بکرا اور میں میں ۔۔۔
بکرا اور میں
بقر عید کی چھٹی کا اعلان ہو تے ہی میں بھی اپنے دفتر سے سیدھا گھر کی جانب چلا ۔ اس بقر عید پر میرا بھی ارادہ قربانی دینے کا تھا۔گھر پہنچا اور بابا سے بات کی،بابا نے کہا "اچھا ،چلو ایسا کرتے ہیں ایک گاے۶ لےلیتے ہیں چونکہ ایک گاۓ میں سات حصے ہو تے ہیں تو تمام گھر والوں کو شامل کر لیں گے قربانی میں ۔لیکن میں نے بابا سے اختلاف کیا،میرا کہنا تھا کہ چونکہ عام دنوں میں ہم لوگ گاۓ کا گوشت نہیں کھاتے،اس لئے گاۓکے بجائے بکرے کی قربانی دینا چاہیۓ تاکہ ہمیں بکرے کا گوشت وافر مقدار میں مل سکے " ۔۔بابا نے مجھ سے زیادہ بحث نہیں کی اور اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
امی بھی ادھر آپہنچی۔اور جن جن رشتہ داروں کو حصہ دینا چاہیے اس پر بات کرنے لگیں۔انکا ماننا تھا چونکہ راشدہ پھپھو غریب ہیں اسلیے انہیں قربانی کا حصہ زیادہ دینا چاہیۓ اور افضل تایا جمیلہ مامی ،بڑے ماموں اور فلاں فلاں غریب ہیں اسلئے ان لوگوں کو حصہ ضرور دینا چاہیے۔لیکن میرے نزدیک یہ بے وقوفی تھی۔
میں نے کہا "امی ،آپ کو کیا پتا،یہ جو غریب غریب کہہ کر ہر چیز سمیٹ لیتے ہیں ناں وہی سب سے زیادہ فائدہ میں رہتے ہیں۔ان کے پاس اتنا گوشت آجاتا ہے کہ یہ کھا نہیں سکتے ۔بھلا ایسے لوگوں کو حصہ دینے کا کیا فائدہ ،یہ کھا نا سکے تو بڑی بےدردی سے کوڑے میں ڈالتے ہیں ۔اس لیۓ میں ان تمام لوگوں کو گوشت دینے کے حق میں نہیں ہوں۔"
امی چپ کرکے رہ گئیں۔
ابا نے کہا۔" چلو ٹھیک ہے تم جسے دینا چاہتے ہو دےدو"۔تب میں نے کہا "دیکھیۓحنا آپی ہیں افضل ماموں اکبر بھائ میرے دوست احباب فیروز ڈاکٹر وغیرہ جنہیں میں خود جا کر حصہ دوں گا ۔ " میں نے اپنی لسٹ گنوائ جو کہ تمام صاحب حیثیت لوگ تھے ۔
امی نے کہا" ارے یہ سب تو قربانی دیتے ہیں ان کو گوشت دینے کا کیا مطلب ؟"
"امی اگر ہم انہیں گوشت دیں گے تو وہ بھی تو ہمیں اپنا حصہ لا کر دیں گے ۔۔اس سے نقصان کا اندیشہ نہ ہوگا۔"میں نے اپنی منطق جھاڑی۔
ا"اچھا سری پاۓ میں اپنی رباب کو بھجوا دوں گی۔اس طرح بیٹی کا مان رہتا ہے۔"
ا"امی ،میرے خیال میں یہ سب فضول رسمیں ہیں میں ان سب کو نہیں مانتا۔"میں نے پھر اپنی ہانکی۔امی بھی اب خاموش ہو گئیں ۔
میں رات کا کھانا وغیرہ کھا کر اپنے کمرہ میں آیا۔ یہاں سے میں آنگن میں بندھے اپنے بکرے کی طرف آیا۔مجھے جانے کیوں لگا کہ بکرا مجھے خشمگیں نظروں سے دیکھ رہا ہے میں نے زرا آنکھیں پھاڑ کر بکرے کو دیکھا۔اب بکرا غصہ میں کچھ بڑبڑ اتا لگ رہا تھا۔میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی ۔
،"اب اتنا حیران بھی مت ہو،آخر قربانی کا جانور ہوں بات کرنے کی صلاحیت دی ہے اللہ نے اس میں اتنا تعجب کی کیا بات ہے"۔میں سچ مچ بوکھلا سا گیا۔
"تم تم ۔۔۔۔۔۔"
"ہاں ہاں مجھے اللہ تعالیٰ نے تم جیسے کم عقل مغرور لوگوں کی عقل ٹھکانے پر لانے کے لیے قوت گویائی عطا کی ہے۔،بکرے کی اس بات پر میں حواس باختہ اسے دیکھنے لگا "۔کم عقل ؟"
"ہاں اور نہیں تو کیا بھلا قربانی دی جارہی ہے اللہ کے نام پر ،اللہ کے لیے،اور اللہ ہی کی نافرمانی کی جارہی ہے اللہ کے حکم کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور قربانی ہو رہی ہے ۔،"
"لیکن میں نے کیا غلط کیا ۔قربانی کے لئے بہترین جانور لایا ہوں ،اول وقت قربانی دوں گا۔گوشت تقسیم کروں گا۔اس طرح قربانی کی رسم۔ادا ہو جائیگی۔"
"رسم .ہاں رسم ہی ادا ہوگی۔کاش تم اس قربانی کے مقصد کو سمجھتے۔اس کی روح تک پہنچتے۔قربانی کا مطلب کیا ہے جان جاتے"۔،بکرے کی آواز میں درد تھا۔
"مطلب؟"
"قربانی ہمارے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے کہ کس طرح اللہ نے ان کی محبوب چیز قربانی کے طور پر مانگی اور حضرت ابراہیم بلا کسی جھجھک کے اپنی محبوب اولاد کو اللہ کی خاطر قربان کرنے کے لیے چل پڑے۔قربان جائیں اس ادا پر اور قربان جائیں حضرت اسماعیل پر ،اتنی کم عمری میں اپنی معصوم جان کی پرواہ نہ کی اور قربان ہو نے کے لیے تیار ہوگۓ۔نہ کوئ سوال نہ کوئ شکوہ ۔اللہ کی رضا کی خاطر ایک والد اپنے فرزند کو قربان کرنے کے لیے چل پڑے اور کمال تو یہ کہ فرزند نے ایک لفظ نا کہا۔قربان جائیں اس آداب فرزندی پر۔کیا ویسی اطاعت فرمانبرداری تم میں ہے"۔بکرے نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔میں کچھ جواب نا دے سکا۔
قربانی کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات کا گلا گھونٹنا اس طرح کہ اللہ آپ سے راضی ہوجاۓ۔اپنے آپ کو مارنا "۔قربانی" ریا کاری کے لیے نہیں اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرنا چاہیے۔ اپنی دولت کی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے کرنا چاہیۓ۔والدین کو راضی کروگے تو اللہ راضی ہوگا۔والدین کو خوش رکھوگے تو اللہ خوش ہوگا۔والدین کی نافرمانی میں اللہ کی نافرمانی ہے یہ کب سمجھیں گے تم جیسے بے وقوف لوگ۔"بکرے کی آواز اونچی ہو گئ تھی۔میرا سر شرم سے جھک گیا تھا بکرا مجھے کیا سمجھا رہا تھا۔مجھے سمجھ آگئ تھی ۔میں خاموشی سے اپنے کمرہ کی طرف بڑھنے لگا۔پیچھے سے بکرے کی آواز آئ" اور ہاں.قربانی کرتے ہوئے اپنی انا کو بھی ذبح کر دینا،وہ بھی بات بات میں" میں میں "کرتی رہتی ہے ۔یہ بات سیدھا میرے دل کو جا لگی۔ میں نے پلٹ کر بکرے کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
فجر کی اذانیں شروع ہو چکی تھیں۔اور میں قربانی کو اس کے سچے اور خالص انداز میں کرنے کے لئے چل پڑا تھا۔
ختم شد
Naazneen firdose
H no 8-15-17/3/1
Mohammedia colony vattepally
Falaknuma
Hyderabad .Telangana
500053
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں