بڑا بھائ ۔۔

 بڑا بھائ

" میں نے کہا نا ۔وہ اب اس گھر میں نہیں آے گی۔ ۔اب وہ ہمارے لیے ہم سب کے لیے مر گئ ہے ۔ " وہ اس کا بڑا بھائ تھا ۔ اور بڑے بڑے فیصلے کر رہا تھا ۔ ماں اب رونے لگی تھیں ۔ بیٹی کی ضد اور گھر کی عزت اور بیٹے کا فرمان ۔۔

ایک موچی کے  بیٹے سےشادی کر دینے سے میں خود مر جانا پسند کروں ۔

باپ بھی افسردہ تھے ۔وہ بیٹے کی بات سے متفق تھے ۔

اب اس گھر سے کومل کا رشتہ ہمیشہ کےلیے ختم ۔

اس کی شادی کردیں اور ہمیشہ کےلیے رخصت کر دیں ۔ اس کے بڑے بھائ نے فیصلہ سنا دیا تھا ۔

کومل نے اپنے آپ کو دو راہے پر محسوس کیا تھا ۔ وہ عورت تھی ہمیشہ دو راہے پر اسکی زندگی آ کر ٹھہر جاتی تھی ۔

اس نے محبت چنی تھی اور سعد سے شادی کر لی ۔وہ سعد جو موچی کا بیٹا تھا ۔مگر پڑھا لکھا اور شریف ۔

وہ دونوں اس شہر سے چلے گۓ تھے ۔

کومل سے ہر رشتہ توڑ لیا گیا  ۔اسکی بھائ کی شادی ہو گئ بچے ہو گۓ اور اس کو کسی نے نہیں بلایا ۔

اس کے اپنے بچے بھی ہو گۓ ۔مگر ایک کیل دل میں دبی رہ گئ ۔وہ ایک کسک جو رشتوں سے دوری کی تھی ۔سعد اسے بے پناہ محبت کرتا تھا مگر وہ اس کے رشتے اسے واپس نہیں دے سکتا تھا ۔وہ کومل تھی ۔وہ کومل احساسات والی ،رشتے ٹوٹتے نہیں وہ ہمیشہ کا ایک زخم بن جاتے ہیں ۔ ایک ناسور کی طرح ۔

پانچ سال گذر گۓ ۔اور ایک دن ۔۔۔

ا"کبر ۔ اکبر ۔۔"اسکی اماں چلائ ۔

"دیکھ تو کومل آئ ہے ۔" وہ رو رہی تھی ۔

"میں نے اسے یہاں آنے سے منع کیا تھا ۔" وہ چیخا تھا ۔

"وہ اکیلی نہیں آئ ۔ چار کے کندھوں پر آئ ہے" ۔ وہ اب چیخ چیخ کر رو رہی تھی ۔

ا"س کی میت آئ ہے ۔ دیکھ تو ۔"

وہ پلٹا تھا ۔اس کے آنگن میں کومل کی میت آ رہی تھی ۔

یہ  اسکی آخری خواہش تھی ۔ سعد رو رہا تھا ۔

وہ اس کا بڑا بھائ تھا ۔اسکی میت کو گھر سے نکال نہیں سکتا تھا ۔

اس کی غیرت نے اسے زندہ درگور کر دیا تھا ۔

عزت غیرت اور محبت میں ہارتی عورت ہی ہے ۔

اور 

عزت محبت غیرت میں مرد عورت کو ہارتا ہے ۔ 

ختم شد ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ