ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔۔قسط 14

 وہ اپنی چاۓ گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی ۔ ابو کی آواز یہاں تک آ رہی تھی ۔

" کتابیں  ہماری زندگی میں بہت اہم رول پلے کرتی ہیں ۔بیٹے ۔ آپ جیسی کتابیں پڑھیں گے آپ کے خیالات بھی اسی کی مانند ہو نگے ۔ یونہی تو نہیں کہا گیا کتاب کو دوست ۔ دوست کو دیکھ کر بندہ کی صحبت کیسی ہے پتا لگ جاتا ہے ۔ اسی طرح ہم کیسی کتاب پڑھ رہے ہیں اسی سے ہماری فطرت ظاہر ہو جاتی ہے ۔"

" جی انکل  بالکل ۔میرا بھی یہی ماننا ہے ۔ لیکن کتابیں صرف پڑھنے کے بجاۓ اس پر عمل بھی کرنا شروع کریں ۔اسکی نصیحتوں پر غور کریں ۔ اسکے اسرار و رموز جانیں تب ہی کتاب سے کچھ نفع حاصل ہوتا ہے ورنہ تو گدھے پر کتابیں لادنے والی بات صادق آتی ہے ۔ " شاید یہ اسی کی آواز تھی ۔

درست کہہ رہے ہو بیٹے ۔ تم سے بات کر تا ہوں تو دلی مسرت ہوتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت عرصہ بعدخودںسے مل رہا ہوں ۔ ابو کی آواز میں جو کھنک تھی اس نے انشا کو حیران کر دیا ۔

" میں خود کسی زمانے میں کچھ ایسی ہی سوچ رکھتا تھا بلکہ رکھتا ہوں ۔ ابو  خوشدلی سے کہہ رہے تھے ۔

جی ۔یہ تو انکل آپ کی نوازش ہی  ہے۔ میرے نزدیک زنگی عمل کا نام ہے ۔ صرف اچھی کتابیں پڑھنے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا جبکہ اچھے کام کرنے سے کتاب پڑھنے کا مقصد واضح ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں ۔

عمل سے زنگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔

تو جہاں علم ہو عمل نا ہو وہ علم تو رائیگاں ہی ٹہرا ۔ 

اایک اچھی کتاب سے بڑے بڑے انقلاب آ سکتے ہیں ۔

اور ایک اچھے عمل سے زندگیاں بدل جاتی ہیں۔

ہمیں اچھی کتاب پڑھنا چاہیے جسے ہم اپنی زندگی کارآمد بنا سکیں نا کہ صرف وقت گذاری کرنے کے لیۓ ۔

پڑھنے کےعمل میں بھی آغاز ہم حروف تہجی سے کرتے ہیں ۔اسکے بعد الفاظ جملے وغیرہ پھر ہم چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھنے لگتے ہیں ۔اور پھر ہم بچوں کی کہانیوں سے بڑوں کے افسانے ناول وغیرہ میں آ جاتے ہیں لیکن ہمارا یہ سفر اکثر ناولوں پر ہی ختم ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد اعلی معیار کی کتابیں پڑھنا ہمارا مقصد ہو نا چاہیۓ۔ جس سے زندگی میں آ گے بڑھ سکیں ۔اور مطالعہ کا ذوق بھی صاف ستھرا ہونا چاہیۓ ۔کیونکہ ہر کتاب پڑھنے والی نہیں ہو تی ۔اپنے آپ میں انسان حد مقرر کر لے کہ کیا پڑھنا اور کیا نہیں پڑھنا ۔

اسی طرح کیا لکھنا چاہیے اور کیا نہیں لکھنا چاہیۓ ۔

اور کیا بات کرنا ہے اور کونسی بات نہیں کرنی چاہیے ۔یہ ساری باتیں تو ہمیں سیکھنی ہی چاہیۓ ۔

وہ بہت ادب سے بہت تفصیل سے بات کر رہا تھا ۔اور جانے انجانے میں انشا کے کانوں میں یہ باتیں پڑ رہی تھیں ۔اور وہ لاشعوری طور پر ان پر غور بھی کر رہی تھی ۔

************

ا" مجھے ابھی رحمان صاحب کا فون آیا تھا ۔ " ابو امی سے مخاطب تھے جو اس وقت تسبیح پڑھ رہی تھیں ۔

" رحمان صاحب ۔ کون " 

" وہی  انجینیر بچہ جو اکثر آتا رہتا ہے ۔ اس کے والد ہو تے ہیں ۔ " 

" تو کیا کہا انہوں نے " امی اب کچھ مستعد سی  نظر آئیں ۔

" انہوں نے اپنے بیٹے کے لیۓ انشا کا رشتہ دیا ہے ۔ " انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی ۔

" ہیں ۔خدا کا خوف کریں ۔ ان کے بیٹے کو دیکھا نہیں  کیا ۔ اس کے تو پیر میں نقص ہے ۔ ہماری انشا کو کیا کمی ہے " امی تڑپ کر بولیں تھیں ۔

"ہمم ۔لیکن بچہ اچھا ہے صرف اسی بات سے  کہ اس کے پیر میں لنگ ہے میں کچھ گو مگو سا ہوں ۔کہ پتا نہیں انشا کیا سوچے گی ۔ ان کے لہجہ میں ہچکچاہٹ تھی ۔

" آپ خود سوچیں ۔کیا کمی ہے ہماری بچی میں جو ہم اپنی اکلوتی بیٹی کو ایسے شخص سے بیاہ دیں جس کے پیر میں نقص ہو ۔ سارے خاندان میں  مذاق بن جائیں گے ۔ آپ انہیں انکار کر دیں ۔ " امی نے صاف جواب دے دیاتھا ۔

"'لیکن اس کے کردار نے مجھے کافی متاثر کیا ہے ۔ہر طرح سے بے مثال ۔۔"اور گھرانہ بھی بالکل ہماری طرح میانہ روی والا ہے ۔نا نمود نا نمائش ۔‌لوگ کافی اچھے ہیں ۔" وہ پھر  بھی تذبذب میں تھے ۔

انشا سے پوچھ لو اگر وہ راضی ہو تو ۔  میں اس رشتہ کو قبول کرنے میں دیر نہیں کروں گا ۔ " اب کہ وہ حتمی لہجہ میں بولے تھے ۔

" اس سے کیا پوچھنا ۔وہ تو بچی ہے ۔ بھلا اپنا اچھے برے کا کیا پتا .امی کی کوشش یہی تھی کہ وہ یہ بات یہیں ختم کر دیں ۔

" ہاں ۔لیکن ایک بار اس کی مرضی معلوم کر لو ۔ " انکا اصرار اب بھی باقی تھا ۔

" ٹھیک ہے پوچھ لیتی ہوں ۔ مگر دیکھ لینا وہ بھی انکار ہی کر ے گی ۔ " امی نے یقین سے کہا تھا ۔مگر جب انہوں نے انشا کو اس رشتہ کے بابت پوچھا تو اس نے ہاں کہہ کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔

" تم ہوش میں ہو ۔تمہیں‌پتا ہے۔  دیکھا ہے پھر بھی "۔ وہ تاسف سے بولیں تھیں ۔

" امی ۔" اس نے پہلے ایک سانس بھری تھی ۔پھر اس نے کہنا شروع کیا تھا ۔

اب تک جتنا پڑھا جتنا جا نا جتنی کتابیں پڑھیں تو اس ساری کتابوں سے جو کچھ میں نے سیکھا وہ یہی کہ ڈائجسٹ اور حقیقی زندگی میں بہت فرق ہو تا ہے ۔ میں بھی ان تمام لڑکیوں کی طرح ایک لمبے چھ فٹ کے سرخ و سفید رنگت والے ہیرو کی امید لگا ۓ بیٹھی تھی ۔جو ایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہو یا اونر ہو ۔ مگر حقیقت کی زمین پر پاؤں کچھ دن پہلے  رکھا ہے ۔ابھی چلنا شروع کیا ہے ۔ قدم قدم آگے بڑھ رہی ہوں ۔اور زندگی کی حقیقتوں سے روشناس ہو  رہی ہوں ۔

ااور حقیقت یہی ہے کہ ہماری زندگی میں ایسے کسی ہیرو کی کوئ گنجائش نہیں ۔ہم مڈل کلاس لڑکیاں اور خواب شہزادوں کے دیکھتی ہیں ۔تخیل میں ایک افسانوی زندگی کو آئیڈیلایزکرتی ہیں ۔اور جب ہمیں ہمارے من پسند شخص نا ملے تو پھر ٹوٹ پھوٹ سی جاتی ہیں ۔ 

اسی لیے مجھے یہی لگا کہ بجاۓ میں کسی ہیرو کے انتظار کرنے کے کسی کی زندگی کی ہیروئن بن جاؤں ۔ یہ میرے لیۓ زیادہ اچھا ہو گا ۔

اور رہی بات جسمانی عیب وغیرہ کی تو بے عیب تو بس اللہ کی ذات ہو تی ہے ۔ ہر انسان میں کچھ نا کچھ نقص ہو تا ہے ۔اگر میں اس شخص کے لیے انکار کر دوں تو کیا ضروری ہو کہ اگلا انسان مجھے بالکل بے عیب ہی ملے ۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہبظاہر بے عیب ہو لیکن  کردار کا نقص ہو اس میں ۔امی جسمانی عیب تو برداشت کر سکتے ہیں مگر کردار کا عیب نہیں برداشت ہوگا ۔وہ بہت سنجیدگی سے اپنی بات کر رہی تھی ۔بلکہ اپنی امی کو قائل کر رہی تھی۔

اور آپ ہی تو کہتی ہیں کہ وہ ابو کا چہیتا ہے ۔ ابو صرف میری وجہہ سے خاموش ہیں ورنہ انہوں نےتو فوراً  ہی اس رشتہ کو قبول کرنا تھا "۔ وہ ہنسی تھی ۔

"ابو کو ایک بیٹے کی کمی ہمیشہ سے محسوس ہو ئ ہے اور یہ بات میں نے  کچھ دنوں پہلے ہی محسوس کی ہے ۔ اس لیے میں ابو کو ان کا بیٹا دینا چاہتی ہوں ۔ اس سے میں ہمیشہ آپ کے قریب رہ سکوں گی ۔بس میں آپ دو نوں  سے دور نہیں جانا چاہتی ۔ اس نے امی کے گلے میں اپنی بانہیں ڈالی تھیں ۔

" ٹھیک ہے ۔ اب تم راضی ہو تو میں کیا کہہ سکتی ہوں ۔ لیکن ضروری نہیں ہر خوبصورت انسان شہزاد جیسا ہی ہو ۔ہو سکتا ہے کہ تمہیں کوئ اور اس سے بہتر شخص مل جاۓ۔ امی نے پھر بھی جتانا ضروری سمجھا ۔

" امی ۔میں کیوں ایک بہتر شخص کے انتظار میں ایک دوسرے  بہتر شخص کو ٹھکراؤں ۔جبکہ یہ اللہ کے نزدیک بھی کفران نعمت جیسی بات ہو گی ۔ جو ہمارے سامنے ہے بس اس کو ہی قبول کرنا چاہیے "۔ اس نے بالآخر اپنی ماں کو قائل کر لیا ۔۔

"  ٹھیک ہے ۔تو  اب ان لوگوں کو ہاں کہلوادوں " امی نے پو چھا ۔

" جی امی ہاں کہہ دیں " اس نے روانی میں  کہہ کر سر ہلا دیا ۔

"اپنے منہ سے ہاں کہہ رہی ہے کچھ شرم  ورم ہے کہ نہیں ۔ " امی نے ایک دھموکا اس کی پیٹھ پر جڑ دیا ۔۔

" امی ۔خود ہی تو پو چھا ناں ۔ " وہ کراہ کر رہ گئ۔ 

*********





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر