ڈایجسٹی ریڈر ۔۔۔قسط 4

 وہ تمام دسترخوان کی نعمتوں پر ٹوٹ کر حملہ آور ہو چکی تھیں ۔ سارے ادب آداب کو بالاۓ طاق رکھ کر ۔

جب واپس ہال میں آئیں تو کئ کی لپ اسٹک ،چکن کے ساتھ شکم میں اتر چکی تھی اور کئ نے بریانی اور رائتہ کے ساتھ میک اپ پر بھی ہاتھ صاف کر لیا تھا ۔

اچکن لیگ پیس کو کھاتے ہوے تو یوں بھی چہرے کے زاویۓ بگڑ جاتے ہیں ۔اس کے ساتھ۔ چٹخارہ دار چکن تندوری ہو تو آنکھوں کے پانی کے  ساتھ مسکارا بھی بہہ جا تا ہے ۔

اور اب ان  سب کے چہرے ما بعد طوفان کے نظارے پیش کر رہے تھے ۔

اور اب  میک اپ کا ایک اور دور چل رہا تھا ۔بزرگوں نے تو انہیں ان کے حال پر ویسے بھی چھوڑ دیا تھا ۔ 

وہ تمام ایک بار پھر میک اپ کے "جدید دور "سے گذر رہی تھیں ۔جب شریف بھائ  وہاں آۓتھے ۔

"  شادی حمنہ کی ہو رہی ہے یا تم لوگوں کی ۔ کیا دھرا دھڑ کریم پر کریم تھوپ رہی ہو تم لوگ ۔ " وہ ان کے میک اپ پر چراغ پا لگ رہے تھے ۔ 

" نہیں شریف بھائ ۔ شادی تو حمنہ کی ہی ہو رہی ہے ۔ ہماری ایسی قسمت کہاں ۔ " دیبا فیس پاؤڈر لگاتے مگن انداز میں بولی تھی ۔

" اچھا ۔قسمت پر رو رہی ہو ۔ کہ ۔۔۔۔"  مارے شرم کے شادی جیسا لفظ ان کے منہ سے نا نکل سکا ۔ بس چہرہ لال پیلا ہو گیا ۔چونکہ وہ صرف نام کے نہیں حقیقت میں بے حد شریف تھے ۔ چہرہ پر شرعی داڑھی بھی تھی جس سے وہ بے حد رعب دار  لگتے تھے ۔

" نہیں ۔شریف بھائ ۔ وہ تو اب فوٹو سیشن کے لیے تھوڑا اپنا حلیہ ٹھیک کر رہے تھے ۔ ایسی ویسی تو کوئ بات نہیں ۔ " جبین نے دیبا کے ہاتھ سے پاؤڈر چھین لیا تھا اور اب دوپٹہ لے کر خود مشرقی لڑکی کی طرح سر جھکا گئ تھی ۔

" ہمم ۔ٹھیک ہے ۔ " وہ ان سب پر ایک تیز نظر ڈالتے چلے گے تھے ۔

" واہ رے قسمت ۔۔ ہماری ڈایجسٹی رایٹرز کو  ہینڈ سم  نہایت سمارٹ سے کزن کہاں سے ملتے ہیں ۔ایک ہمارے کزن موصوف ہیں جنہیں دیکھ کر "ابا "بولنے کو جی چاہتا ہے ۔ " جبین بڑی دل سوزی سے اپنے دل کے پھپھو لے پھوڑ رہی تھی ۔

۔ "شریف بھائ  اور ابا ۔۔۔"وہ پوری کی پوری قل قل ہنسنے لگیں تھیں ۔چونکہ  یہ خطاب بہت فٹ لگ رہا تھا شریف بھائ پر ۔

اور کیا ۔ایک شریف ہیں تو دوسرے حسیب ہیں جنہیں ہمیشہ کرانہ کی دکان اور اسکے حسابوں سے فرصت نہیں ملتی ۔کہاں ڈایجسٹ کے خوبرو سے کزن جو خوش قسمتی سے اچھے عہدوں پر بھی فائز  ہو تے ہیں ۔اور دولت مند بھی ۔اور ایک ہمارے کزن ہیں ۔

پتا ہے پر سوں بڑی امی امی کو بتا رہی تھیں کہ حسیب بھیا تو کاروبار میں اتنے غرق رہتے ہیں کہ نیند میں بھی الایچی ،گرم مصالحہ کی پڑیا بناتے رہتے ہیں اور زور زور سے پکارتے ہیں ۔

ایک چھٹانک شاہ زیرہ ۔۔۔

آدھا چھٹانک دار چینی ۔

 وہ یہ سب سن کر حیران ہو گئیں تھیں ۔

" یا اللہ خیر ۔ہمیں ان دونوں" شریف  برادران  سے بچا" ۔ان سب نے اجتماعی انداز میں دعا کی تھی اور ہنس کر ایک دوسرے کو آمین کہا تھا ۔

انشا کے لیے بھی یہ سب نئ باتیں تھیں ۔ وہ واقعی اب تک اپنے آپ کو ہی ہیروین سمجھ کر مسکراتی رہتی تھی لیکن اب اسے بھی ایک عدد ہیرو کی شدید ضرورت محسوس ہو نے لگی ۔

" یہ بات تو صد فیصد درست ہے کہ جہاں ہیروئن ہو وہاں ہیرو نا ہو ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے اور آج کل وہ ایک عدد ہیرو کو اپنے آس پاس تلاش کرنے لگی تھی ۔اب بھلا ہیرو کی انٹری کیسی ہو گی ۔وہ سوچنے لگی ۔ اور اپنے دماغ پر زور  ڈالنا چاہ رہی تھی ۔مگر پھر یہ سوچ کر کہ 

ارے ۔ہیرو کو آنا ہو گا تو خود ہی آجائیگا میں کیوں دماغ پر زور ڈالوں ۔اونہہ ۔۔۔"

لیکن ایک انتظار سا ہو نے لگا کہ کہیں سے تو وہ آ ئیگا ۔اور کہے گا ۔

"انشا ۔آپ تو بالکل ویسی ہی ہو جیسا میں نے سوچا تھا ۔"

اب اس نے کیا سوچا ہو گا یہ تو اسے ہی معلوم ہو گا ۔بیچاری انشا تو اس سے لاعلم ہی ہو گی ۔


ہاے ۔پتا نہیں وہ کب آئیگا۔" دعوت سے واپس آکر آج کل وہ بس ایک ہیرو کی انٹری کا خواب ہی دیکھ رہی تھی ۔  

انشا ۔انشا ۔ ذرا باہر آؤ ۔ " امی اسے پکار رہی تھیں ۔ وہ جو ہیرو کی انٹری سوچ رہی تھی ایک دم چونک گئ ۔

" کیا ہوا امی ۔ " 

ارے ۔ذرا دروازہ پر دیکھو ۔‌دستک ہو رہی ہے ۔ " 

( ہاۓ ۔کہیں وہ ہیرو ہی نا ہو ۔ مگر اتنی جلدی آگیا ۔)

وہ بھاگ کر گئ تھی ۔اور جھٹ سے دروازہ کھولا تھا ۔

" جی ۔بی بی ۔کتنا لیٹر دودھ دوں ۔ وہاں ملیا دودھ والا کھڑا تھا ۔ اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ ۔

" میں برتن لاتی ہوں ۔ وہ اسے گھور کر واپس کچن میں چلی گئ تھی ۔

کون تھا ۔" 

امی ۔دودھ والا تھا ۔آپ تو ایسے آواز دے رہی تھیں مجھے میں تو سمجھی تھی کہ ۔۔۔۔" اسکی بات ادھوری رہ گئ تھی ۔

" تو تم کیا سمجھیں تھیں بھلا ۔یہ وقت تو دودھ والے کا ہی ہے ۔ " امی نے اسے حیرانی سے دیکھا ۔

" ہاں ہاں وقت تو بس دودھ والے ،چاۓ والے کا ہی چل رہا ہے ۔ پتا نہیں ہمارا وقت کب آئیگا ۔ وہ برتن میں دودھ لے کر دروازہ  دھاڑ سے بند کر چکی تھی ۔ ملیا بیچارا تو اس دھاڑ پر پریشان سا ہو گیا کہ آج چھوٹی بی بی  نے ایسا کیوں کیا ۔اسےکیا معلوم چھوٹی بی بی  منہ بسورے اپنے کمرے میں ہیرو کی انٹری کے نت نۓ خواب دیکھ رہی ہیں ۔

"ضروری تو نہیں کہ وہ میرے گھر پر آۓ ۔(!ویسے میں نے اسے بلایا بھی نہیں ۔ ) چلو بازار جاتی ہوں "۔ 

"ہاۓ کیا پتا وہ بازار میں مجھ سے ٹکرانے ۔" 

"آخر میں گھر میں رہوں گی توایک ہیرو سے ملاقات تو ہو نے سے رہی ۔ دودھ والے سبزی والے سے ہی ہوگی ۔"

"ہاں ۔آج شام میں بازار جاؤں گی ۔ امی کے ساتھ ۔" وہ دل ہی دل میں منصوبہ بنا چکی تھی ۔ 

جاری 

ااپنی راۓ ضرور دیں ۔

نازنین فردوس۔

ا





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ