھر سے وہی سڑک نکلے گی تم چلاتی رہو ان کتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔"
"لیں،ضرورت کیسے نہیں ہمارے پیچھے پڑے ہیں نامراد،ایسے جیسے ہم نے انکا کچھ خزانہ لیا ہو"۔ہم چڑ کر بولے
کتے ابھی بھی بدستور ہمارے پیچھے تھے۔میاں جی نے کہا" آگے رائٹ لو۔"
ا"چھا" کہتے ہم بدحواسی میں رائٹ ٹرن لینے لگے. لیکن شاید کچھ زیادہ ہی رائیٹ لے لیا ۔ جسکا نتیجہ کافی خوفناک نکلا۔ہماری گاڑی رائٹ ہوتے ہوتے بلکل کونے پر بنے گھر کی سیڑھیو ں پر چڑھ گٸ اور قریب کی دیوار سے جا ٹکراٸ۔
""روکو"،وہ چلاۓ۔
ا"چھا" کہتے ہم بدحواسی میں رائٹ ٹرن لینے لگے. لیکن شاید کچھ زیادہ ہی رائیٹ لے لیا ۔ جسکا نتیجہ کافی خوفناک نکلا۔ہماری گاڑی رائٹ ہوتے ہوتے بلکل کونے پر بنے گھر کی سیڑھیو ں پر چڑھ گٸ اور قریب کی دیوار سے جا ٹکراٸ۔
""روکو"،وہ چلاۓ۔
۔مگر ہم اپنے حواس کھو بیٹھے۔ہمارا پیر بریک کلچ دونوں سے ہٹ گیا اور ہاتھ اسٹیرنگ پر سے ،اور آنکھیں بند ۔
""ممی "دونوں بچے چلاۓ۔
""ممی "دونوں بچے چلاۓ۔
ممی جی کیا جواب دیتیں ان کی سٹی گم ہو چکی تھی ۔ ( خدا بھلا کرے مسز نفیس آپ کا ۔)
میاں جی نے پہلے بریک لگایا۔ویسے بھی گاڑی دیوار سے ٹکرا کر رک گٸ تھی۔اور اب ایسی حالت تھی کہ اسکے تین ٹائر سیڑھیوں پر اور چوتھا ٹائر ہوا میں لٹک رہا تھا۔اگر ہم تھوڑا بھی حرکت کرتے تو کار الٹی ہو جانی تھی۔ہمارا تو خون ہی خشک ہو چلا تھا۔لیکن بھلا ہو میاں جی کا،انہوں نے اپنے حواس کھوۓ نہیں تھے۔قریب بیٹھ کر ہی انہوں نے سب سے پہلے اسٹیرنگ کو تھوڑا لفٹ لیا اور کار کو پہلے زمین پر لے آۓ۔کار زمین پر کیا آٸ سب کی جان میں جان آئ۔
وہ پہلے خود اترے،بچےبھی اتر گۓٗ اور کار کو دیکھنے لگے۔
۔"آپ نیچے اترنے کی زحمت کرینگی"۔یہ ہمارے شوہر تھے۔
ہم ہمت جٹاتے اتر گۓ اور وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھ گۓ۔ہم نے کار کو دیکھا ،اچھا خاصا ڈنٹ پڑ گیا تھا۔ہم ٹھنڈی سانس بھرتے رہ گۓ۔
کتوں نے ہمارا پیچھا کرنا چھوڑ دیا تھا۔بچوں نے وڈیو بند کر دی تھی ۔سب سہم سے گۓ تھے۔
"ابھی کار چلانا سیکھنا ہے یا
ابھی دیواروں کو ،گھروں کو ٹکریں مارنی ہے"۔جب سب کے ہوش و حواس ٹھکانے آۓ تو ہمارے شوہر کی حس مزاح پھڑکی۔
"توبہ کریں اب جو نام لوں تو "۔ہم نے توبہ کی۔
ہم ہمت جٹاتے اتر گۓ اور وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھ گۓ۔ہم نے کار کو دیکھا ،اچھا خاصا ڈنٹ پڑ گیا تھا۔ہم ٹھنڈی سانس بھرتے رہ گۓ۔
کتوں نے ہمارا پیچھا کرنا چھوڑ دیا تھا۔بچوں نے وڈیو بند کر دی تھی ۔سب سہم سے گۓ تھے۔
"ابھی کار چلانا سیکھنا ہے یا
ابھی دیواروں کو ،گھروں کو ٹکریں مارنی ہے"۔جب سب کے ہوش و حواس ٹھکانے آۓ تو ہمارے شوہر کی حس مزاح پھڑکی۔
"توبہ کریں اب جو نام لوں تو "۔ہم نے توبہ کی۔
۔وہ سب ہنسنے لگے۔
"ویسے چلا اچھا ہی رہی تھیں بس کتے آگۓ۔
چلاتے چلاتے سیکھ ہی جاتی تم بس میری گاڑی پر ڈنٹ بے شمار پڑتے ۔اس لیۓ میرے خیال میں تو تمہارے لیے اتنا کافی ہو گا کہ کار تو بہرحال چلا ہی لی۔یہ اور بات کہ پر فیکٹ ڈرائیور نا بن سکیں"
"ویسے چلا اچھا ہی رہی تھیں بس کتے آگۓ۔
چلاتے چلاتے سیکھ ہی جاتی تم بس میری گاڑی پر ڈنٹ بے شمار پڑتے ۔اس لیۓ میرے خیال میں تو تمہارے لیے اتنا کافی ہو گا کہ کار تو بہرحال چلا ہی لی۔یہ اور بات کہ پر فیکٹ ڈرائیور نا بن سکیں"
"۔جی ، مگر ہمارے لیے تو پھر بھی دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے والا معاملہ ہے" ۔ہم نے خوشدلی سے کہا .اور غائبانہ طور پر مسز نفیس سے معذرت بھی کر لی .
**********
ا" آج مسز نفیس ابھی نہیں آئیں ۔چار ہی بج چکے ہیں ۔" سمیہ نے۔ گھڑی دیکھی تھی اور باہر کی جانب ایک نگاہ کی تھی ۔ باہر سہ پہر کی دھوپ چمک رہی تھی ۔ ہلکی ہلکی دھوپ جو دیکھنے میں بھلی لگ رہی تھی ۔
" ہو سکتا ہے ان کا ڈرائیور نا آیا ہو ۔ " ہم نے قیاس کیا ۔
" وہ خود ڈرائیو کرتی ہیں ۔ " سمیہ نے ہمیں یاد دلایا ۔ اور ہمیں یاد آگیا کہ ایسی خاتون جو دوسروں کو ترغیب دیتی تھیں کہ خود مکتفی ہو نا چاہیے ہر معاملہ میں ۔ وہ بھلا خود کیوں دوسروں پر انحصار کریں گی ۔ یہ سوچ کر ہم ان کے آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ۔
اس انتظار میں ایک اور دلچسپی یوں بھی تھی کہ ہم خود کار ڈرائیونگ کی نا کام مثال بنے بیٹھے تھے ۔ اور دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیسی کار ڈرائیور ہیں ۔
" وہ یقینا بہت مشاق کار ڈرائیور ہوں گی " ہم نے دل میں سوچا اور اس سے قبل کہ اپنے دل کے خیالات سمیہ اور اطراف و اکناف کی خواتین کے کانوں میں ڈالتے تبھی ایک زور کی آواز آئ تھی اور ایک نسوانی چیخ کے ساتھ زبردست دھماکہ ہوا تھا ۔
ہم تو ڈر کر اچھلے ہی سمیہ اور ایک دو خواتین بھی ڈر کر باہر کی جانب بھاگیں ۔
" اوہ ۔ نو مسز نفیس ۔۔" سمیہ چلائ تھی اور ہم تیزی سے باہر بھاگے تو وہاں دیکھا ایک مشاق اور خود مکتفی اور خود اعتماد عورت اپنی کار درخت سے ٹکرا چکی تھی ۔کار تو رک گئ تھی لیکن وہ خود کار کے دروازہ سے لٹک رہی تھیں اور یہ منظر بڑا بھیانک تھا ۔
" مسز نفیس ۔ آپ ٹھیک ہیں ۔ " ہم نے بے تکا سوال کر ڈالا ۔
سمیہ نے ہمیں گھورا ۔
"حمنہ ۔ ان کا ایک ہاتھ دروازہ سے لٹک رہا ہے ۔ اور تم پو چھ رہی ہو کہ آپ ٹھیک ہیں ۔ "
" اگر آپ دو نوں کی بحث ختم ہو گئ ہو تو مجھے اس کار سے نکال دیں ۔ بڑی مہربانی ہو گی ۔ " مسز نفیس ہم دونوں پر خونخوار نظریں ڈالتی چیخی تھیں ۔
ہم ان کی چیخ پر بھاگے اور جلدی سے انہیں کار سے نکالا ۔ان کے سر کا جوڑا گرگیا تھا اور چند بالوں کی چوٹی ان کے بڑے چوڑے چہرے پر مسکین سی چوہیا کی طرح لگ رہی تھی ۔
ہم نے اس مسکین چوٹی کو ترحم سے دیکھا ۔اف بیچاری ۔
سمیہ انہیںا ٹھا کر اندر لے آئ ۔اور پانی پلایا ۔
وہ چپ چاپ پانی پی گئیں تھیں ۔
"مسز نفیس آپ تو کار اچھی طرح چلا لیتی ہیں پھر آج کیا ہوا ۔"۔ سمیہ کے ذہن میں بڑی دیر سے یہی سوال مچل رہا تھا ۔بالآخر باہر آگیا تھا ۔
" کار چلاتے چلاتے کب کار پر سے ذہن ہٹ گیا پتا ہی نہیں چلا ۔ میں آج عورت اور اکیسویں صدی کے مو ضوع پر تقریر کا سوچ رہی تھی ۔ اور ۔۔۔۔ آہ۔ ۔اوف ۔۔۔" انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پیر دباۓ ۔
"'تو آپ کو کیا لگا ۔ عورت اکیسویں صدی میں کیا انقلاب لا سکتی ہے ۔ " ہم نے ان پر ایک ترحم بھری نظر ڈالی ۔
ہاں ۔ بہت انقلاب لا سکتی ہے ۔ بڑے بڑے پہاڑ سر کر سکتی ہے لیکن کار ڈرائیونگ میں اسے ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ شاید اگلی صدی اس کی ہو۔ " ان کے بیچارگی سے کہنے پر ہمیں اپنی درگت یاد آئ ۔کہ کس طرح کار ڈرائیو کرنے کے شوق میں ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچے تھے ۔اور اگر اس وقت شوہر صاحب نا ہو تے تو ۔۔۔۔
سچ بات تو یہ ہے کہ بہرحال اپنے شوہر کے شکر گزار ہیں کہ نا صرف ہمارے لیے اپنی چھٹیاں برباد کیں ،بلکہ پٹرول کے اضافی خرچ کو برداشت بھی کیااور کار کو ڈنٹ پڑنے کا نقصان بھی برداشت کیا،جان جوکھم میں ڈالی وہ الگ،اسکے لیۓ ہم انکے شکر گذار ہیں اور اب سوچ رہے ہیں کہ لوگ عورتوں کی ڈرائیونگ کو لیکر جو کہتے ہیں وہ شاید سچ ہی کہتے ہیں ۔اور ہمارے اس خیال کی تائید تو اب مسز نفیس بھی کرتی ہیں ۔ اس واقعہ کے بعد نا وہ خود کار ڈرائیو کرتی نظر آئیں نا انہوں نے ہمیں کار ڈرائیو کرنے کا کہا ۔ شاید انہیں بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں