میرے ہم نوا ۔۔پانچویں قسط

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔ 

اشعر کے جاتے ہی شمیم آرا باہر آگئیں تھیں ۔اور ابوالکلام کے قریب جا ٹہری تھیں جو کچھ متفکر سے لگ رہے تھے ۔انکے سفید چہرے مضمحل سا لگ رہا تھا ۔آنکھوں کے چشمہ کو وہ ہاتھ میں پکڑے جانے کیا سوچ رہے تھے کہ وہ شمیم آرا کو بھی دیکھ نہیں سکے۔ 

" کیا کہہ کر گیا اشعر ۔" شمیم آرا نے پہلے کھنکارا اور پھر کہا ۔

وہ چونک سے گۓ ۔

" " وہی جس کی اس جیسے بندے سے توقع کر سکتے ہیں ۔ " انکے لہجہ میں ناگواری جھلک رہی تھی ۔

" کیا دھمکیاں دے کر گیا ہے ۔ " 

" اگر وہ دھمکی دے گا بھی تو مجھے ان دھمکیوں سے نپٹنا بھی آتا ہے ۔" " بس فکر تہذیب کی ہے ۔  اسکو کچھ نقصان پہنچانے کی کوشش بھی میرے لیۓ ناقابل برداشت ہے ۔ " اب ان کے لہجہ میں خوف محسوس ہوا ۔

 " کیوں ،ایسا کیا کر سکتا ہے وہ ۔ " شمیم آرا کو کچھ حیرت ہو ئ ۔" وہ خطرناک حد تک ضدی ہے ۔‌اور میں نہیں چاہتا کہ اس کے ضد کی بھینٹ  میری بیٹی جڑھے ۔ " 

" اسی لیۓ میں نے نکاح جیسا قدم اٹھا یا تھا ۔" 

وہ اب جیسے اپنے آپ سے بات کر رہے تھے ۔

" " لیکن اسکے تیورمجھے کجھ اچھے نظر نہیں آرہے ۔ وہ اسکی رخصتی کو لیکر بہت زیادہ مداخلت کر سکتا ہے " 

" تو مراد اور قدیر نے کیا کہا ۔ وہ سن کر جپ رہے ۔ کچھ کہا نہیں اشعر سے کے ۔اس طرح کی باتیں اب مناسب نہیں ۔" شمیم آرا کو اب غصہ آنے لگا تھا ۔

" وہ کسی کو کہاں سنے گا ۔اسکے سر پر تو ایک بھوت سوار ہے اس سادی کو لیکر ۔ وہ نکاح کو بھی کچھ نہیں سمجھ رہا ۔" 

" ہونہہ اسکے سمجھنے نا سمجھنے سے کیا ہو تا ہے نکاح تو ایک مضبوط بندھن ہے ۔ اب وہ کیا کرے گا ۔ آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ایسی گیدڑ بھپکیوں سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔" وہ حوصہ دینے کے انداز میں بول رہی تھیں ۔

" میں کل نظیر صاحب کو طہ کو یہاں گھر پر بلا لوں گا ۔ پھر بات کرتے ہیں ۔ " انکی بات پر وہ حیران ہو ئیں ۔

" نظیر بھائ اور طہ کو ،لیکن کیوں ۔ " 

" میں تہذیب کی رخصتی کرنا چاہتا ہوں ۔جلد از جلد ۔" ابوالکلام کی اس بات پر شمیم آراکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔۔

************************

 " طہ بھائ آپکے لیۓ ناشتہ میں انڈا تل دوں ۔" اربیہ  کچن میں تھی ۔ وہ یہ سوال روز ہی کرتی تھی۔

" نہیں ۔ مجھے پالک ہی دے دو جو امی نے بنا یا ہے ۔" وہ برامدہ میں سامنے آئینہ رکھے اپنی مونچھیں تراش رہا تھا ۔ صبح کا وقت تھا گھر میں ناشتہ کی چہل پہل تھی ۔ نظیر صاحب اپنے اخبار میں گم تھے جبکہ صابرہ خود بھی کچن میں مصروف تھیں ۔

" بھائ ۔میں نے انڈہ تل دیا ہے ۔ آپ۔ کھالیں ۔ " اربیہ دسترخوان پر ذوٹی رکھتے ہوۓ بولی ۔

" تو وہ تم کھالو ۔ " اس کا  ہمیشہ کی طرح جواب تھا ۔

" یہ بڑی اچھی ٹیکنک ہے ہماری اربیہ کی ،پالک خود کو کھائ نہیں جاتی ۔اور انڈا تلا جاتا ہے بھیا کے لیۓ ۔ چالانکہ بھیا تو پالک شوق سے کھا لیتے ہیں ۔ اب انڈا اس حیلہ سے یہ تھونسیں گی ۔ " اظہار بھی وہاں آگیا تھا ۔ اسے بھی اب کالج جانا ہو تا تھا ۔

" کیوں فضول بات کرتے ہو ۔ اظہار ۔ میں انڈا تلتی ہوں بھیا کے  لۓاور دسترخوان پر پہلے تم بیٹھتے ہو ۔اور ۔۔" 

" انڈا کھاتے بھی تم ہی ہو ۔ " اربیہ نے جل کر اظہار کو گھورا جو دستر خوان پر بیٹھ چکا تھا ۔

"شکریہ اربیہ ،انڈے کے لیۓ ،طہ بھا ئ کو دوسرا انڈا ضرور تل کر دینا ۔خود کھانے بیٹھ نہیں جانا ۔" وہ مزے سے روٹی میں انڈا لپیٹے کھا تا بول رہا تھا ۔ اربیہ کو چڑانے میں اسے بڑا مزا آتا تھا ۔

" اب جاؤ تم ۔باتیں مت بگھارو ۔ " اربیہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چمٹے سے اسے دے مارا ۔

":شام میں آ کر بدلہ لوں گا ۔ " اس کا کھانا ہو گیا تو وہ کالج جانے کے لیۓ اٹھا ۔تبھی نظیر صاحب کا  فون بجا تھا۔

" ہیلو ۔ " نظیر صاحب نے اخبار ہٹا کر فون اٹھا یا ۔

" جی بھا ئ صاحب ۔خیریت " 


*******


" ہیلو ۔ " نظیر صاحب بھائ  صاحب کہنے پر طہ نے انکی طرف نظریں کیں تھیں اور صابرہ بیگم کا ہاتھ بھی رک گیا تھا ۔

" جی جی ۔ٹھیک ہے ۔ ہم کچھ دیر سے نکلتے ہیں ۔ " انہوں نے فون رکھ دیا تو طہ سوالیہ نظروں سے انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔

" تمہارے ماموں کا فون تھا ۔ انکے گھر آنے کے لیۓ کہہ رہے تھے ۔" " خیریت ۔" طہ کی آنکھوں میں کئ سوال تھے ۔

" اشعر نے انکے گھر آ کر بہت بدتمیزی کی ہے ۔ دھمکیاں الگ دے کر گیا ہے ۔ اسی بات کو لیکر وہ کچھ پریشان لگ رہے تھے ۔ " 

" " کسی زمانے میں اشعر اور انکی فیملی انکو بہت محبوب تھی ۔ " طہ نے تلخ لہجہ میں کہا تھا ۔

" اب گذری باتوں کو دہرانے کا فا ئدہ نہیں ۔ ناشتہ کرلو ۔ میں تم اور صابرہ جائیں گے ۔" انکی بات پر وہ خاموش رہا تھا جبکہ صابرہ نے ساری بات سن کر ایک تھنڈی سانس بھری تھی ۔

***********************" 

وہ لوگ ناشتہ کے ساتھ ہی نکل گۓ تھے ۔ نکلتے وقت ابوالکلام کا ایک اور فون آیا تھا کہ دوپہر کا کھا نا وہ لوگ یہیں کر لیں ۔

تکلف کی کوئ ضرورت نہیں بھائ صاحب " نظیر صاحب  فون پکڑے کویا ہوۓ۔

" ہم ایک گھنٹے میں پہنچ جائیں گے ۔ جی ۔ 

طہ ساتھ ہی ہے ۔ ارببیہ تو اسکول   گئ ہے ۔ اچھا ٹھیک ہے خدا حافظ ۔ 

روہ لوگ آٹو میں سوار ہو گۓ تب تک دن بہت چڑھ  چکا تھا ۔دھوپ میں شدت بھی محسوس ہو رہی تھی ۔ بیچ راستہ میں صابرہ بیگم نے آٹو رکوایا ۔

" کیا ہوا امی ۔ " آٹو روکنے پر وہ دونوں  صابرہ بیگم کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ 

" نکاح کے بعد پہلی بار جا رہے ہیں ۔تو مٹھائ لیکر جانا مناسب رہے گا ۔ " 

" افوہ ۔آپ کو تکلفات کی پڑی ہے۔ یہاں آپکی ایک فارمیلیٹی سے میرے مہینہ کا بجٹ بگڑ جائگا ۔ " وہ چڑ گیا تھا ۔

" بر خوردار ۔ جب  شادی کی ہے تو بجٹ تو بگڑے گا ۔مطلب جب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو پھر ۔۔۔۔" نظیر صاحب  بیٹے کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولے۔

" وہ تو لگ رہا ہے  میری خوب تواضع ہو نے والی ہے ۔ہر جا ،ہر سمت " وہ بھی طنزیہ کہتے مٹھائ لینے چلا گیا تھا ۔

**************************************.

مراد اور قدیر جب اشعر کو گھر لے آۓتھے ۔اشعر گو کہ انکے مضبوط ہاتھوں میں قید جیسا تھا گھر آتے ہی اس نے پھر سے ہنگامہ شروع کر دیا تھا ۔

" کیا کہا ماموں نے ۔" پہلا سول ثمینہ نے مراد سے پوچھا تھا ۔

" کیا کہیتے ۔ اس کی بدتمیزی پر پولس بلوانا ہی باقی تھا ۔ مراد نے اپنے سالے کو گھور کر دیکھا تھا ۔

" تو بلا لیتے ۔میں بھی دیکھتا کیسے انکی عزت کا جنازہ اٹھتا ہمارے ساتھ  ساتھ " وہ زہر خند لہجہ میں بولا ۔

" اگر تمیز کے دا ئرہ میں رہ کر بات کی جاۓ تو اس میں اٹر ہوتا ۔" 

" ہونہہ ۔" اشعر نے کندھے جھٹک دۓ۔

" ماموں تو نا پشیمان ہیں نا افسردہ ۔ وہ تو صاف دامن جھٹک دیے یہ کہہ کر کے اس نام نہاد منگنی کی کوئ حقیقت نہیں ۔ " مراد نے  کرسی پر بیٹھ کر کہا جبکہ قدیر خاموش ہی تھا ۔

" طہ میں اچانک کونسے سرخاب کے پر لگ گۓ یہ نہیں بتا یا ۔" اکبر سیٹھ بھی اشعر کی طرح ہی منہ میں زہر بھرے  بیٹھے تھے ۔

" میرے خیال میں اب اس باب کو بند کر دینا چاہیۓ ۔ نکاح ہونے کے بعد ہم یہ سب باتیں تو فضول ہی ہیں ۔ " قدیر  نے اشعر کو دیکھ کر کہا ۔

" نکاح ہوا تو کیا ہوا ۔مجھے اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا ۔" 

" خاموش ہو جاؤ اشعر۔ بداخلاقی کی بھی کوئ حد ہوتی ہے ۔شریف لوگوں میں اس طرح نہیں ہوتا ۔ ہمیں خاندان کا بھی سامنا کر نا ہو تا ہے ۔ یہ نہیں کہ جو مرضی ہو وہ کرتے پھریں ۔ " ثمینہ بھی وہیں آگئ تھیں ۔ 

" اب مٹی ڈایو ۔بس ۔ " مرادنے  بھی بیوی کی ہاں میں ہاں ملائ ۔

" چاۓ بن گئ ۔ " ساتھ ہی بیوی کو پوچھا تھا ۔

" جی ابھی بناتی ہوں ۔ " وہ اٹھ گئیں ساتھ انہیں اشارہ بھی کیا کہ دودھ منگوانا ہے ۔پیسے دے دیں ۔

اسکی آنکھ کے اشارہ پر چلتا مراد نے اپنی جیب سے کچھ رقم نکال کر بیوی کو دی تھی ۔ جسے اکبر سیٹھ نے بھی دیکھا تھا مگر وہ نظریں چرا کر رہ گۓ۔کچھ باتوں کو  وہ یوں  ہی ان دیکھا کر دیتے تھے جیسے آج کیا تھا ۔

آج کل انکے کاروبار ٹھپ تھے۔ اشعر نے بجاۓ تعلیم جاری کرنے کہ تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔اور اسے کوئ نوکری بھی نہیں ملی تھی جس سے گھر کے حالات دن بہ دن خراب ہو تے جارہے تھے۔ 

اب دونوں باپ بیٹے خاموش مگر کینہ توزی سے آگے کی پلاننگ کر رہے تھے۔

جو بھی تھا ایک سکوت تھا جو اپنے اندر سازشیں بن رہا تھا ۔

************************************

" اسلام علیکم " ابوالکلام انہیں برامدے ہی میں ملے تھے ۔ 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر