ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔قسط 7

  جس جس طرح سے انشا ایک ڈائجسٹ کے ہیرو کے لیۓ خوار ہوئ تھی اس کے بعد تو اس نے اپنے آپ ہی اس کھوج سے توبہ کر لی تھی ۔ اگر واقعی میں کوئ ہیرو ہوتا تو ضرور ہی اس سے ٹکراتا۔اس کی کوشش رائیگاں ہی گئ ۔

ہونہہ ۔ اب میری جوتی کو بھی پرواہ نہیں ۔ وہ کوفت میں مبتلا ہو چکی تھی ۔

آ"آیا بڑا ہیرو ۔" 

چونکہ اب امید ختم ہو چکی  تھی تو اس کا راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔لیکن اس جون کے تپتے موسم میں جب اسکے گھر کی بیل ہوئ تو۔۔۔۔۔۔

"میم آپ کا آرڈر ۔ " وہ ایک ڈلیوری بواۓ تھا ۔دھوپ سے بچنے اس نے ایک کیپ پہنی تھی ۔اسکے ہاتھ میں اس کا پارسل تھا ۔وہ اکثر آن لائن شاپنگ کرتی رہتی تھی۔ 

ابھی کچھ دنوں سے میگزین ،ڈائجسٹ بھی ،آن لائن منگوانا شروع کیۓ تھے ۔

ا"اوہ ۔ میرا ڈائجسٹ آگیا" ۔ وہ اچھل پڑی تھی ۔ لیکن ڈلیوری بواۓ کی تمسخرانہ نظروں کو بھانپ کر اپنی جون میں واپس آ گئ تھی ۔

"بل کتنے کا  ہے "۔ اس نے رعب سے پوچھا ۔کپھی کبھی رعب ڈالنا ضروری ہوتا ہے ۔

"جی ۔دو سو بیالیس  روپیے" ۔ اس نے کا روباری انداز میں کہا ۔اور پیپرز پر لکھنے لگا ۔

"ہاں ابھی لاتی ہوں" ۔ وہ اندر گئ تھی اور دو سو پچاس روپیے دیے تھے ۔ 

اس نے پارسل اسے تھمایا اور اب اپنی گاڑی اسٹارٹ۔ کرنے لگا ۔ 

اارے ۔ بقیہ آٹھ روپیۓ کون دے گا ۔ " ہا ۓاس کے آٹھ روپیۓ۔ ۔

"جی ۔وہ تو برابر ہو گۓ۔ ۔ " وہ بول کر اب نکلنے کی تیاری کر رہا تھا ۔

ر"برابر ہو گۓ ۔ ۔وہ حیران ہوئ۔" ایسے کیسے برابر ہو گۓ۔ "

" دیکھیے ۔اب میرے پاس ؛آٹھ روپیۓچینج نہیں ورنہ میں دے دیتا ۔اور ویسے بھی اتنے پیسے تو ہر کوئ رکھ لیتا ہے ۔ یہ انڈراسٹوڈ ہے ۔ وہ اسکو سمجھا رہا تھا مگر وہ ہتھے سے اکھڑ گئ ۔

یہ کیا بات ہوئ ۔ انڈر اسٹوڈ ہے ۔ ۔ وہ اڑ گئ ۔ " یہ رمضان کا مہینہ  نہیں ہے جو ہم تمہیں بخش دیں ۔" 

" او ۔میڈم ۔ یہ کوئ لاکھوں نہیں ہیں جو آپ بخش دیں گی۔  اور رمضان میں خیرات مانگنے والے بہت آتے ہیں آپ ان کو پیسے بخش کر اپنا شوق پورا کر لیں ۔اور ویسے میرے پاس چینج نہیں ورنہ آپ کے منہ پر پھینکتا ۔ وہ بھی غصہ میں‌آ گیا تھا ۔

حد ہے ۔ہمارے پیسے ہمارے ہی منہ پر پھینکو گے ۔ خود کو کیا سمجھ رہے ہو ۔ ایک تو چوری کرو گے اور پھر سینۂ زوری ۔ 

میں نے بھی ویب سائٹ پر شکایت کر دینی ہے اور کمپلین بھی کہ آپ کے  ایمپلائ نے بد تمیزی کی "۔ اسے بر وقت اپنی صلاحیتوں کا پتا چلا تھا ۔

"دھمکی دے رہی ہیں ۔" اس کا چہرہ بھی غصہ سے سرخ ہو گیا ۔

" آپ کے آٹھ روپیے میں شام تک دے جاؤں گا ۔ خاطر  جمع رکھیں ۔ " وہ اب پلٹ کر گاڑی اسٹارٹ کر رہا تھا ۔

ہاں ہاں ۔ دینا پڑے گا ۔ ہمارے پیسے کوئ۔ پیڑ پر نہیں اگتے ۔ بہانہ تو دیکھو ۔چینج نہیں ہے ۔  تو چینج تو رکھنا چاہیے ۔کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ یہ نہیں کہ پیسے ہی نہیں دیں گے ۔ چینج کا کہہ کر ۔ کیا پتا دو گے بھی یا نہیں " 

یہ روپیے آپ ہی رکھ لیں ۔ میں جب تک آپ کے آٹھ روپیے لا کر نہیں دیتا ۔ اس نے وہ روپیے اس کے ہاتھ پر رکھے تھے اور چلا گیا تھا ۔

ان کی انا او ر خود داری کو تو دیکھو ۔ ہو نہہ " وہ غصہ میں بڑ بڑاتی اندر آگئ تھی ۔

 ارے کیا ہوا ۔کیوں بڑ بڑ کرہی ہو ۔ " امی کی آواز آئ تھی ۔ 

" کچھ نہیں ۔ڈائجسٹ آگیا ہے اس ماہ کا ۔ " وہ اب اپنے کمرے میں جا رہی تھی ۔بن پیسوں کے آیا ہے یہ سن کر جوتے ہی پڑنے تھے اسے ۔اس لیے اس بات کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا تھا ۔

شام میں وہ جب اپنے کپڑوں کے ڈھیر پر ڈائجسٹ رکھے سو کر پڑھ رہی تھی تب  امی آئ تھیں ۔

انشا ۔جوس بنا دو ۔ تمہارے ابا کے کوئ دوست آۓ ہیں ۔

ا"اوہ ۔ ہو ۔یہ ابا کے مہمان ۔۔میرے ڈائجسٹ پڑھتے ہوے ہی آتے ہیں ۔بعد میں نہیں آ سکتے تھے۔ " وہ چڑ کر اب جوس بنا نے اٹھی تھی ۔

جب جوس بنا کر ڈرائینگ روم میں گئ تو وہاں وہی ڈلیوری بواۓ صوفہ پر بڑے ادب سے بیٹھا تھا ۔

ا"ابو ۔"اس نے پکارا ۔

ا"ارے ہاں ۔آؤ انشا ۔ " انہوں نے اسے اندر بلایا تو نا چار اسے جانا پڑا ۔

"بیٹے ۔یہ اپنے ہی محلے کا بچہ ہے ۔تم نے اسے خود مخواہ ڈانٹ دیا ۔کافی شریف اور دیانت دار بچہ ہے ۔ " شاید ابا تک بات پہنچ چکی تھی ۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے اس جوس پینے والے کو دیکھا ۔

مگر ابا ۔ انہوں نے پیسے دینے کے بجاۓ پیسے برابر کہا تھا ۔اگر پہلے ہی صاف کہہ دیتے کہ میرے پاس چینج نہیں تو میں کیوں ان سے بحث کرتی ۔ میری بات بھی درست تھی" ۔آخر اتنے ڈایجسٹ پڑھنے کے بعد ایک مضبوط دلیل دینے اسے بھی آگیا تھا ۔

لیکن بیٹے ۔

انکل ۔یہ صحیح کہہ رہی ہیں ۔میں ہمیشہ چینج رکھتا ہوں ۔آج اتفاقا میرے پاس کھلے پیسے نہیں تھے اور میں ذرا جلدی میں تھا ۔اس لیۓ بغیر بات کلیر کیۓ میں نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔تو عجلت میں میں نے کہا تھا کہ وہ پیسے تو برابر ہو گۓ ۔حالانکہ میرے ذہن میں وہ رقم محفوظ تھی جو واجب الادا تھی ۔

ا"اوہ ۔ذرا دیکھو ۔کیسے  بات کور کر رہا ہے ۔ شرافت کا پتلا" ۔ وہ دل ہی دل میں اسے کوس رہی تھی ۔

ا"اب جو بھی ہو ۔ بیٹے ۔یہ ایسی بات نہیں تھی کہ تم کسٹمر کیر کو شکایت کرنے کا کہتیں" ۔ ابا اس شرافت کے پتلے کے مکمل حمایتی بنے بیٹھے تھے ۔

آ"آپ اس  کا کیا کہہ رہے ہیں پرسوں بازار گئ تھی ۔وہاں بھکاری سے بقیہ پیسوں کے لیے لڑ رہی تھی"۔ امی بھی وہیں آ گئ تھیں ۔

"لو اب انکی ہی کسر رہ گئ تھی" ۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھری ۔

سچ میں ۔ ابا حیران ہوۓ۔ 

جبکہ وہ شرافت کا پتلا سر جھکاۓ اپنی ہنسی روکنے میں مصروف تھا ۔

خیر ۔اب آئیندہ سے ان باتوں کا دھیان رکھنا ۔اور جو انکی رقم بنتی ہے وہ انہیں لا کر دے دو ۔ " ابو نے بات ختم کر نی چاہیے ۔

"جی "۔ وہ اندر جا کر پوری رقم اس کو دے کر بیٹھ گئ 

شکریہ انکل ۔ویسے آپ کو کچھ بھی ضرورت ہو ۔مجھے کال کر لیں ۔یہیں دو گلی چھوڑ کر ہی تو گھر ہے ۔میرا ۔" وہ اب اٹھتے ہوۓ بولا ۔ 

ہاں ضرور ۔ بیٹے ۔آتے رہا کرو ۔ " ابو خوشدلی سے بولتے اسے دروازہ تک چھوڑنے کۓ تھے۔

" اپنے ہی محلے کا نکلا یہ ڈلیوری بواۓ ۔ اور اچھا اخلاق والا ہے ۔ انجینیرنگ پڑھ رہا ہے ۔ گھر کا بڑا ہونے سے ذمہ داریاں ہیں تو یہ کام شروع کیا ہے ۔ جیسے ہی ڈگری مکمل ہو گی ۔نئ جاب ڈھونڈ لے گا ۔ وہ واپس آ کر اب اس ڈلیوری بواۓ کی تعریفیں کر رہے تھے ۔ 

انشا نے سنا ان سنا کر دیا ۔اس کو کیا غرض کہ وہ کیا کرتا ہے اور کیا نہیں ۔البتہ آگے کے لیے اسے اس کے سامنے مہذب رہنا پڑے گا ورنہ شریف لڑکا کبھی بھی  شکایت کر سکتا تھا ۔

بقیہ آئندہ 



۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ