ڈائجسٹ ریڈر ۔۔قسط گیارہ

 آج وہ اور امی چھت پر تھیں ۔وہیں پڑوس والی آنٹی  بھی چھت پر ہی ٹہری تھیں اور اب   وہ دونوں  زور و شور سے گفتگو میں مصروف ہو گئیں تھیں ۔بات ہو رہی تھی ایک اور آنٹی کی جنہوں نے ان چھت والی آنٹی کے گھر کے سامنے کچرا ڈال دیا تھا اور اب چھت والی آنٹی پر غیض و غضب چھا یا ہوا تھا ۔اور بات بات پر" تم بتاؤ ۔ایسے کوئ کرتا ہے کیا "۔پر ان کی بات ختم ہو رہی تھی ۔انشا ان دونوں کی باتوں  سے بور ہو گئ تو کچھ دور ہٹ گئ تھی اور اب آسمان پر نگاہیں جماۓ ہوۓ تھی ۔‌

ہممم ۔آسمان پر کیا ڈھونڈا جا رہا ہے ۔ " وہ شہزاد تھے جو اوپر ہی آ گۓ تھے ۔

" اوہ ۔آپ ۔ " پہلے تو انہیں دیکھ کر وہ چونکی ۔

" دن کا وقت ہے ۔ چاند تارے تو ڈھونڈنے سے رہی ۔ بس دیکھ رہی ہوں  آسمان‌کو ۔ "

میں ابھی ابھی ایک ناول پڑھ کر آ رہا ہوں ۔ محبت کے موضوع پرتھا ۔" شہزاد چہکے ۔

ہر ناول محبت پر ہی ہوتا ہے ۔ویسے " انکی شاندار پرسنالٹی کے باوجود انکی اس بے تکی بات پر وہ بیزار ہوئ تھی ۔

"ہاں ۔محبت پر ہی ہوتا ہے تو آپ بتائے کس پر ہونا چاہیۓ ۔اگر محبت پر نا ہو تو ۔" 

ا"سارے رائٹرز کو صرف محبت ہی نظر آتی ہے ۔ بس ۔" "انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور محبت ہو گئ ۔"

یا 

"لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ پہلی نظر میں محبت ہو گئ" ۔

"اور بھی ایسے ہی کچھ ۔ میرے خیال میں ایسا تو ہوتا نہیں  حقیقی زندگی میں ۔کبھی کبھی بھکارن کو بھی لوگ غور سے دیکھتے ہیں تو کیا محبت ہو جاتی ہے ۔

اور اگر بھکارن خوبصورت ہو تو کیا اس سے بھی پہلی نظر میں پیار ہوتا ہے۔"

"ارے ارے آپ تو محبت  جیسے جذبہ کو رد  کر رہی ہیں ۔ محبت تو ہو تی ہے جو حقیقت میں ہوتا ہے وہی تو بتاتے ہیں یہ رائٹرز ۔ ۔جو بیتا  ہے وہی تو بیان کرتے ہیں ۔

"وہ سامنے ان  کبوتروں  کو دیکھیں کیا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سامنے والے کی چھت پر بیٹھے دو کبوتروں کی جانب اشارہ کیا ۔ انشا نے انکے ہاتھ کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا ۔

"ہاں دونوں لڑ رہے ہیں" ۔ اس نے جیسے ججمنٹ پاس کیا ۔

"کیا "۔ وہ چیخے تھے ۔

ا"انشا ۔وہ محبت کر رہے ہیں" ۔ انہوں نے بڑے تاسف سے اسے دیکھا تو وہ اطمینان سے بولی تھی ۔ 

"جس انداز سے وہ چونچیں لڑارہے ہیں اس سے تو یہی سمجھ آرہا ہے کہ  لڑ رہے ہیں ۔" 

"ویری فنی" ۔ انہوں نے اسے جل کر دیکھا تھا ۔

آ"آپ کو اندازہ بھی ہے محبت تو بس ایک منہ زور ندی کی طرح ہو تی ہے اس پر  بندھ باندھنا مشکل  ہوتا ہے ۔یہ ایسی آگ ہوتی ہے جو ہر دو کو بھسم کرتی ہے ۔ وہاں آسمان پر ان بادلوں کو دیکھیں کیسے آوارہ بنے جانے کس کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں ۔اور اس ابھرتے چاند کو دیکھیں یوں لگ رہا ہے وہ ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا ہے ۔ہے ناں ۔" وہ ایک دھیمے انداز میں پر سکون ندی کی طرح بہہ رہے تھے ۔اور انشا یکدم انکے ٹرانس میں آگئ تھی۔

"نہیں ۔ وہ چاند تو ہمیشہ ہی مجھے دیکھ کر ہنستا ہے ۔کبھی امی ڈانٹتی ہیں   تب یا پھر جب میں سیڑھیوں سے ا  دھپ دھپ گرتی ہوں تب ۔۔۔" اس نے انکے فسوں سے جیسے اپنے آپ کو نکالا تھا ۔

اسکی بات پر  شہزاد کے چہرے کے تاثرات ہی بدل گۓ۔

آ"آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے "۔ 

"جی ۔ امی بھی یہی کہتی ہیں" ۔یہ کہتے ہوۓ وہ امی کی جانب آ گئ تھی ۔اور اس نے اس شخص کو دیکھا جو محبت پر بول رہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کہیں جگنو چمکنے لگے ہوں ۔اور وہ کیا  کرتی کہ جگنو کی حقیقت جانتے ہوۓ بھی انہیں پکڑنے کو جی چاہتا ہے۔  جبکہ 

شہزاد اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں ۔" ایسے کوئ کرتا ہے کیا ۔۔۔" 


*********** 

آ"آنٹی  جی یہ لیں ۔آپ کے گھٹنوں کے درد کے لیۓ تیل ۔امی نے بھیجا ہے ۔کہہ رہی تھیں کہ صبح شام لگائیں گی تو کافی افاقہ ہوگا ۔۔ "  اس نے امی کو  ایک تیل کی شیشی تھما ئ تو امی بے ساختہ اسے دعا دینے لگیں ۔وہ کئ دن سے  اس گھٹنوں کے درد سے پریشان تھیں ۔ابو کو کہا تو انہوں نے اسے فون کر دیا تھا ۔


انشا ایک کتاب پکڑے اپنی سوچوں میں غرق تھی ۔اس نے اسکے آنے کا نوٹس بھی نہیں لیا تھا ۔

ا"انشا چاۓ تو بنا لاؤ ۔" امی نے اسکی محویت توڑی ۔

"ہاں ۔ ابھی لاتی ہوں" ۔ وہ اٹھنے لگی تو مقابل نے بیساختہ روک دیا ۔

"آنٹی ۔اب رہنے دیں ۔میں اب جاتا ہوں ۔ مجھے کچھ کام ہے ۔ " 

" اچھا ۔ٹھیک ہے ۔مگر تمہاری امی کو ایک کرتا دینا تھا میرا ۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس پر کڑھائ کریں گی ۔ لا کر دوں ۔ " امی نے اس سے پوچھا تو انشا اٹھی ۔

 میں لاتی ہوں ۔ وہ کتاب رکھ چکی تھی ۔۔

ا"الماری کی داہنی سائیڈ پر سب سے اوپر ہی رکھا ہے ۔ ہلکا کاسنی رنگ والا "۔ امی نے اسے دیکھ کر تفصیل سے بتا یا ۔

"اچھا لاتی ہوں" ۔ وہ گئ تو  تھی ۔ مگر اسے کہیں نہیں ملا تو اس نے امی ہی کو آواز دی تھی.

 "پتا تھا نہیں ملے گا اسے ۔ میں ہی جاتی تو اچھا تھا ۔اب تک تو اس نے سارے کپڑے اوپر نیچے کر دیۓ ہو نگے ۔ " امی اپنے سر پر ہاتھ مارتی اٹھیں ۔

وہ اندر آئ تو وہ اس کی کتاب پکڑے ہوۓ تھا ۔

یہ کیا ہے ۔ " انداز میں حد درجہ خفگی تھی ۔

کسی محترم نے محبت کے بارے میں بات کی تو میں دیکھ رہی تھی کہ کیا واقعی محبت منہ زور ندی کی طرح ہو تی ہے ۔ اور بھی ایسے ہی کچھ تو وہی جانچ رہی تھی ۔ اس نے لا پرواہی سے کہا تھا ۔

ہممم ۔اور کیا پایا آپ نے ۔ " اس نے اس کو گھورا ۔

 " شاید ٹھیک ہی ہے ۔ بھلا محبت پر کس کا زور ہوتا ہے ۔ واقعی یہ تو بہت ہی منہ زور جذبہ ہوتاہے ۔ اور ۔۔۔"

 "  منہ زور ندی پر باندھ نہیں باندھے جاتے ۔ ؟ 

گھوڑے کو لگام نہیں لکائ جاتی ۔

آگ پر پانی نہیں ڈالا جاتا ۔ 

ہر چیز کا توڑ ہوتا ہے ۔ یہ نہیں کہ آپ جذبات میں بہتے چلے جائیں ۔ کیوں "۔ وہ کرخت سے لہجہ میں بولا تو وہ یکدم ہی چونک گئ ۔

محبت ماں باپ کی ڈانٹ میں پنہان ۔

محبت بھائ کی عزت میں پنہان ۔

محبت ماں کی تربیت میں پنہاں 

محبت عورت کی عصمت میں پنہاں۔

اور جو محبت جذبات پر قابو نا رکھنے والی ہو وہ محبت نہیں بے حیائ ہوتی ہے ۔ 

محبت غرور ہو ۔شرمندگی نا ہو ۔

محبت سر اٹھا کر جینے والی ہو ۔ سر جھکانے والی نہیں ۔

محبت عزت ہو ذلت نہیں ۔

اور بس ۔۔۔ وہ یکدم چپ ہو گیا ۔

"تم میری بڑی بہن بننے کی کوشش کر رہے ہو ۔ ؟" ان تمام باتوں کا انشا کے پاس یہ جواب تھا ۔

بڑا بھائ کہتے ہیں ۔ " وہ جھلایا تھا ۔

"مجھے کوئ شوق نہیں تمہیں اپنا بڑا بھائ بنانے کا ۔ میرا بھائ بھی بہت اسمارٹ سا ہو گا ۔ چھ فٹ قد کا مالک" ۔ وہ اترا کر بولی تھی ۔

چلیں ۔اچھی بات ہے ۔ میں تو انکل کے خیال سے سمجھا رہا تھا ۔ وہ بہت اچھے ہیں اور میں  نہیں چاہتا کہ انکی فیملی کو کوئ نقصان پہنچے ۔ ویسے میری بچت ہو گئ ۔"  ایک مبہم مسکراہٹ اسکے لبوں پر سجی تھی ۔ 

"یہ لو ۔بیٹے مل گیا یہ کرتا ۔اس انشا نے تو پوری الماری الٹ پلٹ کر دی تھی "۔ تبھی امی وہاں آئیں تھیں ۔

ا"نشا ۔تم جب سے یہیں بیٹھی تھیں" ۔ امی نے ان دونوں کو تشویش سے دیکھا تو وہ بھی یکدم اٹھا تھا ۔

آنٹی میں بھی اب چلتا ہوں ۔" وہ پھر رکا بھی نہیں تھا ۔

ا"انشا ۔یہ کیا ہے ۔تم تب سے اس سے بات کر رہی تھیں ۔  یہ اچھی بات نہیں "۔ امی کی فکر حق بجانب  تھی ۔

"امی ۔ میں جا رہی تھی مگر اس کتاب پر بات نکلی تو مجھے رکنا پڑا‌ "۔ وہ بھی اب واپس جانے کے لیۓ قدم بڑھا رہی تھی ۔

ٹھیک ہے مگر آئندہ ۔ایسی کوتاہی مت کرنا ۔"" 

"جی امی "۔ 

**********


 جاری 

اپنی راۓ سے آگاہ کریں گے تو خوشی ہوگی ۔

واسلام 

نازنین فردوس


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ