ڈائجسٹ ریڈر ۔۔قسط 10
" امی ۔۔ابو کو میری قدر ودر بالکل نہیں ۔میں ان کے سامنے تھی ۔وہ مجھے پہاڑ سر کر نے کے لیے کہتے اور میں کر دیتی ۔وہ مجھے بولتے تو ۔ مگر نہیں جی ۔انہیں وہ "شریف" ہی نظر آتا ہے۔ اس نے یہ کیا ۔اس نے وہ کیا ۔ دوسرے دن وہ امی کے سامنے بیٹھی اپنی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔
" پہاڑ ۔۔۔وہ کونسے پہاڑ ہیں جو تم سر کر سکتی ہو ۔ بس ایک ڈایجسٹوں کا پہاڑ ہے جو تم پوری دل جمعی سے سروکرتی ہو ۔اس سے ہٹ کر تم نے کونسا کارنامہ سر انجام دیا ۔کچھ بھی نہیں ۔ " امی اپنے ہاتھوں میں قمیض لیے بیٹھی تھیں ۔ جس کے بٹن ٹو ٹ گئے تھے ۔
" ہاۓ ۔امی پہاڑ تو نا بو لیں میرے ان معصوم سے ڈائجسٹوں کو ۔ وہ ان کی بات پر ایسے دکھ سے بولی کہ امی اسے گھورنے پر مجبور ہو گئیں ۔
" معصوم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ تمہارے بچے ہوں ۔" امی کی اس بات پر اسے ایکدم کھانسی آئ ۔تبھی باہر دروازہ پر دستک سنائ دی ۔ بلکہ دینے والا نظر آگیا ۔
" انکل ہیں کیا ۔ "
" نہیں ۔جی ۔نماز کو گۓ ہیں ۔اور آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔ہم نے تو کوئ آرڈر نہیں کیا ۔" وہ اسے یوں دروازہ پر کھڑا دیکھ کر کچھ خفیف سی ہوئ ۔پتا نہیں کیا کیا سن لیا اس نے ۔
" ہم جیسے بندے کیا صرف آرڈر دینے آتے ہیں ۔ " وہ برا مان گیا تھا ۔
ہاں تو ۔۔۔اور کیا دینے آتے ہیں ۔ " مجال ہے جو انشا نے اسکے برا ماننے پر کچھ محسوس کیا ہو ۔
" دعوت ۔ دعوت دینے آیا ہوں ۔ " اس نے کہا ۔
مجھے ۔ ؟ " وہ بہت حیران ہوئ ۔
" نہیں جی ۔ آپ تو بن بلاۓ آ نے والی بلا۔ ۔۔میرا مطلب ۔۔ " وہ جلدی سے سنبھلا ۔
انکل آنٹی کی دعوت ہے ۔ آپ بھی آنا چاہیں تو آ سکتی ہیں ۔ " وہ اسے اندر ڈرائینگ روم میں بٹھا گئ ۔کہ ابو کو جتنا پیار اس بندے پر آ تا تھا ۔ اس حساب سے اس کو عزت دینا پڑ رہی تھی ۔
" ہونہہ ۔ ہمیں تو کوئ شوق نہیں دعوت میں جانے کا ۔ " وہ اب چڑ کر اٹھ رہی تھی ۔
لیکن دعوت ہےکس چیز کی ۔ " اس کے کریدنے پر وہ اپنی مسکراہٹ اپنے ہو نٹوں میں چھپا چکا تھا ۔
" آپ تو آئیں گی نہیں ۔تو جان کر کیا کرنا ہے ۔ آپ بس یہ جانلیں کہ اگلے ماہ سے ڈائجسٹ کی قیمت بڑھنے والی ہے ۔ یعنی فضول وقت گذاری کر نے کے لیے آپ کو کچھ ایکسٹرا پیسے دینے پڑیں گے ۔"
" تو آپ کو کیوں چرکے لگ رہے ہیں ۔اگر ڈایجسٹ کی قیمت بڑھی بھی تو وہ تو ۔ وہ میرے ابو دیں گے ۔آپ تھوڑی دیں گے ۔یا ایسا کچھ ارادے ہیں ۔ وہ اب کمر پر ہاتھ رکھے اسے لتاڑنے کا پورا پروگرام بنا چکی تھی ۔
لاحول ولا قوۃ ۔خدا نخواستہ ایسا کچھ ارادہ نا اب ہے نا آئندہ ۔ بولنے سے پہلے کچھ سوچنا تو چاہیۓ ۔ وہ کچھ برافروختہ سا ہو ا تھا ۔تبھی ابو نماز پڑھ کر ادھر ہی آگۓ تھے اور وہ اٹھ گئ تھی ۔
" ایسا کیا کہا تھا میں نے ۔جو یہ لاحول پڑھ رہا تھا ۔ " وہ دل ہی دل میں سوچتی اب اندر آ گئ تھی ۔
******************
آج صبح صبح اس کا پورا صحن دھونے کا پروگرام تھا اور وہ دل جمعی سے صحن دھونے میں لگی تھی ۔ جب اس نے دستک کی آواز سنی تھی ۔
اوہ ۔یہ لوگوں کو کچھ کام نہیں ہوتا ہوگا جو یوں ہر ایک کے در پر دستک دیتے۔۔۔"اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا تھا اور اسکی بات منہ میں ہی رہ گئ۔ تھی ۔ اپنے دونوں ہاتھ اپنی پشت پر جماۓ وہ جو کوئ بھی تھا اس نے انشا کو چونکا دیا تھا ۔ اسکی بھوری آنکھیں اسی پر مرکوز تھیں ۔ اپنے دراز قد سے وہ یوں بھی منفرد لگ رہا تھا سنہری رنگت سے سجے چہرہ پر ایک اشتیاق سجاۓ وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔
جی آپ کون ۔ وہ ایک ایسے شخص کی بالکل بھی امید نہیں کر سکی تھی وہ تو افسانوی ہیرو جیسا کچھ لگ رہا تھا ۔
ہاجرہ پھپھو ہیں ۔ " اسکی رعب دار آواز سے انشا کچھ اور متاثر ہوئ تھی ۔
میں بلاتی ہوں ۔ وہ اندر بھاگی ۔
"پھپھو "۔؟( یہ امی کے کونسابھتیجا ہے جو اتنا ہینڈسم سا ہے۔۔ وہ امی کو بلاتی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔
اارے شاہہزاد ۔امی نے اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا تھا اور اسکے جھک کر سلام کرنے پر اسکے سر کی بلائیں لینے لگیں ۔
کمال ہے ۔تم کب آۓ دبئ سے ۔ " وہ اب اسے اندر لے جا رہی تھیں ۔
"ذرا امی کا جوش تو دیکھو ۔کم از کم مجھ سے تعارف تو کر واتیں" ۔ وہ اب مایوس سی کچن میں گئ تھی کہ امی نے اشارہ سے ہی اسے جاۓ اور کچھ اسنیک لانے کے لیۓ کہا تھا ۔
" اس نے فریج سے کیک نکالے تھے ۔ اور اوپر کچن کیبینیٹ سے بسکٹ اور نمکین ٹرے میں رکھے ۔اور خود ڈرائینگ روم میں آ گئ تھی ۔
اآؤ آؤ ۔بیٹی ۔ یہ آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں ۔اسجد ماموں کے بیٹے شاہزاد"۔امی نے اسے دیکھ کر وضاحت دی ۔
اور شاہ ذاد ۔یہ میری بیٹی ہے ۔انشا ۔ امی کو اب خیال آیا تو تعارف کروانے لگیں ۔
"جی اسلام علیکم "۔ شہذاد نے دلچسپی سے اسے دیکھ کر سلام کیا تو اس نے بھی انکی نظروں سے جھینپ کر وعلیکم کہا تھا اور وہاں سے ہٹ گئ تھی ۔
کسی کے نام شخصیت سے کتنا میل کھاتے ہیں ۔ وہ دل ہی دل میں سوچتی اپنے کمرہ میں چلی گئ تھی ۔
شاہ ذاد اسکی امی کے خالہ ذاد کزن اسجد کے بیٹے تھے ۔ کئ سالوں سے دبئ میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں قیام پذیر تھے ۔آج کل اپنے ملک آۓ ہوۓ تھے ۔تو سب رشتہ داروں سے میل ملاقات کے لیۓ جا رہے تھے ۔
"تو بھابی کیوں نہیں ائیں۔ تمہارے ساتھ "۔ امی اپنے خوبرو سے بھتیجے پر دل و جان سے صدقے واری جارہی تھیں ۔
"وہ آج کل طوبی آپی کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہیں ۔ اگلے ہفتہ کارڈ لیکر آنے کا کہا ہے" ۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولے تو امی مسکرانے لگیں ۔
"چلو اس بہانے تو آئیں گی ۔ خیر تمہیں بھیجا یہ بھی اعزاز ہی ہے "۔
"کیا سرخاب کے پر لگے ہیں جو اعزاز کہہ رہی ہیں ۔ آپ تو مجھے شرمندہ کر رہی ہیں" ۔ وہ اتنی عاجزی سے بولے کہ امی بھی نادم ہوئیں ۔
چلو ۔ اب شام تک رک جاؤ ۔میں بریانی بناؤں گی ۔ مٹن بریانی تو بہت پسند تھی ناں تمہیں ۔ وہ پورے جوش سے اٹھیں تو وہ اثبات میں سر ہلاتے مسکرا دیے تھے ۔
*********
تو آپ کو بھی ناول پڑھنے کا شوق ہے ۔ وہ اپنے ڈائجسٹوں کے ڈھیر سے ایک ڈائجسٹ نکال کر پڑھ رہی تھی جب وہاں شہزاد آۓ تھے ۔
وہ ۔۔۔انہیں یوں اپننے مقابل دیکھ کر جانے کیوں جھینپ گئ ۔ امی بھی ان کے ساتھ ہی تھیں ۔مگر وہ اسکی کپڑوں کی الماری میں سر دیۓجانے کیا ڈھونڈ رہی تھیں ۔
کن رائٹرز کو پڑھا اب تک ۔ انہوں نے ان تمام ڈائجسٹ کو دیکھا تھا جودیوار سے لیکر چھت تک چلے گۓ تھے ۔۔
تقریباً جو آج کل ٹرینڈ میں ہیں اور پرانے رایٹرز سبھی کو ۔ میں تو جو بھی اچھا معیاری لکھتے ہیں ان کو چھوڑتی ہی نہیں ۔ وہ اب جوش میں آگئ تھی ۔
۔ کچھ اچھے ناول میرے پاس بھی ہیں وہ میں اگلے بار آپ کو لا کر دوں گا ۔ وہ پڑھ لیں ۔ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
"اوہ ۔شکریہ بہت" ۔ انشا تو بس کھل اٹھی ۔ ویسے بھی ایک ایسی شخصیت جو بالکل یونانی دیوتا جیسی تھی اس پر اثر کر رہی تھی ۔
"یہ لو مل گیا"۔امی نےالماری میں سے اپنی مطلوبہ چیز مل جانے پر شکر ادا کیا ۔ وہ کافی دیر سے اپنی ساری کا میچنگ بلااؤز ڈھونڈ رہی تھیں جو غلطی سے انشا کے کپڑوں کے ساتھ چلا گیا تھا ۔
ا"چھا خداحافظ ۔میں پھر اؤں گا "۔ وہ ایک نظر انشا کو دیکھتے ہوۓ بولے ۔
ہاں بیٹے اگلی بار آؤ تو بھابھی کو لیکر آنا ۔ امی نے انہیں تاکید کی تھی ۔
"امی" وہ جب چلے گۓ تو انشا نے امی کو دیکھا ۔
"وہ شہزاد کہیں انگیجڈ ہیں کیا" ۔ اس نے بڑی آس سے پوچھا ۔بندے کی پرسنالٹی ہی اتنی اچھی تھی ۔
"نہیں ۔مگر تمہیں اس سب میں دلچسپی لینے کی قطعا ضرورت نہیں" ۔ امی نے اس کو اچھے سے گھورا تو وہ کھسیا گئ ۔
"میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔"
"تو اب ویسے ہی کچن میں چلو ۔ بہت کام پڑے ہیں وہاں" ۔
امی اس کا دھیان بٹانا چاہتی تھیں ۔
" ہاں چل رہی ہوں ۔مجھے پتا ہے وہ سارے کام مجھے ہی یاد کر رہے ہیں اور کچھ تو میرے فراق میں سنک میں ڈوب کر خودکشی بھی کر چکے ہو نگے "۔ وہ اب پیر پٹخ کر بو لی تو امی نے اسے دیکھا ۔
کیا ۔۔۔ کچھ بھی ۔۔۔کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتی ہو تم نا سر کی پیر کی "۔
"میں خود اوٹ پٹانگ ہوں ناں "۔اس لیۓ وہ اب جل کر بولی تو امی کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ آ گئ تھی ۔ وہ اسکے دل تک جیسے پہنچ گئ تھیں ۔
اوٹ پٹانگ تو کم ہو ۔پاگل زیادہ ہو ۔ " وہ اس کے سر پر چپت لگا کر ہنسی تھیں ۔
**********
"
ا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں