ڈائجسٹ ریڈر ۔۔قسط 6
اس سے پہلے کہ سر ابرار بے مروتی سے کار آگے بڑھا تے ۔اس نے انہیں روک لیا ۔
سر ۔سر ۔ میں چلوں گی آپ کے ساتھ ۔" اس نے بارش سے اپنے آپ کو بچاتے کہا تھا ۔
اوکے ۔بیٹھ جائیں ۔ انہوں نے فرنٹ ڈور کھولا اور وہ جلدی سے بیٹھ گئ ۔
سر ابرار انہیں ہسٹری یعنی تاریخ پڑھاتے تھے اور پڑھاتے پڑھاتے تار,خ میں کچھ اس طرح غرق ہو جاتے کہ خود تاریخ کا ایک کردار بن جاتے ۔
آ"آپ کا گھر ۔۔"۔انہوں نے اسکے گھر کا ایڈریس پوچھا اور وہ بتانے لگی ۔
جب ایڈریس بتا کر خاموش ہو ئ تو گاڑی میں گانے چل رہے تھے ۔
جب دل ہی ٹوٹ گیا ۔
اس دل کا کیا کریں گے
اس نے بڑی حیرانی سے انہیں دیکھا ۔
ستر سالہ عمر کے اس دور میں ان کا کونسا دل ٹوٹ گیا ہو گا ۔جسکی وہ دہائ دے رہے ہیں ۔
کیا اس عمر میں بھی لوگ ٹوٹے دل کی دہائ دیتے ہیں ۔ وہ افسوس اور رنج میں گھر گئ تھی۔
آ"پ نے میرے مضمون کے اسائنمنٹ مکمل کر لیے ۔"
انہیں یاد تھا کہ اسکے اسائنممنٹ اکثر نا مکمل ہو تے تھے ۔
اور وہ نا صرف تاریخ بلکہ اس جیسی نکمی طالب علم کو بھی یاد رکھے ہوۓتھے ۔
یوں تو اسے بہت زیادہ پڑھنے کا شوق نہیں تھا مگر تاریخ ۔۔۔تاریخ سے تو اسے حد درجہ چڑتھی ۔ مجبوری میں لیا گیا یہ مضمون اسے ناکوں چنے اکثر چباتا رہتا تھا ۔وہ اکثر سن پیدایش سن وفات بھولتی رہتی ۔ کونسی جنگ کب شروع ہوئ اور کب ختم یہ تو رٹا مارتی تب بھی اکثر بھول جاتی ۔ سارے جواب یاد رکھتی اور سن تاریخ کا حصہ خالی چھوڑ دیتی ۔ جس سے اس کے نمبر ہمیشہ کم آتے تھے ۔جس کےلیے اکثر ڈانٹ بھی پڑتی کہ سب کچھ لکھا اور سن پیدایش سن وفات چھوڑ دیا ۔
اور اس کی دلیل ہو تی تھی کہ کیا کریں گے جان کر کہ بابر کب پیدا ہوا اور وفات کب ہوئ ۔پرسہ دینا تو نہیں ہے ۔ جو گذر گیا بس گذر گیا ۔
"جی ۔ابھی کر رہی ہوں."
آپ کو پتا ہے پانی پت کی جنگ کا ۔" سر ابرار کو موقع بہت مناسب لگا تھا ۔پانی پت کی جنگ کو چھیڑنے کا ۔
اور اب وہ پورے جوش و خروش سے جب دل ہی ٹوٹ گیا کے ساتھ ساتھ اسے پانی پت کی جنگوں کے بارے میں بتا رہے تھے ۔اور وہ بیگ پر نظریں جماۓسن رہی تھی ۔صرف سن ہی رہی تھی پلے تو کچھ بھی نہیں پڑ رہا تھا ۔
"سمجھ گئیں ناں آپ ۔" سر ابرار نے پوری پانی پت کی جنگ آدھے گھنٹے میں نبٹا لی تھی ۔اور اب وہ شاید کسی دوسری جنگ کا آغاز کرتے اس سے پہلے اس کا گھر آ گیا تھا ۔
جی سر بس گھر آ گیا ہے ۔ آپ اندر آجائیں۔ جاۓ پی کر جائیں ۔ اس نے اخلاقا کہا اور دل ہی دل میں شکر منارہی تھی کہ پانی پت کی جنگوں سے نجات ملی ۔
" جی ۔پھر کبھی ۔ "
اب گاڑی میں کے ایل سہگل سے "مکیش "کا سفر شروع ہو گیا تھا اور اس سے پہلے کہ مکیش کے درد بھرے نغمے شروع ہوتے اس نے گاڑی سے اتر کر ایک ٹھنڈی سانس بھری تھی ۔
ا"اسائنمنٹ وقت پر مکمل کر دیں "۔ اسے ایک استادانہ سرزنش کرتے سر ابرار کار آگے بڑھا لے گۓ تھے ۔اور وہ ان ڈایجسٹ رائٹرز کو کوس رہی تھی جن کے افسانوں میں ہیروئن اکثر بارش میں پھنس جاتی ہے ۔ اور ایسے میں ہیرو جسکے پاس کار بھی ہوتی ہے اور وہ بھی شوروم سے نکلی ۔جس میں بیٹھ کر وہ ہیروئن کو لفٹ کی آفر دیتا ہے ۔( پتا نہیں وہ خود اتنا بے کار کیسے رہ سکتا ہے جو کار میں شہر کی گلیوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوگا ۔ )
اور ہیروین کے نخرے تو ماشااللہ ۔
نہیں میں خود چلی جاؤں گی ۔
ارے بھئ سنسان سڑک جہاں نا آٹو آتے ہیں نا رکشے ۔صرف ایک بس کا سہارا جو اکثر دغا دے جاتا ہے تو ایسے میں آپ خود سے کیسے جائیں گی ۔ پیدل تو جانے سے رہیں ۔پھر فضول کی ڈرامہ بازی کیوں ۔
یر ۔میری قسمت میں تو وہ بیکار ہیرو بھی نہیں بلکہ سر ابرار ٹکرا گۓ اور جو انہوں نے جنگ کا ذکر چھیڑا تھا تو دل تو چاہ رہا تھا تیسری چوتھی جو بھی عالمی جنگ ہو اس کا بگل بجا ہی دوں ۔ایک کلاس کافی نہیں تھی جو کار میں بھی ۔۔۔وہ جلتی کڑھتی بہر حال گھر میں داخل ہو چکی تھی ۔
جاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں