ڈائجسٹ ریڈر ۔۔قسط 13
اس نے کچھ نہیں کہا ۔بس اپنی نگاہیں زمین پر مرکوز رکھیں تھیں ۔
" یہ شاید وہی محترم ہیں جو محبت کے بڑے دعوے کر چکے ہیں ۔ " اس کے لہجہ میں ابھی بھی خفگی تھی ۔
اس نے پھر بھی کچھ نہیں کہا ۔ وہ اس وقت منتشر خیالات کی زد میں تھی ۔
" یہی مسئلہ ہوتا ہے ڈائجسٹ پڑھنے والی لڑکیوں کا ۔ وہ زندگی میں آنے والے ہر واقعہ ہر موڑ کو کوئ خوشگوار انجام والا افسانہ سمجھنے لگتی ہیں ۔ اپنی زندگی میں وہی خواب بننے لگتی ہیں۔ جیسے کہ افسانہ و ناول میں ہوتا ہے ۔ ہر کردار میں اسی ہیرو کو ڈھونڈنے لگتی ہیں ۔ لیکن زندگی وہ افسانہ نہیں جس کا انجام آپ اپنی مرضی سے لکھ سکیں اور نا وہ ناول ہوتی ہے جس کے کردار وں کو آپ اپنی زندگی میں اپلائ کر نے لگتی ہیں ۔
اور محبت کے نام پر تو ،اکثر دھوکے کھاتی ہیں ۔اگر آپ اپنی زندگی کے ہیرو میں کچھ اچھا ڈھونڈنا چاہتی ہیں تو بدلہ میں وہ بھی آپ میں ویسی ہی خصوصیات ڈھونڈے گا ۔ آپ میں ہوتی ہے وہ صفت کہ جسے دیکھ کر ایک ہیرو آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا سوچے ۔ آپ کے اندر وہ خوبی ہونی چاہیے تا کہ وہ آپ سے جھک کر عزت سے بات کر سکے ۔۔آپ کو عزت دینے والا مرد چاہیۓ تو آپ کو اپنی عزت کا خیال رکھنا چاہیے نا کہ کسی نام نہاد ہشخص کو ہیرو مان کر اس کے پیچھے خوار ہوں ۔ یاد رکھیں ایسی محبت صرف اور صرف خوار کرتی ہے ۔ وہ ایک پیر دروازہ پر رکھے جانے کیوں اس سے یوں تفصیل سے بات کر رہا تھا ۔ مگر انشا کو تو لفظ محبت پر غصہ آیا تھا ۔
تم محبت محبت کر رہے ہو ۔ میں نے کسی سے محبت وحبت نہیں کی ۔ ہاں ۔ کسی انسان کی ظاہر ی شخصیت سے متاثر ضرور ہوئ تھی ۔ لیکن یہ حقیقت بہت تلخ ہے کہ وہ انسان اہیرو تو کجا انسان جیسا بھی نہیں تھا ۔ اس کی آواز بھرا گئ ۔
" اس انسان کی حقیقت اپنے والدین کے سامنے لائیں ۔ یہ ناول بھی انکل کو دکھا دیں کہ کیسے کوئ اتنا بے ہودہ کام کر سکتا ہے ۔ " اس نے مشورہ دیا تھا ۔
کیسے بتاؤں ابو کو ۔ وہ کیا سمجھیں گے ۔ اس کے آنکھوں میں پھر سے آنسو آنے لگے ۔
" میں بتادوں ۔ اگر آپ نہیں بتا سکتیں تو ۔ اگر نہیں بتائیں گی تو اپنا ہی نقصان کریں گی ۔ " اسکی پلکوں پر اسکی نظر ٹہر گئ تھی ۔
" نہیں ۔ " وہ اٹھی تھی تو اب اسکی آواز میں اعتماد تھا ۔
میں خود ہی کہہ دوں گی ۔ میرے دل میں کوئ چور نہیں ہے " ۔اس کے پر اعتماد سے لہجہ پر اس کی آنکھوں میں ایک ستائش کا جذبہ لہرایا تھا ۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا امی وہاں آ گئیں تھیں ۔
" ارے بیٹے ۔تم " امی کچھ حیران ہوئیں تھیں ۔ وہ دروازہ میں ہی کھڑا تھا ۔اس نے ایک قدم بھی اندر نہیں رکھا تھا ۔جس سے امی کو یک گونہ سکون سا محسوس ہوا تھا ۔ امی کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کمال کی احتیاط کر نے والوں میں سے تھا ۔
" جی آنٹی ۔ میں تو۔ یہ مٹھائ دینے آیا تھا ۔ " اس نے ایک مٹھائ کا ڈبہ امی کی جانب بڑھایا تو امی نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا ۔
" کیا کہیں منگنی کر لی کیا تم نے " امی نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا ۔ وہ اب اندر آگئیں تھیں ۔ انشا نے اب اندر جانے کے لیے قدم بڑھادیۓ تھے ۔اور ڈرایینگ روم میں ٹیبل پر وہ ناول رکھ چکی تھی ۔
" ارے نہیں آنٹی ۔ ہم جیسوں کو کون قبول کرتا ہے ۔ " وہ ہنسا تھا تو امی نے اسے تاسف سے دیکھا تھا اور بے ساختہ اسکے پیروں پر نظر پڑی تھی ۔ اس کے ایک پیر میں شاید کچھ نقص تھا جس سے وہ کچھ لنگڑا کر چلتا تھا گو کہ بہت کم محسوس ہوتا تھا ۔
" پھر یہ مٹھائ ۔ ؟ "
" میرا کیمپس سیلیکشن ہو گیا ہے ۔ ایک اچھی کمپنی میں جاب لگ گئ ہے ۔ " اب وہ مسکراتے کہنے لگا تھا ۔
تو اب یہ جاب چھوڑ دوگے ۔ "
جی کچھ دنوں میں چھوڑ رہا ہوں ۔انکل کو بتا دیں ۔انہوںنے مجھے خصوصی طور پر کہا تھا کہ جاب ملے تو آ کر مل کر جانا ۔ ابھی تو گھر کی فنکشن کی تیاری میں مصروف ہوں بعد میں آ کر مل لوں گا ۔ " اس نے مٹھائ کا ڈبہ امی کو تھمایا ۔
اچھا خیر مبارک ہو ۔بیٹے ۔ " امی بھی اب ڈرایینگ روم میں وہ مٹھائ کا ڈبہ ٹیبل پر رکھ چکی تھیں ۔
شام میں ابو ڈرایینگ روم میں بیٹھے تھے انکے قریب شہزاد بھی تھے ۔وہ کچھ دیر پہلے ہی آۓ تھے۔
ابو کی نظر مٹھائ پر پڑی تو انہوں نے وہیں سے امی کو آواز لگائ تھی ۔
" یہ مٹھائ کون لایا ہے ۔ "
وہ حلیمہ کا بھتیجا ۔۔ڈلیوری والا ۔اسکی نوکری لگ گئ ہے۔اس لیۓ مٹھائ لایا تھا ۔ ۔ " امی نے بھی و ہیں سے جواب دیا تھا ۔
"اوہ ۔یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ "ابو نے ایک ٹکڑا اٹھا یا ۔
ماموں ۔دراصل میں بھی کچھ دنوں کے لیے ممبئ جا رہا ہوں تو آپ سے اجازت لینے آیا تھا ۔
وہ اپنے مخصوص دھیمے لہجہ میں بات کر رہے تھے ۔
اچھا ۔چلو خیر سے عارفہ کی شادی بھی ہوگئ ۔ابھی کتنے میں جانا ہے دبئ ۔ " ابو نے ان سے پو چھا تھا ۔
" جی ۔پندرہ دن میں تیاری کرنی ہے ۔ " وہ یہ کہتے اٹھنے لگے تھے ۔
" ارے یہ ناول ۔۔۔۔ابو کی نظر اب اس ناول پر پڑھی تھی ۔ شہزاد کے چہرے کا رنگ اڑا تھا ۔
ابو اس ناول کو بغور دیکھنے لگے تھے اور اب ان کے چہرے کا رنگ غصہ سے سرخ ہونے لگا تھا ۔
یہ گھٹیا ناول یہاں کون لایا ۔ ان کے لہجہ میں غصہ تھا ۔
انکل ۔شاید وہ ڈلیوری بواۓ نے دیا ہو ۔ مٹھائ دینے کے بہانے اس نے شاید انشا کو ۔۔۔۔وہ بات ادھوری چھوڑ کراب جانے کی تیاری کرنے لگے تھے ۔
" لیکن وہ تو ایسا نہیں لگتا ۔ " ابو کو یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا ۔
" ہممم آج کل ہم کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے ۔" انہوں نے اعتماد سے کہا تھا گو کہ ان کے چہرہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
اچھا ۔ماموں اب میں چلتا ہوں ۔ " وہ اب رک نہیں سکتے تھے اس لیۓ فوراً چلے گۓ۔ لیکن ابو کو تو غصہ میں سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔
انہوں نے اپنی بیوی کو آواز لگائ تھی ۔
انشا اس وقت سو رہی تھی اسے شہزاد کے آنے جانے کی بھی خبر نہیں تھی ۔
کیا ہوا آپ نے ایسے کیوں آواز دی ۔ " امی کچن سے گھبراتی آئیں تھیں ۔ ساڑی سے پسینہ صاف کرتی وہ اب انہیں دیکھ رہی تھیں ۔
یہ ناول یہاں کیسے آیا " انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا ۔" یہ تو میں نہیں جانتی ۔شاید مٹھائ دیتے ہوۓ وہ حلیمہ کا بھتیجا جو ہے اس نے دیا ہو ۔ " ناول کے سر ورق پر نظر پڑتے ہی امی کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑ گۓ تھے ۔
" تو تم کہاں تھیں اس وقت " ابو کو ضبط کرنا ہی مشکل لگ رہا تھا ۔
" میں قریب میں دس منٹ کے لیے ہی گئ تھی ۔جاتے ہوۓ انشا کو دروازہ لگانے کا بھی کہا تھا ۔ مگر جب آئ تھی تو وہ دروازہ میں کھڑا تھا ۔ " امی ہچکچاتے بول رہی تھیں " ہممم ۔انشا کو ذرا ادھر بھیج دو ۔ " انوپر ابھی بھی غصہ طاری تھا ۔
کچھ دیر میں انشا وہاں آئ تھی ۔
" جی ابو ۔ "
" یہ ناول ۔۔" ابو نے ناول اٹھایا تو انشا کی نظریں جھک گئیں ۔
" مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا وہ ہماری بیٹی کو ورغلارہا ہے " امی نے کلس کر کہا ۔
" شرافت کا ڈھونگ کس طرح کرتا تھا میں ابھی جا کر حلیمہ سے پو چھوں گی ۔ "
امی کی بات سن کر انشا کو احساس ہوا کہ کیا غلط فہمی ہو گئ ہے ۔
" امی ۔ یہ ناول شہزاد لاۓ تھے "
" کیا " امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔
شہزاد ۔ان کی زبان کو یکدم بریک لگ گۓ۔
" کیا ۔شہزاد ۔ "؟ ابو کے غصہ کا پارہ پھر سے چڑھ گیا تھا ۔
" آئندہ شہزاد اور شہزاد جیسے ہمارے گھر میں قدم نہیں رکھیں گے ۔ اتنی گھناؤنی حرکت کر کے بھی ڈھٹائ سے وہ میرے سامنے میرے مقابل بیٹھا تھا ۔ ان کا لہجہ ایک بار پھر غضب ناک ہو گیا تھا ۔
اور تم " انہوں نے انشا کی جانب نظریں کیں ۔
" ماہانہ ڈائجسٹ تو لگا دیے تھے پھر کیوں اس سے مانگا "
ابو ۔ انہوں نے خود ہی لا کر دیا تھا ۔میں نے تو لانے کے لیے نہیں کہا تھا ۔ اس میں میرا کوئ قصور نہیں ۔ " اس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آنے لگے ۔
" قصور کیسے نہیں تمہارا ۔ ایک غیر تمہیں کوئ دینی کتاب بھی دیتا تو لینا۔ نہیں چاہیۓ تھا ۔یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی ۔بلکہ ایک فاش غلطی ۔ " انہیں اس کے آنسو بھی نرم نا کر سکے تھے ۔
" جی ۔ مجھ سے یہ غلطی ہوگئ ۔ " اس نے اپنے آنسو پیۓ ۔
اس کم ظرف شہزاد کی دیدہ دلیری تو دیکھو ۔ کسی اور پر الزام ڈال کر چلا گیا ۔ " انہیں نۓ سرے سے شہزاد پر غصہ آنے لگا ۔
" اب جاؤ ۔ آئیندہ کے لیۓ احتیاط کرنا " انہوں نے اسے انگلی اٹھا کر جیسے خبردار کیا ۔ انشا کو بس ان کے اشارے کی منتظر تھی فورا اندر چلی گئ تھی ۔ جبکہ امی ابھی تک صدمہ کی حالت میں تھیں
**************۔
آج وہ امی کے ساتھ اس دعوت میں شریک تھی جس کی دعوت میں وہ بالکل بھی شریک نہیں ہونا چاہتی تھی ۔ لیکن امی کا کہنا تھا کہ گھر میں اکیلے رہنے سے بہتر ہے دعوت میں چلو ۔ تو وہ آ گئ تھی ۔یہ ایک منگنی کی تقریب تھی جو اس ڈلیوری بواۓ کی بہن کی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح اس نے ہلکے بادامی رنگ کے۔ کپڑے پہنے وہ اس گھر کو اور ان کے مکین کو بغور دیکھ رہی تھی ۔ وجہہ تھی انکی سادگی اور سلیقہ ۔ وہ یوں کہیں آتی جاتی نہیں تھی لیکن انکے خاندان میں کسی کا گھر اتنا سادہ اور خوبصورت سجا یا ہوا نہیں ہوتا تھا جیسے کہ یہ گھر تھا ۔ وہ یہاں جب سے آئ تھی ایک ایک چیز کو تک رہی تھی ۔ ایک عام سے گھر کو مکین کی سلیقہ مندی نے خوبصورت بنا دیا تھا ۔ گھر کا چپہ چپہ اتنا صاف ستھرا تھا کہ ڈھونڈنے پر بھی کہیں دھول نظر نا آ رہی تھی ۔ خوبصورت دیدہ زیب پردوں نے گھر کی ر و نق بڑھا دی تھی ۔ ایک بڑے سے دالان میں بالکل سفید براق چادریں بچھائ گئ تھیں جس پر بنفشی بڑے بڑے دھاگے کے پھول کاڑھے ہوۓ تھے ۔ ساتھ ہم رنگ گاؤ تکیہ سلیقہ سے لگاۓ گۓ تھے ۔
اچھا تو آپ ہو انشا ۔ " ایک پیاری سی لڑکی اسکے قریب آئ تھی جو بہت دیر سے انشا کو دیکھ رہی تھی ۔
جی ۔ مگر آپ ۔ " وہ اس لڑکی کو دیکھ کر کچھ حیران ہوئ ۔ وہ بالکل اپنے بھائ پر گئ تھی ۔
ہم لوگ اتنے قریب رہتے ہوۓ بھی ایک دوسرے سے انجان تھے نا ۔ وہ تو امی سے پتا چلا کہ وہ آپکی امی وغیرہ کو جانتی ہیں اور حلیمہ پھپھو سے بھی کافی سننے کو ملا کہ آپ کی امی اور وہ کالج کی سہیلیاں تھیں ۔ وہ ہنس کر بولنے لگی تو انشا بھی مسکرا نے لگی۔
ہاں کبھی اتفاق نہیں ہوا ۔آپ سب سے ملاقات کا۔ " انشا نے بھی خوشدلی سے کہا تھا ۔
" اچھا آپ اندر چلیں ۔میں آپ کو امی وغیرہ سے ملاتی ہوں ۔ آپ کی امی سے وہ پہلے ہی مل جکی ہیں ۔" وہ اسے اندر لے آئ تھی اور اب سب سے ملا بھی رہی تھی ۔
وہ سب بہت سادہ سے لوگ لگ رہے تھے ۔ سب اس سے اتنی اپنائیت سے ملے تھے کہ انشا جو ہر دعوت میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیتی تھی اب ان کے ساتھ مل کر فلک شگاف قہقہے لگا رہی تھی ۔ اس کے بے ساختہ پن نے سب کو اس کا گرویدہ کر دیا تھا ۔
امی بھی گھر میں اپنے خول میں لپٹی انشا کو یہاں ہنستے مسکراتے دیکھ کر مطمئن ہو گئ تھیں ۔
*************
شام کے پانچ بج رہے تھے ۔انشا نے آج سارے گھر کی صفائ میں خصوصی طور پر دھیان دیا تھا ۔ وہ جب سے اس گھر سے ہو آئ تھی ۔ اپنے گھر کو دیکھ کر شرمندہ سی تھی ۔
اس گھر میں تو آنگن بھی اتنا صاف ستھرا تھا کہ دل لیٹ جانے کو جی چاہے ۔ پودوں کو تک صحیح ترتیب سے اور بہت کانٹ چھانٹ کر رکھا گیا تھا ۔ اور گملوں کو بھی خوبصورت پھول پتوں کے ڈیزائین میں پینٹ کیا گیا تھا ۔جس سے گملوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا تھا ۔
گھر کو سجا کر رکھنا بھی ایک آرٹ ہو سکتا ہے یہ اس نے وہیں نوٹ کیا تھا ۔
گھر نا اتنا خالی ہو کہ بس دیواریں ہی دیواریں نظر آئیں ۔نا دیواروں کو اتنا سجاوٹی اشیا سے بھر دیا جاے کہ ساری دیواروں کو دیکھ کر دم۔ گھٹنے لگ جاۓ ۔
اس کے اپنے گھر میں کئ قیمتی سجاوٹی اشیاء تھیں جسے اس نے بے ترتیبی سے ادھر ادھر رکھ دیا تھا ۔ وہاں جا کر آئ تھی تو ساری بے ترتیبی اب نظروں کو چبھ رہی تھی ۔ اس نے سب سے پہلے ڈرایینگ روم کو ہی چنا تھا ۔ وہاں نۓ سرے سے صوفے سٹ کیے تھے ۔ اور ٹی ٹیبل پر نیا ٹیبل کور ڈالا تھا ۔ اس پر تازہ اخبار بھی رکھا اور ایک کونہ میں گلدان بھی رکھ دیا تھا ۔ صوفے کے کشن کور تبدیل کیے جو کئ مہینوں سے بدلے نہیں گۓ تھے ۔پھر دیواروں سے ساری پینٹنگز وغیرہ نکالی تھیں اور انہیں پونچھ کر نۓ انداز میں سجا دیا تھا ۔ جب دو گھنٹے مسلسل محنت نے ڈرائینگ روم کو ایک نیا انداز دیا تھا ۔ جسے دیکھ کر وہ خود ہی خوش ہو گئ تھی ۔
" گریٹ ۔ بالکل نیا سا لگ رہا ہے ۔ڈرائینگ روم ۔ " وہ خود کو شاباشی دیتی باہر آگئ تھی ۔ اب وہ نہا نے جا رہی تھی اسکے بعد وہ ایک لمبی نیند لینے کا پروگرام بنا چکی تھی ۔
***************
جب سو کر وہ فریش سی اٹھی تھی تو ڈرائینگ روم سے آوازیں آ رہی تھیں ۔
وہ سیدھا کچن میں گئ تھی جہاں امی چاۓ بنا رہی تھیں ۔
" کون ہے ۔امی "
" وہی حلیمہ کا بھتیجا ۔ " امی نے مصروف انداز میں کہا تھا ۔
" اوہ ۔ یوں کہیں ابو کا چہیتا ۔ " اس کے کہنے پر امی کو بھی ہنسی آئ ۔تھی ۔
" ہاں کہہ سکتے ہیں ۔ ویسے اس کے گھر سے جب سے ہو کر آۓ ہیں ان لوگوں کی طرز زندگی سے کافی متاثر ہوۓ ہیں وہ ۔ " امی نے اب پیالیوں میں چاۓ ڈالنی شروع کی تھی ۔
" ہوں ۔۔وہ تو ہے ۔ "
" تم چلو گی یا یہیں پی لو گی ۔ " امی نے اب ٹرے لے لی تھی ۔
" نہیں میں یہیں پی لوں گی آپ جائیں ۔ " اس نے اپنی پیالی اٹھا لی تھی ۔امی بھی سر ہلاتے چلی گئیں ۔
"
جاری
**************
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں