ڈائجسٹ ریڈر قسط 5

  وہ امی کو لیکر بازار آ تو گئ تھی اور گھوم پھر رہی تھی ۔مگر اسے اپنا مطلوب کہیں نظر ہی نہیں آیا ۔ امی بھی بے مطلب پھر کر بیزار ہو چکی تھیں ۔

آخر تمہیں لینا کیا ہے ۔ سوٹ پسند کرنے جاتی ہو اور ساڑی پوچھنے لگتی ہو ۔اور کپڑوں کی دکانوں پر بیگ پوچھنے کی کوئ تک بھی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے تمہیں لینا وینا کچھ نہیں ہے بس خوار ہی ہونا ہے ۔ 

" ایسی بات نہیں ہے امی ۔ مجھے یہ رنگ کا دوپٹہ چاہیے تھا ۔مل ہی نہیں رہا ۔ اس نے جلدی سے اپنا پہنا ہوا دوپٹہ ان کے سامنے کیا تھا ۔

" ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر میچنگ سنٹر میں تم بالوں کے کلپ پوچھ رہی تھیں ۔ اور خریدا تو تم نے کچھ بھی نہیں ۔ ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا تھا  ۔

جی ۔ اب دیکھتی ہوں ۔ کچھ لینے کی کوشش کرتی ہوں ۔" وہ اندر دوکان میں جا ہی رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے آواز دی ۔کسی نے اس کا دوپٹہ پکڑ لیا تھا ۔

یا اللہ ۔ اس نے آنکھیں پٹپٹائیں ۔

" کیا وہ مجھے یوں راستہ میں روکے گا ۔ اب میں امی کو کیا کہوں گی ۔ " وہ بیچ سڑک پر خوامخواہ شرما رہی تھی ۔

جب ایک بار اور اس کا پلو کھینچا گیا تو وہ اپنے بال لہراتی پلٹی تھی ۔

سامنے ایک بے حد گھنگھریالے بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک بھکاری ہاتھ پھیلاۓ ہوۓ تھا ۔

باجی ۔اللہ کے نام پر کچھ خیرات کر دو ۔" بھکاری کی صدا۔

اف ۔ یہ بھکاری ۔ " اس کی ساری شرم اب غصہ میں بدل گئ تھی ۔

" یہ لو ۔ " اس نے دس کا نوٹ دیا ۔پیچھے سے روکنے،" میں ہی اسے ملی تھی ۔ "

" بقیہ آٹھ روپیے واپس کرو ۔ کہاں جا رہے ہو ۔ " اس نے غصہ سے اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ آگے کیا ۔

" اے شرم کرو لڑکی ۔ کیا بھکاری کے سامنے ہاتھ پھیلا کر ٹہری ہو ۔ کچھ شرم ورم ہے کہ نہیں ۔ " امی نے اسے دیکھ لیا تھا اور اب وہ اسکے سر پر پہنچ چکی تھیں 

" تو امی ۔ اس کو پورا دس کا نوٹ دیا ہے ۔ بقیہ پیسے نا لوں کیا ۔ " وہ جھلائ . متوقع ہیرو بھکاری میں تبدیل ہو گیا تھا اس کا غم کچھ سوا تھا ۔

" تو نوٹ دینے کی ضرورت کیا تھی ۔ اب بھکاری سے پیسے واپس مانگتی اچھی لگو گی ۔ چلو اندر ۔ " وہ اسے گھسیٹ کر اندر دوکان میں لے گئ تھیں ۔

 وہ  کھسیائ سی ان کے ساتھ اندر چلی گئ تھی ۔

"جی کیا چاہیے میم آپ کو ۔ "سیلز مین نے بڑے ادب سے ان کے پاس آکر پوچھا ۔

"جی ۔ہیرو ۔وہ ڈایجسٹ کا ہیرو ۔ ہے آپ کے پاس ۔" انشا بڑ بڑائ تھی ۔

جی ؟ 

"ارے بیٹے دوپٹہ چاہیے  اس رنگ کا" ۔ امی نے سبز رنگ  بتایا ۔

"جی ۔ابھی لیں ۔ بلکہ یہاں پورے دوپٹوں کا سٹ ہے آپ کلر دیکھ لیں جو سمجھ آجاۓ وہ لے لیں "۔ اس نے ایک بڑا سا بنڈل ان کے سامنے رکھا ۔

ا"اب دیکھ لو" ۔ امی نے بنڈل اس کی جانب کھسکایا ۔

"امی ۔ اس میں نہیں ہے  "۔ اس نے پورے دوپٹے چیک کر لیے تھے ۔اسے دراصل اس کلر کا دوپٹہ لینا ہی نہیں تھا ۔

"ہائیں ۔ پھر ایسا کونسا انوکھا رنگ ہے تمہارے دوپٹے کا جو مل نہیں رہا" ۔ امی کو اچنبھا ہوا ۔

"وہ اب چلتے ہیں میں پھر آؤں گی ۔ "وہ چپ چاپ یہاں سے کھسک جانا چاہتی تھی ۔

" دو گھنٹے سے مجھے خوار کر رہی ہو اور اب کہہ رہی ہو کہ پھر آؤں گی ۔ جب لینا ہی نہیں تھا تو آئیں کیوں "۔ وہ وہیں شروع ہوگئیں ۔

ا"اب چلیں بعد میں ڈانٹ لیں "۔ وہ سیلز مین بڑی بے شرمی سے اسے دیکھ کر بلکہ اسکی درگت بنتی دیکھ کر ہنسنے لگا تھا۔وہ انہیں وہاں سے اٹھا چکی تھی ۔

"دماغ خراب کر دیا ۔ دو گھنٹے اور پیسوں کا ضیاع "۔امی مسلسل اس پر غصہ اتار رہی تھیں اور وہ دل ہی دل میں اس نا دیدہ ہیرو کو کوس رہی تھی ۔

" صرف تمہاری خاطر آج اتنی خوار اٹھائ ہے ۔ کبھی سامنے آؤ گے تو بتاؤں گی ۔" 

*************

۔ اب ہماری انشا کے لیۓ تو ہیرو شاید کوہ قاف میں چھپا بیٹھا تھا جو آ کر نہیں دے رہا تھا ۔ وہ اب کالج کے آخری سال میں تھی ۔ پڑھائ تو وہ یوں بھی براۓ نام ہی کر رہی تھی ۔البتہ ڈائجسٹ کا مطالعہ خوب زور و شور سے چل رہا تھا ۔

اس دن کالج گئ تو دھوپ اچھی خاصی تھی ۔دور دور تک بادل ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آ رہے تھے لیکن کالج کے ختم ہونے تک بارش اچانک اتنی بڑھ گئ کہ وہ کالج میں پھنس کر رہ گئ ۔لائیبریری میں ماہا ملک کو پڑھتے پڑھتے وہ اپنے آس پاس کے ماحول سے یوں کٹ گئ  تھی کہ جب بادل زور زور سے کڑکنے لگے بجلیاں چمکنے لگیں تو ماہا ملک کو چھوڑ وہ اب "ماں "کو یاد کرنے لگی ۔

کالج گھر سے کافی دور تھا تقریباً ایک گھنٹہ کی مسافت تھی ۔ اور جب وہ باہر آئ تو اسکی آخری بس بھی نکل گئ تھی ۔ اور آٹو رکشہ جیسے سب ہڑتال پر چلے گۓتھے ۔ برستی بارش ،اندھیرا اور دور دور تک جاتی خالی سڑک ۔ وہ رونے کو آ گئ ۔

اپنے بیگ کو مضبوطی سے پکڑے وہ اب دعا ؤں پر آگئ تھی کہ اب یہی سہارا لگ رہا تھا ۔تبھی اسکے قریب ایک بلیک مر سیڈیز کار کے ٹایر چر چراۓ۔ اور وہ بدک گئ ۔سامنے دیکھا تو صرف کار  نظر آرہی تھی ۔ کیونکہ کار کے ونڈوز ابھی اتارے نہیں گۓ تھے ۔

اوہ ۔ تو اب شاید کوئ ہینڈسم سا شخص کار کا دروازہ کھولے گا اور کہے گا ۔

آ"آئیۓ مس میں آپ کو ڈراپ کر دوں ۔ " 

" تو مجھے کیا کہنا ہو گا ۔ وہ سوچنے لگی ۔

" جی نہیں شکریہ ۔ میں چلی جاؤں گی ۔ " وہ دل ہی دل میں ڈائیلاگ دہرارہی تھی ۔

"آر یو شیور آپ چلی جائینگی ۔ " اس آواز پر اس نے چونک کر اس کار میں بیٹھے شخص کو دیکھا اور یکدم اچھل پڑی ۔

"سر ابرار ۔ " وہ اسکے ہسٹری کے ستر سالہ سر تھے جو تاریخ کو پڑھاتے پڑھاتے  خود تاریخی  کردار ہو جاتے تھے 

"جی ۔میں چلی جاؤں گی ۔" اس نے مری مری آواز میں کہا ۔ بادل اور بجلیاں جس طرح مقابلہ بازی پر اتر آۓ تھے اس سے تو اگلے چار پانچ گھنٹوں تک بارش کے آثار رکنے والے تو نہیں لگ رہے تھے ۔مگر وہ انکار کر چکی تھی ۔اب کیا کرتی ۔

اوکے ۔ ایز یو وش ۔ " سر ابرار نے اسے دیکھ کر اب کار اسٹارٹ کرنا شروع کر دیا تھا ۔

جاری 

قسط کیسی لگی کمنٹ میں بتا دیں ۔😊۔۔





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ