ڈائجسٹ ریڈر ۔۔ قسط 12
وہ امی کے ساتھ ٹی وی لگا ۓ بیٹھی تھی ۔ یہ چار بجے کا وقت تھا ۔دھوپ بھی اب جانے کے مرحلے میں تھی ۔جب شہزاد آۓ۔
پھپھو شادی کے کارڈ لے آ یا ہوں ۔آپ کو شادی سے چار پانچ دن پہلے ہی آنا ہوگا ۔ وہ چہک رہے تھے ۔
لیکن بھابھی نہیں آئیں ۔ " امی کا چہرہ کچھ پھیکا پڑا تھا ۔
ا"می تو آنے کے لیۓ تیار ہی تھیں مگر آپ کو پتا تو ہے شادی کے گھر میں کتنی مصروفیات ہوتی ہیں ۔ بس اس وجہہ سے نا آ پا ئیں ."یہ کہتے انہوں نے انشا پر ایک نظر ڈالی ۔
"کافی سست بیٹھی ہو ۔ کیا ہوا ۔ "
"کچھ نہیں" ۔وہ انکے سرخ چہرہ پر چمکتی مسکراہٹ سے کچھ خایف ہو ئ تھی .
ا"اچھا ۔ آپ کو بھی چار پانچ دن پہلے ہی آنا ہوگا ۔کوئ بہانا نہیں چلے گا ۔" انہوں نے دھونس سے کہا
ا"امی آئیں گی تو میں بھی آ جاؤں گی ۔" انشا ان کی توجہ پر مسکرا اٹھی ۔
"ہممم ۔اور یہ رہا آپ کا ناول" ۔ انہوں نے ایک گفٹ پیپر میں لپٹی کتاب اس کے نظروں کے سامنے کی ۔
ا"اوہ ۔کونسا ہے مجھے دیکھنا ہے" ۔ وہ بے صبری ہوئ ۔
ای شاید اندر چلی گئیں تھیں ۔
"تو لے لیں ۔میں نے کب منع کیا ہے "۔ انہوں نے کتاب آگے کی ۔
اس سے پہلے کہ انشا ہاتھ بڑھاتی انہوں نے اس کی کلائ پکڑ لی۔ان کی نظروں میں سطحی پن نظر آ رہا تھا ۔
انشا نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا تھا ۔۔
چہرہ پر غصہ یوں در آیا کہ شہذاد نے بھی فوراََ ہاتھ چھوڑ دیا ۔
آ"یہ رکھ رہا ہوں یہاں ۔لیکن کیسا لگا مجھے بتانا ضرور ۔میںانتظار کروں گا" ۔انکے شہد آگیں سےلہجہ میں جانے کیا تھا کہ وہ ان نظروں سے اوجھل ہونا چاہ رہی تھی ۔اور تیزی سے انہیں اپنے سامنے سے ہٹاتی وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی ۔
شام تک بھی وہ اپنے کمرے میں چپ چاپ پڑی رہی ۔امی نے کھانے کا کہا مگر وہ سوتی بن گئ ۔شہذاد چلے بھی گۓ اور اسے پتا بھی نہیں چلا تھا ۔اتنا بوجھل دل یوں کبھی نہیں ہوا تھا ۔
***********
وہ سب شہزاد کی دعوت میں جانے کے لیۓ تیار تھے ۔انشا کا دل تو نہیں کر رہا تھا مگر امی کی ضد کے آگے اسے ہار ماننی پڑی تھی ۔
آ"آج یہ شادی کی دعوت ہو جاۓ گی ۔اگلے دو دنوں میں وہ آپکے چہیتے کی دعوت بھی ہے ۔وہاں بھی جانا ہے" ۔ امی اپنی ساری درست کرتیں ابو سے باتیں بھی کرتی جا رہی تھیں ۔ان میں شہزاد کی دعوت میں جانے کا اشتیاق زیادہ تھا ۔
انشا نے حسب معمول اپنی سادگی والی تیاری رکھی تھی ۔ کپڑے امی کے بقول کچھ زیادہ ہی ہلکے لگ رہے تھے ۔جدید تراش خراش یا بھڑکیلے نا ہونے پر وہ زیادہ قیمتی نہیں لگ رہے تھے ۔
ا"ایسا لگ رہا ہے ۔سو دو سو کا سوٹ ہو ۔ کلر دیکھو۔۔۔۔۔اور اس رنگ کو پہن کر تم بالکل پھیکا شلجم لگ رہی ہو" ۔ امی کی لعن طعن جا ری تھی ۔
"امی مسترد رنگ کا بہترین سوٹ ہے ۔ یہ تو بالکل لیٹیسٹ برانڈ کا لیا تھا میں نے "۔ وہ بھی شلجم والی بات پر تڑپ اٹھی تھی ۔ دل پر جیسے گھونسا سا بڑا تھا ۔
"اونہہ ۔رنگ تو اچھا لیتی ۔ کتنے اچھے اچھے رنگ ہوتے ہیں ۔سرخ قرمزی گلابی میرون نیلا ہرا پیلا ۔مگر نہیں ۔۔۔یہ لیں گی تو اپنی مرضی سے ۔"۔۔امی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے کوئ بھڑکیلا سا شرارہ غرارہ پہنا دیں ۔
"جی ۔ان رنگین ہرے نیلے پیلے کپڑے پہنوں گی تو ہولی کا میدان لگوں گی ۔ مجھے نہیں بننا کوئ ہولی کا میدان" ۔اس نے ناک سکوڑی اور اپنا پرس لیے باہر آگئ ۔ امی کی بڑبڑاہٹ تو وہاں جانے تک چلتی رہی ۔ لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انکے عزیز مل گۓ تو ان کا ڈانٹ ڈپٹ کا سلسلہ رک گیا تھا ۔وہ بھی سب بڑوں سے مل کر اپنی کزنز کی جانب آئ تھی ۔
وہاں شہزاد بھی موجود تھے ۔ اپنے فارمل حلیہ سے ہٹ کر انہوں نے روایتی آف وہایٹ کرتا پہنا تھا ۔ اور ہمیشہ کی طرح ان کے چہرہ کیے خوبصورت نقوش انہیں سب میں ممتاز کر رہے تھے ۔
"شہذاد بھائ۔ میں نے آج خاص آپ کی پسند پر یہ نیلا رنگ پہنا ہے ۔ اب بتایۓ میں کیسی لگ رہی ہوں ۔ " وہ فروا تھی جو نیلی لانگ فراک ' جیولری پہنے اور بالوں کو ہائ پونی سی بنا کر بہت پیاری لگ رہی تھی ۔
آ"آآآآسم" ۔ انہوں نے کہتے ہوۓ ہاتھ کا اشارہ بھی کیا ۔
"لیکن ان چند دنوں کے لیے میں کسی کا بھائ وائ نہیں ہوں ۔ اس لیے مجھ پر رحم کرنا ۔آج سب لگ ہی خوبصورت ہو تو ایسی خوبصورت لڑکیوں کا بھائ بننا کس کو پسند ہو گا ۔" انہوں نے قہقہہ لگا یا تھا لیکن انشا کو ان کا یہ مذاق بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا ۔
جبکہ دوسری لڑکیاں ہنسنے لگی تھیں ۔
"اوہ" ۔ ان کی نظر اب انشا پر پڑی تھی ۔
"واؤ ۔انشا آپ تو آج بہت ڈیسنٹ سی لگ رہی ہیں" ۔ ان سب کے سامنے ان کا یوں تعریف کرنے پر وہ کچھ نروس ہوئ تھی ۔
"بالکل ڈایجسٹ ہیروئن کی طرح" ۔۔انہوں نے بات مکمل کی ۔
ا"اوہ ۔ڈایجسٹ ہیروین ۔کیا انہیں کسی ہیرو کا انتظار ہے" ۔ وہ ساری کزنز اب اسکی طرف متوجہ تھیں ۔
"جی ۔ ایک میرے جیسے ہیرو کا انتظار " ۔ شہزاد کے عامیانہ سے انداز پر انشا کا خون کھول اٹھا تھا ۔ وہ ایکسیوز می کہتی وہاں سے ہٹ گئ تھی ۔
اباہر آکر اسے کچھ اچھا لگا تھا ۔ یوں جیسے حبس سے باہر نکل آئ ہو ۔
شہزاد ان ساری لڑکیوں میں گھرے اپنے آپ کو شہزادہ مانے وہاں سے ہٹے ہی نہیں ۔جیسے وہ سچ مچ کہیں کے شہزادہ ہوں ۔
انشا پھر وہاں رکی نہیں ۔اسے لگا وہ یہاں کچھ دیر اور رکی تو اس کا دم گھٹ جائیگا .
****************
ا"انشا ۔میں سامنے رشنا کے ہاں جا رہی ہوں ۔دس منٹ ہی لگیں گے ۔ تم جب تک دروازہ لگا لو" ۔ امی برقعہ پہنے اس کے پاس آئیں تھیں ۔
ا"چھا ۔امی" ۔ وہ ناشتہ کر چکی تھی اب چاۓ پی رہی تھی ۔رات میں کافی دیر بعد وہ سوئ تھی ۔ لیکن اب فریش تھی ۔ایک اچھی سے جاۓ کے ساتھ وہ کچھ اچھا بڑھنے کی چاہ میں اب ڈائجسٹ کھنگالنے والی تھی ۔ بس امی کے جانے کی دیر تھی ۔
امی چلی گئیں تو وہ روم میں ڈائجسٹ لینے آئ تھی ۔ایک دو ریک کھنگالنے پر اسے کچھ سمجھ نا آیا ۔تبھی اسکی نظر اس گفٹ پر پڑی تو وہ اسے لیۓ باہر ہی آگئ۔ بڑے شوق سے اس نے ناول کو کھولا ۔لیکن سرورق پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدلا ۔اور ہاتھ کپکپاگۓ۔
اس کے سامنے ایک نہایت گھٹیا اور اخلاق سوز تصاویر والا ناول تھا جس کا نام بھی مہذب نا تھا ۔
اس نے جلدی سے ورق پلٹا تھا اور ایک دو ورق پڑھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ کس قسم کا ناول تھا ۔اس نے ناول بند کیا ۔اور اپنی آنکھیں کرب سے بند کر دیں ۔
ااور وہ یکدم رونے لگی ۔ اتنا وہ شاید کبھی نا روئ تھی ۔
سارے تصوراتی ہیرو اسکی آنکھوں میں آ کر ناچنے لگے ۔
ااس کا دل جیسے بند ہونے لگا ۔ دل چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر اپنے اندر کی گھٹن کو نکالے ۔ اس کا ہیرو والا بت یوں ٹوٹا تھا کہ وہ سنبھل نہیں پا رہی تھی ۔
"ایکسکیوزمی ۔" وہ اندر نہیں آیا تھا ۔ لیکن دروازہ سے ہی اسکی دگر گوں حالت اسے نظر آ رہی تھی اور وہ واقعتا پریشان ہو گیا تھا ۔
اس کی آواز سن کر انشا جیسے ہوش میں آئ تھی ۔ اس نے اپنے سفید دوپٹہ کو اچھے سے سر پر لپیٹا تھا اور اس ناول کو چھپانے لگی تھی ۔
"کس نے دیا یہ آپ کو" ۔ وہ دیکھ چکا تھا ۔دروازہ پر کھڑے اسکے چہرے سے اسکے غصہ کا اندازہ لگانا آسان تھا۔ ۔
جاری
اپنی راۓ سے آگاہ کریں گے تو خوشی ہوگی ۔
از ۔۔نازنین فردوس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں