ڈائجسٹ ریڈر 8
وہ ڈرائینگ روم میں مونگ پھلی کھاتے اپنا پسندیدہ ناول جنت کے پتے پڑھ رہی تھی ۔ اس وقت چار بج رہے تھے ۔ صبح سے ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔اور بارش ہو اور محترمہ انشا مونگ پھلی نا کھائیں ۔یہ تو ہو نہیں سکتا تھا مگر ڈرائینگ روم میں کھانے کی کوئ تک نہیں بنتی تھی مگر وہ "جنت کے پتے" میں کچھ اس قدر گم تھی کہ صوفہ پر آبیٹھے ،ٹی ٹیبل پر اپنے دونوں پاؤں جماۓ۔اپنی گود میں ڈائجسٹ رکھے مونگ پھلی چھیل چھیل کر کھانے لگی تھی ۔کانوں میں ہینڈ فری بھی تھے ۔جس سے وہ اپنی پسندیدہ موسیقی سے بھی لطف اندوز ہو رہی تھی۔
وہ اس وقت بالکل وہیں تھی جب" جہاں " حیا کو پھول بھیجتا ہے ۔اور وہ ڈر جاتی ہے ۔کہ اسکے گھر کی بیل بھی بالکل ویسے ہی بجی ۔
"یا اللہ خیر ۔" اس نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیا ۔
اس نے دونوں پیر زمین پر رکھے تو گود میں موجود پھلی کے چھلکے ساتھ ہی گرے ۔وہ انہی چھلکوں پر پیر رکھتی باہر آئ تو وہاں وہی شرافت کا پتلا ٹہرا تھا ۔اپنی کیپ اس نے آج ہاتھ میں لے لی تھی جس سے اسکے گھنگھریالے بال بکھرے بکھرے سےلگ رہے تھے ۔ وہ اسے دیکھ کر ہی تپ گئ ۔
آآپ کا پارسل "۔ وہ خود بھی منہ بنا کر اس کا پارسل اسے دے رہا تھا ۔
اس نے پارسل لیا اور پھر سے وہی دو سو کا نوٹ اسے دیا تھا ۔
"چینج تو ہے نا ۔"اس کا لہجہ خود بخود طنزیہ ہو گیا ۔
"یا آج بھی برابر کہو گے ۔ "
" یہ پچاس آپ رکھ لیں ۔اور اب آپ مجھے بقیہ پیسے واپس کریں ۔اس نے پچاس روپیے اس کے ہاتھ میں تھماۓ ۔
آآپ کے پاس تو چینج ہوگا ۔"۔ اس کے لہجہ میں بھی اب طنز کی کاٹ تھی ۔
د"دیکھتی ہوں "۔ اس نے اسے گھور کر دیکھا ۔
مگر جب اندر امی کا بٹوہ ٹٹولا تو وہاں دس کے نوٹ نہیں تھے ۔
ا"امی ۔ یہ کیا ۔آپ کے پاس پجاس روپیے کے چینج نہیں ہے ۔ وہ اب جھلا کر امی کو پکار رہی تھی ۔
"دیکھ لو ۔ شاید کہیں ہو ں "۔ امی اب اسی کے پاس آ رہی تھیں ۔
نہیں ہے ۔سب بڑے بڑے نوٹ ہیں ۔ اس نے پورا بٹوہ خالی کر دیا تھا جہاں ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کے سوا کچھ نہیں تھے ۔
"یہ بڑے بڑے نوٹ کیا ہوتے ہیں" ۔ امی کی آواز آئ ۔
"بڑے بڑے لوگوں کے پاس بڑے بڑے نوٹ ہی ہوتے ہیں ۔ ہم جیسوں کے پاس نا بڑے نا چھوٹے نا چلر ۔" وہ جب خالی ہاتھ نا مراد سی واپس آئ تو اس کی دل جلانے والی بات سنی پڑیں ۔
" ہاں مگر تمہاری طرح" برابر ہو گۓ" نہیں کہوں گی ۔ جب ہونگے تب دے دوں گی "۔ اس نے ایک کڑی نظر اس پر ڈال کر کہا تھا ۔
ا"ارے بیٹا ۔تم ہو ۔اندر آؤ" اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا امی وہاں آگئیں تھیں ۔ اور اسے دیکھ کر خوش ہو گئیں ۔
"مجھے پتا چلا کہ تم حلیمہ کی بڑی بہن کی نند کے بیٹے ہو ۔ حلیمہ تو میری اسکول کی ساتھی تھی ۔" ۔امی اسے اب اندر ڈرائینگ روم میں لے کر آ رہی تھیں ۔
"جی جی آنٹی ۔ حلیمہ آنٹی سے بھی بات ہو تی رہتی ہے میری ۔اب کبھی ملا تو آپ کا سلام ضرور پیش کروں گا "۔ووخوشدلی سے انکے ساتھ اندر قدم رکھ چکا تھا ۔لیکن اندر کا حال تو ۔۔۔
وہاں صوفہ کے کشن یہاں وہاں بکھرے بکھرے، ٹی ٹیبل پر جھوٹا جاۓ کا کپ اور مونگ پھلی رکھی ہوئ تھی جبکہ اسکے چھلکے تو یہاں وہاں بکھرے ہوۓ پڑے تھے اسکے ساتھ ماہانہ ڈایجسٹ بھی اوندھے پڑے ہوۓتھے جس سے صاف پتا چل رہا تھا کہ ساری کارستانی انشا کی ہے ۔ ۔
"جاۓ بنا کر لاؤ ۔انشا "۔ امی سارے ڈرائینگ روم پر ایک نظر ڈال کر شرمندہ سی دوسرے صوفہ پر مہمان کو بٹھا رہی تھیں جو نسبتاً زیادہ صاف ستھرا تھا ۔لیکن ان کا پلٹ کر جانے کا کہنا انشا کو اپنی شامت بلانے جیسا لگا تھا ۔
وہ سر پٹ بھاگی تھی ۔اور کچن میں چاۓ کا پانی چڑھانے لگی ۔
"کیا ہماری انشا کی طرح اور بھی بے وقوف ہیں جو یہ ۔۔۔یہ ڈایجسٹ پڑھتے ہیں ۔" امی اب اس سے پوچھ رہی تھیں ۔
اور اندر کچن میں ٹہری انشا پر تپ ہی چڑھ گئ ۔
"یہ امی بھی ناں ۔ ۔اپنی ہی بیٹی کو بے وقوف کہہ رہی ہیں" ۔ اسے اپنی امی کی سادہ لوحی پر غصہ آنے لگا ۔
"جی آنٹی بہت سے گھر ہیں جہاں ڈایجسٹ آتے ہیں ۔اور پڑھے بھی جاتے ہیں ۔مگر آنٹی کوئ فایدہ نہیں ہوتا ۔اب دیکھیۓ برا مت مانیۓ ۔وہ رکا تھا ۔
ہ"ہاں ہاں بولو بیٹے "۔ امی نے اسے ایسے حوصلہ دیا ۔جیسے وہ بہت اہم مدعے پر بات کر رہا ہو ۔
اس ڈرایینگ روم کی حالت دیکھیں ۔ کسی ڈائجسٹ میں ڈرائینگ روم کا ایسا نقشہ نہیں ہوتا ۔ ایک گھر کو صاف ستھرا رکھنا گھر کی بیٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ہر چیز سلیقہ طریقے سے رکھی ہو ۔ ۔ کہیں دھول کا شائبہ نا ہو ۔تو گھر تو اسی کو کہتے ہیں ۔ یہ کیا کہ سارا گھر اوندھا پڑا ہے اور بچیاں ایسے افسانے و ناول پڑھ رہی ہیں جسکی ہیروین دوگھنٹے میں سارا گھر سینت کر, صاف کر, پکوان بھی کر لیتی ہے اور فریش ہو کر مہمانوں کا استقبال بھی کر رہی ہے ۔
" ہاں ۔بیٹے یہ تو تم نے صحیح کہا ۔اب تم ہی بتاؤ ۔اس عادت سے چھٹکارا کیسے دلائیں "۔امی بے حد قلق سے پوچھ رہی تھیں ۔
"اوہ ۔ محترم تمہارا دماغ تو میں ٹھکانے لگاتی ہوں" ۔اس نے چاۓ میں نمک ملادیا ۔
آ"آنٹی ایسی بری عادتیں یوں نہیں جاتیں ۔ڈنڈا رکھیں ڈنڈا" ۔ وہ مزے سے کہے جا رہا تھا ۔
انشا نے اب چاۓ میں مرچی ملادی ۔
"کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے کہاں مانتے ہیں" ۔ وہ بھی بلند آواز سے کہہ رہا تھا تاکہ اس تک آواز پہنچے ۔
"کمینہ "۔ اب انشا نے ادرک لہسن ملادیا ۔
ا"ارے کچھ نہیں ہوتا ۔بڑی ڈھیٹ ہے" ۔ امی نے یوں کہا کہ انشا خود چاۓ کی طرح کھولنے لگی ۔
یہ بھی صحیح ہے ۔ کافی ڈھیٹ ہیں "۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا جب انشا گرم گرم چاۓ اس کے سامنے رکھ گئ تھی ۔ انداز اتنا جارحانہ تھا کہ وہ ایکدم صوفہ کی پشت پر جا لگا ۔
"بس ایک کام اچھا کرتی ہے چاۓ اچھی بناتی ہے *۔ امی اب اسے چاۓ دے رہی تھیں ۔
"جی ۔جی "۔ اس نے چاۓ کا کپ لبوں سے لگایا تھا اور ایک گھو نٹ لیتے ہی اسے کھانسی شروع ہو گئ ۔
ارے آہستہ بیٹے ۔ "
ا"اب جاؤ پانی لاؤ ۔ ٹہری دیکھ کیا رہی ہو ۔" امی نے اسے لتاڑا تو وہ جانے کے لیے پلٹی لیکن ایک شیطانی مسکراہٹ اپنے لبوں پر سجا کر اسے دیکھا ۔
"چاۓاچھی بنی ہے نا ۔ "
اور وہ بس اسے گھور کر رہ گیا تھا ۔ اب وہ آنٹی کے سامنے آ ان ہی کی بات جھٹلا نہیں سکتا تھا ۔
جاری
قسط کیسی لگی ۔ضرور بتا دیں ۔
نازنین فردوس
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں