ڈایجسٹ ریڈر ۔۔قسط 9
وہ جب واپس جا رہا تھا تو انشا اسے دیکھ کر اپنی ہنسی روکنے میں مصروف تھی ۔چاۓ پی کر اس کا چہرہ لال بھبھوکا سا ہوا تھا ۔اور آنکھیں سرخی مائل ہوگئ تھیں ۔یقینا اسے یہ چاۓ زندگی بھر نا بھولنے والی تھی ۔لیکن انشا زندگی بھر کے لیے کونسا سبق یاد رکھنے والی تھی یا وہ ۔۔۔۔۔کونسا سبق اسے پڑھاۓ گا وہ ابھی سمجھ نہیں سکتی تھی
وہ آج ابو کے ساتھ ہاسپٹل آئ تھی ۔ ابو کو ہر مہینہ آنکھوں کے چیک اپ کے لیےآنا ہوتا تھا اور وہ ہر بار ان کے ساتھ ہوتی تھی ۔
ہاسپٹل پہنچ کر ابو اندر نمبر لکھانے چلے گۓتھے چونکہ وہاں مریضوں کی لمبی قطاریں ہو تی تھیں اور نمبر کے لیۓ بھی کافی دقت ہو تی تھی ۔۔جبکہ وہ باہر بیٹھ گئ تھی ۔ اسکے قریب ایک آٹھ سال کا بچہ بیٹھا ہوا تھا ۔جو کافی شریر نظر آ رہا تھا ۔اسے کچھ دیر تک دیکھنے کے بعد وہ سوال پر سوال کرنے لگا ۔
"باجی ۔آپ یہاں کیوں آئ ہو ۔ "
" دواخانہ میں لوگ کیا کر نے آتے ہیں ۔ " اس نے الٹا اسی سے سوال کیا ۔
" ہممم " وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا ۔
" میں تو بس گھومنے کے لیۓ آیا ہوں ۔ کیونکہ یہ ہاسپٹل کافی بڑا ہے ۔ " اس کی بات پر اسے ہنسی آگئ تھی ۔
اچھا ۔ہاسپٹل بڑے ہوں تو گھوما بھی جا سکتا ہے ۔ ویسے
اپنے ابو کی آنکھو ں کے چیک اپ کے لیۓ آئ ہوں ۔ اور تم کس کے ساتھ آۓ ہو ۔
"باجی ۔میں تو اپنے دادا ابو کے ساتھ آیا ہوں میرے ایک بھیا کے ساتھ ۔بچہ چلبلا سا تھا ۔کبھی یہاں جھانکتااور کبھی وہاں جھانکتا ۔
ا"اے ۔خاموشی سے ادھر بیٹھو ۔کیوں اودھم مچا رہے ہو ۔" اسے غصہ آگیا تھا ۔
ا"ارے باجی آپ تو مجھے ڈرارہی ہیں" ۔ بچہ نے روتا منہ بنا یا ۔
"کچھ باجیاں کافی ڈراؤنی ہوتی ہیں "۔ ایک مانوس آواز پر اس کا جھکا سر اٹھا تھا ۔
"کیوں کیا رات میں چڑیل بن جاتی ہیں" ۔ وہ بچہ ہنسا ۔
ا"اب یہ تو چڑیل باجی سے پوچھ لو ۔" وہ اس بچے کے قریب رکھا بیگ لے کر اندر کیبن میں جا چکا تھا ۔
"یہ ۔یہاں ۔کیا ہاسپٹل میں بھی ۔"۔۔ابھی وہ کجھ سوچتی وہ بچہ اب بنچ پر یہاں وہاں الٹا لٹکنے لگا ۔اس نے کچھ دیر اسے گھورا پھر برداشت نا کرتے ہوے اس کے سر پر چپت لگائ
" باجی آپ تو سچ مچ کی چڑیل ۔۔۔"
ا"اے خبردار ۔ "اس نے انگلی سے تنبیہہ کرنی چاہی ۔
آ" نہیں نہیں ۔آپ تو بالکل باربی سی لگتی ہیں ۔گلابی گلابی سی ۔ بچہ نے اسکے گلابی کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ ڈر کر بات بدل دی تھی اور وہ بیساختہ مسکرا اٹھی ۔
" لڑکیاں کتنی آسانی سے بے وقوف بنتی ہیں ناں ۔ اور بھی آٹھ سال کے بچے سے "۔ وہ واپس آیا اور اب فائل اٹھا چکا تھا اور اسے کچھ بھی بولنے کا موقعہ دیۓ بغیر وہ پھر سے کیبن میں جا چکا تھا اور وہ لب بھینچ کر رہ گئ تھی ۔
" تم ان بھیا کے ساتھ آۓ ہو "۔اس نے بچے سے پوچھا تو اس بچہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔
"دراصل صبح صبح دادا کی طبعیت خراب ہوئ تو گھر میں کوئ بڑا نہیں تھا ۔ اس لیۓ امی نے بھیا کو بلایا تھا ۔
ابھیا اکثر ہمارےمحلے میں ہر کسی کی مدد کرتے رہتے ہیں ۔ کسی کے ساتھ ہاسپٹل جانا ہو یا کسی کے کچھ سرکاری کام ہوں ۔بھیا کرتے رہتے ہیں ۔
ہمم ۔خدمت خلق کے شوقین ۔۔وہ منہ بنا۔ کر اب سامنے دیکھنے لگی تو وہ ابو کا ہاتھ پکڑے ادھر ہی آ رہا تھا ۔
ابو ۔ وہ جب قریب آۓ تو اس نے شکوہ کے انداز میں کہا ۔
میں یہاں تھی ناں ۔آپ کے ساتھ جانے کے لیۓ۔
پھر آپ نے ان محترم کی ہیلپ کیوں لی "۔ اس کا منہ ہی پھول گیا تھا ۔
ارے میں نے تو بہت منع کیا تھا مگر اس نے تو آدھے گھنٹے میں سب کام ہی کر وادیۓ ابو اس کا ہاتھ تھامے کافی خوش لگ رہے تھے ۔
کیا سچ میں ۔آپ ڈاکٹر سے مل کر بھی آ گۓ۔ اس نے گھڑی دیکھی تو واقعی آدھ گھنٹہ اور کچھ منٹ ہوۓ تھے۔ ۔
ا"اب بس کچھ ڈراپس لانا ہیں میں وہ لاتا ہوں "۔اس نے ابو کو پہلے کرسی پر بٹھایا تھا ۔ اور پھر کہا تھا ۔
"انکل ۔آپ یہاں اطمینان سے بیٹھیں ۔میں ذرا ابرار چچا کو دیکھ آتا ہوں ۔"
ا"برار صاحب کو کیا ہوا تھا ۔"ابو:نے پوچھا ۔
اوہ دراصل ہارٹ پیشنٹ ہیں ۔صبح صبح دل کے شدید درد نے انہیں بے چین کر دیا تھا گھر میں کوئ مرد مو جود نہیں تھے تو چچی نے مجھے ہی بلایا تھا ۔وہ ابو کو جواب دیتے ساتھ ساتھ دواؤں کی برچی پر بھی نظر دوڑارہا تھا ۔
ا"اوہ ۔یہ تو کافی پریشان کن صورت حال ہو گئ "۔ ابو کو افسوس ہوا ۔
"جی ۔مگر شکر ہے ۔ جسے ہم دل کی تکلیف سمجھ رہے تھے وہ پیٹ کی تیزابیت نکل آئ ۔دونوں کے علامات ایک جیسی ہوتی ہیں ۔تو پھر بھی چاچا کی بچت ہو گئ ۔
وہ مسکرایا تھا ۔
ا"اب کہاں ہیں ابرار صاحب ۔"
ا"انہیں وہاں ڈاکٹر کے کیبن میں بٹھا آیا تھا ۔ ابھی ڈاکٹر سے بات کرنی ہے ۔ لیکن اتنا تو بتا چل گیا ہے کہ ہارٹ وغیرہ نہیں ہے ۔"
"چلو خیر ہوئ ۔"
ابو کو اطمینان سا ہوا ۔
"اچھا بیٹے خیر تم اپنا کام کر لو ۔میںبھی اب چلتا ہوں ۔ آئ ڈراپس تو ہم فارمیسی سے لے لیں گے ۔" ابو کو بھی اسے اپنے کام کے لیے تکلیف دینا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
"نہیں ابھی دو منٹ میں لے آتا ہوں ۔ فارمیسی میں بھی کئ لوگو ں سے پہچان ہے میری ۔ وہ بتاتے اب واپس پلٹ رہا تھا ۔
ا"ور جیل کے قیدیوں ،پاگل خانے کے پاگلوں سے بھی اچھی جان پہچان ہو گی ۔" انشا کے لبوں کو کھجلی سی ہوئ ۔ اسے یہ بات بالکل بھی ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ کوئ یوں بھی گھنٹوں کا کام منٹوں میں کر کے دے سکتا ہے ۔
"جی ۔کچھ پاگلوں سے تو ابھی ابھی جان پہچان ہو ئ ہے "۔ وہ زیر لب بولتا وہاں سے ہٹ گیا تھا لیکن بیچاری انشا کے کان بڑے تیز تھے ۔ جس نے یہ بات سن کر اپنے پیر زور سے زمین پر دے مارے تھے۔
باجی ۔آپ کے پیر پٹخنے سے اس ہاسپٹل میں زلزلہ آیا تو ۔ وہ چھوٹا سا لڑکا اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھے فکر مندی سے پوچھ رہا تھا ۔
"یہ زلزلے نہیں سونامی لاتی ہیں" ۔ وہ پھر سے کہیں ٹپک گیا تھا اور اب ابو کو ایک لفافہ دے کر ساری تفصیل بھی بتا رہا تھا کہ کونسے ڈراپ کب ڈالنے ہیں ۔ اورابو بہت دل جمعی سے اسے سن رہے تھے
ا"اچھا بیٹے ۔تم نے تو آج میرا کام بہت آسانی سے اور کم وقت میں کیا ۔اس کے لیۓ تو جتنا بھی شکر کروں کم ہے ۔"ابو کو حقیقتا بہت خوشی ہوى تھی ۔
آآپ تو یہ کہہ کر شرمندہ کر ہے ہیں ۔انکل ۔"
میں آپ کے لیۓ آٹو لے کر آتا ہوں ۔ " وہ عاجزی سے کہہ کر اب باہر جا نے لگا تھا ۔
" ہم کیاب بک کر لیں گے ۔" انشا نے جلدی سے کہا تھا ۔
" کیا ب اس وقت بہت چارج کرتے ہیں ۔ اس لیۓ کہہ رہا تھا ۔ آپ کو یہاں کے آٹو والےزیادہ سستے میں لے جا سکتے ہیں۔کیوں انکل ۔ اب وہ ابو کی جانب پلٹا تو ابو نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائ ۔
" چلو ٹھیک ہے ۔ ہم آٹو سے ہی جائیں گے ۔ " ان کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا اس لیۓ انشا کو خاموش ہو جانا پڑا ۔
ابو آٹو میں بیٹھ کر بھی اس بندے کی تعریف کرتے رہے ۔
سچ کہوں تو آج ایک بیٹے کی کمی شدت سے کھلی ۔اگر میرا بیٹا ہوتا تو وہ بھی یوں ہی میرا ہر کام بڑھ بڑھ کر کرتا ۔
ان کی آنکھوں کی چمک نے انشا کو آذردہ کر دیا
انہوں نے کبھی یوں بیٹے کی کمی محسوس نہیں کی تھی ۔
جاری ۔ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں