گڈ باۓ ۔۔گڈ باۓ ٹو پھاپھا کٹنی

کرایہ دار اور مکان دار کے بیچ  جنم لی ہوئ ایک کھٹی میٹھی کہانی 



رشتے میں تو وہ ہماری کچھ نہیں لگتی تھیں،نام تھا زبیدہ ، لیکن یہ زبیدہ وہ مامون رشید والی زبیدہ جیسی بلکل نہیں تھی ۔کہاں وہ سڑکیں تعمیر کرنے والی،اور کہاں یہ سڑکوں پر کوڑا ڈالنے والی،وہ سہولتیں دینے والی اور ہماری زبیدہ ہمارے ہر کام میں روڑے اٹکانے والی،نہ شکل وصورت نہ حسن اخلاق،اڑتے اڑتے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انکی حسن صورت کی تاب نا لاکر شوہر بیچارا انہیں چھوڑ کر چلا گیاتھا لیکن ہمارے خیال میں عزت والا تھا چھوڑ کر چلا گیا،ورنہ انہیں کہاں کہاں تک بھگتا بےچارہ۔ہمارا ان کا سامنا گھر کرایہ پر لینے کے لیے ہوا۔ورنہ ان جیسوں کی ہم شکل تک نہ دیکھتے۔
ہم گھر کرایہ پر لینے کے لیے گۓاب وہ ہمیں دیکھ رہی ہیں اور ہم انہیں،ہمیں لگ رہا تھا اتنے معقول گھر کی ایک ایسی نامعقول مکان مالکن،وہ ہمیں کیوں گھور رہی تھی ،ہمیں نہیں پتا،آپ خود پوچھ لیجےگا۔
ہم نے مکان کے تعلق سے ساری  بات چیت کی  ۔ایڈوانس پچاس ہزار طۓ پایا اور کرایہ دس ہزار،وہ بے اولاد تھی،لیکن پیسہ کو ہی  شاید اپنی سگی اولاد سمجھتی تھیں ،جونہی ہم نے پیسے ادا کۓ انہوں  نے اپنی گود اپنی اولاد سے بھر لی ہمارا مطلب ہے پیسوں سے۔
اب یہاں سے ہمارا آزمایشی دور شروع ہو گیا۔اتوار کا دن تھا،چھٹی تھی،گھر میں سبھی موجود تھے۔ہم ‌نے بھی اتوار کے دن والے پروگرام کرنے تھے بھئ واشنگ مشین لگانا،مصالحہ جات پیسنا،وغیرہ لیکن لائٹ نے دھوکہ دے دیا،اب ہم گرمی سے پریشان ہو رہے ہیں پکانا بھی ہے اور گرمی سے بے حال بھی ہیں۔پسینہ میں شرابور ہم نے پکانے کا عظیم مرحلہ طۓ کیا،دھو بی گری کو مو قوف کردیا اور خود ہاتھ سے پنکھا جھلنے لگے۔شاید چار بجے تھے  ہمارے منہ پر بھی چار ہی بجے تھے۔میاں نے کہا" ٹیرس پر چلی جاؤشاید حبس دور ہو"
"،آنٹی زبیدہ  کا گھر اور حبس نہ ہو،یہ کیسے ممکن ہے ۔"ہم نے جل کر کہا ۔لیکن بات دل کو بھی لگی۔
"چلو اوپر تھوڑی ہوا تو ہوگی۔"ہم سوچتے اوپر چلے گۓ۔
"اوہ بٹیا ، ،کیسی ہو،شاید گرمی لگ رہی ہے اس لیے یہاں آئ ہو گی۔"وہ اچانک وارد ہوئ اور ہم بری طرح ڈر گۓ۔یہ تو شاید ڈرانے کے لیے ہی پیداہو ئ ہیں۔۔ہم نے گھورتے ہوۓ انہیں  سلام کیا۔
"جی آنٹی! لائٹ چلی گئ تو یہاں آۓ تھے"۔
"ہاں !بیٹے گرمی تو بہت ہے ،لیکن وہ لوگ بھی کیا کریں جب لوگ بے دھڑک لائٹس جلادیں اور بل دینے روئیں تو اس طرح تو ہو گا ناں ،ویسے اس مہینے کا بل آیا ہے۔ شاید تمہیں پتا نہیں کچھ زیادہ ہی آیا ہے ۔تھو ڑا تم بھی نا دیکھ سمجھ کر بجلی کا استعمال کیا کرو ،ورنہ کیا پتا لائٹ اس طرح روز ہی جایا کرے۔میں نے بھی واشنگ مشین کے بجائے ہاتھ سے کپڑے دھونے شروع کۓ ہیں تاکہ بجلی کی بچت ہو۔یہ دیکھو کپڑے سکھانے لائ تھی۔ ہاتھ میں ایک دو جوڑے کپڑوں کے وہ دکھا رہی  تھیں اور ہم سر ہلا کر رہ گۓ۔ 
ا"اچھا میں چلتی ہوں بیٹا ااااااااا"


وہ خود میں خود بڑ بڑ کر تی چلی بھی گئیں اور ہم نے سوچا تو  اس  لائٹ کے چلے جانے میں آپ کا ہاتھ تھا۔۔دراصل ہمارے مکان اور زبیدہ کے مکان کا بجلی کا میٹر ایک ہی تھا ۔ جس کا نا جائز فائدہ وہ اکثر یوں ہی اٹھاتی تھیں ۔ 

مہمانوں کا آنا انہیں یعنی  آنٹی زبیدہ کو سخت ناگوار گزرتا۔وہ ہمارے مہمانوں پر بھی دھونس جمانے لگی تھیں۔کبھی ہمارے مہمانوں کو کہتیں" ،ارے !آپ یونہی خالی ہاتھ چلے آۓ،کسی کے گھر مہمان جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے جانا چاہیۓ۔ہمارے مہمان انکی اس بات پر بے حد شرمندہ ہوتے ۔اور ان سے زیادہ ہم ،انکے رویہ کی بدولت لوگوں نے ہمارے ہاں آنا جانا چھوڑ دیا تھا،اگر کوئ مہمان آتے بھی تو آگے سے ہم آنٹی زبیدہ کے پاس مٹھائ وغیرہ بھیج دیتے ،وہ مٹھائ لیتیں اور کہتیں،"بیٹا! نمکین میں کچھ نہیں ہے کیا؟ہماری جان جل جل جاتی انکی اس بات پر،بادل۔نخواستہ نمکو بھی پلیٹ میں رکھ کر بھیج دیتے ۔
اب جو مہمانوں کے ساتھ ایسا کرتی تھیں تو وہ ہماری نندوں کا آنا کیسے برداشت کرتیں،ہماری نند ں کو دیکھ کر ہی ان کا منہ بن جاتا ،پہلے تو چھوٹتے ہی کہہ دیتیں،ابھی پرسوں ہی تو آئ تھی تم،اس طرح بار بار نہیں آنا چاہیۓ،عزت نہیں رہتی ۔انکی نصیحت پر ہماری نندوں کا منہ پھو ل جاتا۔ وہ ہمیں بھی مشکوک نظروں سے دیکھتیں جیسے کہ یہ ہم دونوں کی ملی بھگت ہو۔ہم شرمندہ شرمندہ سے رہتے۔
آنٹی زبیدہ نے ہماری نندوں کے آنے پر وہ وہ قصیدے پڑھے کہ بیچاریاں کانوں کو ہاتھ لگاۓ ہمارے ہاں آنے سے انکار کرنے لگیں۔بقول زبیدہ آنٹی کے،نند وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے گھر کم  میکہ میں زیادہ بستی ہے۔اور انکے آجانے سے ملک کا اور گھر کا دونوں کا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔ملکی وسائل جیسے پانی ،بجلی،اناج وغیرہ صرف اور صرف گھر کی بیٹی آنے پر ہی زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔اس لیے نند کو دور سے ہی سلام کرنا چاہیے وغیرہ ،چونکہ اس بات میں ہمارا فائدہ تھا ہم نے بھی انکی اس بات پر بڑے دل سے سر تسلیم خم کیا تھا۔
 پھا پھا کٹنی زبیدہ کی پھپھو گری ایسے ہی چل رہی تھی ۔وہ ہر روز ایک نیا تماشا کھڑا کرتی اور ہم ہر روز اس سے پیچھا چھڑانے کے سوسو طریقے سوچتے لیکن اصل مسئلہ تو گھر تھا جو ہمیں مناسب نا مناسب کرایہ پر بھی دستیاب نہیں تھا ۔اس لیۓ زبیدہ کے ناروا سلوک کو بھی برداشت کر رہے تھے ۔کبھی کبھی برداشت جواب دے دیتی تو دل چاہتا ان کا گلا دبا دیں لیکن کیا کریں گلا دبانے کے سارے حقوق ان کے پاس تھے ہمارے پاس نہیں ۔کیونکہ وہ مکان مالک اور ہم نرے  کرایہ دار ۔ سو غصے کے ،صبر کے ، سارے گھونٹ پینے پر مجبور تھے ۔
آمکان خالی کرنے کا الٹی میٹم انہوں نے بھی دے دیا تھا اور ہم نے بھی۔سو ہم بھی خاموش ہی تھے۔
 لیکن ایک رات عجیب وغریب آوازوں سے ہم ڈر کر اٹھ بیٹھے۔ہم نے میاں جی کو جگایا۔
"دیکھیے ،کیسی عجیب عجیب آوازیں آرہی ہیں۔"
"ٹھیک ہے میرے خراٹوں سے تمہیں چڑ ہے اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھے ہی جگاؤ عجیب آوازوں کا کہہ کر"،وہ نیند میں جھلا کر بولے۔
"ارے ،آپ کے خراٹوں کا نہیں کہہ رہی،اسکی تو مجھے عادت ہوگئ ہے۔یہ آنٹی کے گھر سے جو آوازیں آرہی ہیں اس کا کہہ رہی تھی"ہم نے وضاحت کی۔
اوہ،وہ آوازیں کوئ پریشانی کی بات نہیں ،وہ وظیفہ پڑھتی ہیں پڑوسی۔انکل نے کہا تھا مجھے۔"
"وظیفہ ؟ کاہے کا وظیفہ" ۔ہمیں حیرت ہو ئ۔
"کرایہ دار کے لۓ ۔وہ اپنا مکان خالی نہیں رکھنا چاہتی ،اب ہم خالی کر رہے ہیں ناں اس لیے وہ وظیفہ کریں گی تاکہ جلد سے جلد انکو نیا کرایہ دار ملے۔
"ہائیں "وجہ سن کر تو ہماری حیرت کی انتہا نا رہی۔
"لو ،اتنے وظائف کرنے کی ضرورت ہی کیا .اگر وہ خود اچھی رہیں تو کوئ بھی کرایہ دار انکا مکان خالی ہی کیوں کرے ۔ہم نے کہا ۔مگر جواب میں ہمیں خراٹے سننے کوملے۔
"آہ "،ہم نے ٹھنڈی سانس بھری.


"،کاش! ان خراٹوں سے بچنے کا بھی کوئ وظیفہ ہوتا۔ہم منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے رہ گۓ۔
۔ہم نۓ گھر جانے کے لیے بے حد پر جوش تھے۔اس لیے ہم اپنا ایڈوانس پچاس ہزار لینے آنٹی زبیدہ کے پاس جا پہنچے۔لیکن جواب میں انہوں نے ہمیں دن میں تارے دکھادیۓ یہ کہہ کر کہ ہما را ایڈوانس وہ نہیں دے سکتیں کیونکہ ہم نے انکی پراپرٹی کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ہم ہکا بکا انہیں دیکھنے لگے۔"لیکن ہم نے کیا نقصان پہنچایاآپکی پراپرٹی کو."
اس کے بدلے میں انہوں نے ایک فرضی لمبی لسٹ بتادی مثلأ ٹونٹی خراب ہوئیں،دیواروں کا پلستر اکھاڑا گیا،دروازے توڑ دیے گۓ اسطرح کے کئ بے بنیاد باتیں بتانے لگیں۔
"ہمارے بچے ہی نہیں جو دیواروں کے پلستر اکھیڑیں،اور نہ ہم میاں بیوی ایسے لڑاکو ہیں کہ دروازے توڑ دیں۔آپ بے بنیاد ہی الزام لگا رہی ہیں۔"ہم کھول کررہ گۓ تھے۔ہماری بات کو انہوں نے نظرانداز ہی کردیا ۔
"دیکھو بیٹا!اب جو بھی سمجھو،ایڈوانس تو سمجھو برابر ہی ہو گیا۔انکے چہرے پر کمینی مسکراہٹ تھی،جیسے وہ کہہ رہی ہوں،سارے بدلے اب نکالوں گی۔
 ان کے مکروہ چہرہ کو دیکھکر ہم نروس سے ہو گۓ۔
شکر ہوا کہ ہم نے اپنے ساتھ فون رکھا تھا۔ٹنشن میں ہمارا دماغ زیادہ اچھا چلتاہے۔ہم نے فون لیا اور آنٹی کو دیکھا۔
"ٹھیک ہے آنٹی،آپ اپنی کیجیۓ ،ہم اپنی کریں گے ۔کنزیومر کورٹ میں ہماری ایک فرینڈ ہے ہم اس سے بات کریں  گے،کرایہ نامہ تو ہمارے پاس ہے۔وہ یہ کیس بہت اچھے طریقے  سے  ہینڈل کر لےگی۔"ہمارا دھمکی آمیز لہجہ کام کر گیا۔ہم جو نمبر پش کر رہے تھے،وہ ہماری کام والی ماسی کا تھا۔جسے ہم آنٹی زبیدہ کو  کنزیومر کورٹ کی ممبر کا بتا رہے تھے۔مقصد آنٹی زبیدہ کو دھمکانا تھا ۔ہم نے انہیں کورٹ میں لیجانے کی بات کی تھی تو وہ لازماً ڈر گئیں ۔اور  پل میں ببر شیر سے میاوں میاوں بلی بن گئیں۔
 "اوہ اچھا،اچھا،ٹھیک ہےمیں سمجھ گئ  تمہارا حساب کلیر ہے میں ابھی  تمہارا ایڈوانس لاتی ہوں ا"،وہ اٹھ کر سیدھا کچن میں چلی گئیں۔

۔ہم تھوڑے حیران ہو گۓ  کہ وہ کچن میں کیا لینے گئی ہیں۔کہیں بیلن،چمٹا لیکر ہماری خاطر تواضع نا کریں۔
وہ باہر آئیں تو نوٹوں کا بنڈل شاپر میں رکھا ہوا لےآئیں
۔"آپ اتنی بڑی رقم آٹے کے ڈبے میں رکھتی ہیں۔بلکہ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ آپ آٹے کے ڈبے میں روپیے رکھتی ہیں "۔ہم نے بڑے تعجب سے پوچھا۔
"وہ چوروں کی عادت کا تو تمہیں پتا ہے ناں ،سیدھے الماری ،تجوری ٹٹولتے ہیں اس لیے میں ہمیشہ کچن میں رکھتی ہوں ساری رقم"،وہ یوں شان سے بولیں جیسے انہیں ہم سے داد و تحسین کی توقع ہو،ہم انکی اس عجیب و غریب منطق پر عش عش کرنا چاہ رہے تھے پھر سوچا،"دفع کرو،رقم ہاتھ میں آگئی ہے یہ کافی ہے۔بس کھسک لو یہاں سے۔نجانے کب آنٹی کی نیت بدلے"۔ہم نے جلدی سے سلام کیا اور نکل لیے۔

شام میں میاں جی کو ساری رام کتھا سنائ تو وہ ہنس کر کہنے لگے۔
ا"اور اگر آنٹی نا مانتیں اور ماسی فون اٹھالیتی تو،"
"تو کیا،کہہ دیتی کہ آجاؤ آنٹی زبیدہ کے گھر میں اپنی ھاتھ کی صفائ دکھا جاؤ"۔ہم نے بھی ہنس کر کہا۔
"گریٹ،گریٹ،تم سے یہی امید تھی۔تم کچھ بھی کر سکتی ہو،کچھ بھی کہہ سکتی ہو،اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے"،انکے مزاحیہ انداز پر ہم نے انہیں چڑ کر دیکھا۔
"تعریف سمجھوں یا ۔۔۔۔۔"
"ارررے جلدی کرو ،سامان پیک کرو،گھر جو خالی کرنا ہے۔" وہ گڑبڑا کر کہنے لگے۔

"لیکن  آنٹی کو گڈ باے۶ تو بنتا ہے بیچاری کا گھر خالی جو ہو رہا ہے۔"
"ہاں اور ہماری بددعا ہے انکا گھر ہمیشہ خالی رہے۔"ہم نے جل کر کہا ۔ہماری بددعا پر انہوں نے قہقہہ لگا یا اور کہا،۔
آخر کار گڈ باۓ کہنے کا وقت آہی گیا۔"
"گڈ باۓ گڈ باۓ ٹو ہماری پھاپھا کٹنی۔"
ختم شد







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

آن لائن پیسے کمانا