ڈائجسٹ ریڈر ۔۔قسط 3

  " جو بھی تھا مگر میں تو بہت منفرد لگ رہی تھی ۔امی " اس کی سوئ وہیں اٹکی تھی ۔

"  لگتا ہے تم تو سدھرنے والی نہیں ۔مگر اب جو بھی ہو ۔منفرد بننے کی کوشش مت کرنا ۔ " امی نے اسکے سامنے باقائدہ ہاتھ جوڑے تو وہ شرمندہ سی ہوئ ۔

" ارے نہیں امی بس آپ پریشان نا ہوں ۔ بس نارمل سے تھوڑا ہٹ کر تیار ہونا اچھا لگتا ہے ۔ " 

" وہی تو ابنارمل  بن کر چلنے سے اچھا ہے ۔تم نا چلو ۔ " اس کے انداز پر امی کی جان جلی تھی ۔


" امی ۔آپ مجھے دعوت میں لیجانا چاہ رہی ہیں کہ نہیں ۔ " اب وہ بھی چڑی ۔

" نمونہ مت بننا بس ۔  مگر جلدی کرو ۔"۔ وہ آف موڈ کے ساتھ ہی باہر چلی گئیں ۔

" اور وہ جب تیار ہوئ تو اسے  دیکھ کر ان کی جان جل کر خاک ہو گئ تھی ۔

ہلکے سرمئ رنگ کے   گولڈن بارڈر والا سوٹ جس پر ہلکا سا کام تھا ۔اور فل دوپٹہ بنا میک اپ کے  ہلکی سی میچنگ جیولری پہنے وہ مکمل ڈایجسٹی ہیروئن  بن کر ان کے سامنے تھی ۔ انہوں نے خون کے گھونٹ پی کر اس کے ساتھ جانے کا قصد کر لیا تھا ۔اگر اب بحث کا آغاز کرتیں تو دعوت رہ جاتی اور شام تک اس کا موڈ آف رہتا ۔اس لیے انہوں نے مصلحتاً خاموشی اختیار کر لی ۔

*******

وہ لوگ جب پہنچے دعوت اپنے عروج پر تھی ۔وہ سیدھا اپنی کزنز کے پاس چلی گئ تھی ۔ جنہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے قوس قزح کے سارے رنگ انہوں نے پہن لئے ہوں ۔

جبین نے گہرے گلابی رنگ کا غرارہ پہنا تھا جبکہ صفورہ نے  گہرے آتشیں رنگ کا انار کلی پہنا تھا ۔اسی طرح اسکی دوسری کزنز  بھی شوخ رنگ پہنے، گجرے ،مہندی لگاۓ ایک الگ دنیا کی باسی لگ رہی تھیں ۔

" ارے ۔یہ اپنی انشا ہے ۔کیوں بھئ تمہیں کس نے کہا تھا یوں ماتمی رنگ پہن کر آ گئیں "۔ جبین اسکی بہت پیاری دوست تھی اسے یوں دیکھ کر چڑ گئ تھی۔ ۔

" ارے لگتا ہے وہ عمر جہانگیر کا چالیسواں ابھی نہیں ہوا ۔کیوں انشا ۔ " فرح ہنس کر بولی تھی ۔اس کا عمر جہانگیر کے لیے پھوٹ پھوٹ کر رونے کا سب کو علم تھا ۔

اب بس کرو تم لوگ ۔ " آتے ہی میرے پیچھے پڑ گئیں ۔ " انشا کا چہرہ خفت سے لال ہو گیا ۔

" یہ امی بھی ناں ۔ کیا پوری دنیا کو بتا دیا ہے عمر جہانگیر کے بارے میں "۔ وہ کونہ دیکھ کر سمٹ کر بیٹھی تھی ۔

" آج کل تم عمیرہ احمد کو پڑھ رہی ہو ۔یہ تمہارا انگلش کلر کا سوٹ بتا رہا ہے ۔ " دیبا نے اسے سر تا پا دیکھا تھا ۔

"  میک اپ بھی کر لیا کرو  لڑکی ۔ بھلا بنا میک اپ کےدعوت میں  کیسے آتے ہیں  تم نے فنکشن ہال کی دیوار پر پوسٹر نہیں پڑھا ۔۔" دعوت میں بنا میک اپ کے آنا منع  ہے "  ۔ فرحین نے ایک آنکھ بند کر ہنس کر کہا تھا ۔

"جرمانہ لگتا ہے" ۔ فرحین نے پھر آنکھ ماری تھی ۔

"توبہ کرو ۔ اس انشا کو میک اپ کا کہکر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لینے جیسا ہے ۔ کچھ دن  پہلے وہ مجھ سے کاجل پنسل پوچھ رہی تھی ۔میں نے کہا ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا ہے لگا لو ۔ تو پتا ہے کیا لگا کر نکلی "۔ دیبا ان سب کو دیکھ کر بتارہی تھی ۔جبکہ انشا بیچاری شرمندہ سی بیٹھی تھی ۔

کیا لگا لیا تھا ۔" وہ سب یک بیک پو چھیں ۔

آ"آئی لائنر ۔" دیبا نے دھماکہ کے انداز میں کہا تھا ۔

کیا ۔آئ لاینر 'کاجل  کی طرح لگالیا ۔"

وہ سب حیرت سے چیخ پڑیں تھیں جبکہ صفورہ نے انشا کو دیکھا تھا ۔

سیریسلی انشا ۔آئ لائنر۔ ۔۔۔۔" 

مجھے کیا پتا تھا ۔وہ بھی تو پنسل نما ہی تھا تو میں سمجھی وہ کاجل پنسل ہے" ۔ انشا نے مجرموں کی طرح سر جھکا لیا تھا ۔

"تم تو لڑکیو ں کا نام بدنام کر دوگی انشا ۔کون آئ لائینر کو کاجل کی طرح ۔۔۔۔توبہ ۔۔۔۔"۔وہ سب اسے غصہ سے گھورنے لگیں تھیں ۔

" ہاں تو مجھے نہیں پتا میک اپ کا  ۔ کیا کروں ۔ تم لوگوں نے یہ جو کلو کے حساب سے میک اپ دھرا ہے وہ  ہینڈل کیسے کر لیتی ہو ۔ اور اتنی بھاری بھرکم جیولری ۔گردن جھک نہیں جاتی کیا ۔" اس نے بھی جوابی حملہ کر دیا تھا اپنی تمام کزنز پر ۔جو سلیقے سے میک اپ اور ڈریسنگ کر کے آئ تھیں ۔

جی نہیں ۔ اس طرح تو  ہم مقابل کی گردن جھکا دینے پر قادر  ہو جاتے ہیں ۔کیوں۔"  فرحین  نے پھر وہی لوفرانہ انداز اپنا یا تو وہ سب اسکی ہاں میں ہاں ملا نے لگیں ۔

ہماری انشا کو انتظار ہے کہ کوئ ہیرو لمبے لمبے ڈگ بھر کر آیگا اور ان کی سادگی پر فدا ہو جائیگا اور کہے گا ۔

معاف کیجیے محترمہ۔ ۔یہ آپ کا رومال کر گیا تھا ۔ وہ ایک گلابی رومال دیتے ہوۓ کہےگا ۔جو کہ  سراسر  بات کرنے کا ایک بہانا ہو تا  ہے ۔

اور نہیں تو کیا ۔ یا  پھر "

"محترمہ ۔یہ آپکی کتاب میری کتابوں میں مل گئ تھی ۔یہ اپنی کتاب رکھ لیں" ۔ 

اور ہماری انشا شرما کر کہے گی ۔

"وہ کتاب نہیں ماہانہ ڈایجسٹ ہے  جی ۔ میں تو کورس کی کتابوں میں بھی ڈایجسٹ رکھ کر پڑھتی ہوں ۔"


وہ سب ہنسنے لگی تھیں ۔


یا پھر ۔۔ہیرو لمبے لمبے ڈگ بھرتا آئیگا اور ۔۔۔

ا"ارے ایک منٹ رکو ۔مجھے یہ تو بتاؤ یہ جو ہیرو لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہے وہ کیا ہوتا ہے" ۔ صبا نے بیچ میں جبین کو ٹوکا ۔

 ارے کچھ ہوتا ہوگا جو وہ بھرتا ہے ہمیں کیا پتا ۔اسی ہیرو سے پوچھ لینا یا پھر ڈایجسٹی رایٹرز سے ۔ جن کا ہر ہیرو لمبے لمبے ڈگ بھر تے رہتا ہے ۔ یہ ڈگ گھڑا ہو سکتا ہے جو وہ بھرتا ہے" ۔

جبین کو یوں بیچ میں ٹوکنا زہر لگا تھا ۔

ہاں ۔ اور وہ چھ فٹا ہوتا ہے تو اسکے ڈگ بھی لمبے ہوۓ ناں ۔ مطلب قدم ۔۔دیبا  دور کی کوڑی لائ تھی ۔

ہاں ۔ہیرو تو بس چھ فٹ ہی ہونا چاہیے ورنہ قیامت نا آجائیگی ان ڈایجسٹی رایٹرز کے لیے ۔"

ہیرہ چھ فٹ کا نا ہوا تو وہ لمبے لمبے ڈگ کیسے بھرے گا ۔"دیبا کی بات پر تو وہ سب انشا کو دیکھ کر ہنسنے لگی تھیں ۔  وہ لوگ تو اسکی ڈایجسٹی دنیا کے پیچھے پڑ گئیں تھیں ہاتھ دھوکر ۔

"اور اگر ہیرو عمیرہ کا ہے تو سمجھو اسکے گال پر ایک گڑھا بھی پڑتا ہے۔ ۔"

بالکل ۔ اور  اس گھڑے  میں ہیروئن  کو ہی گرنا ہو تا ہے ۔بیچاری ۔دوسروں کے لیۓ  کھو دۓ ہوۓ گڑھے میں خود گر جاتی ہے "۔ جبین نے معنی خیزی سے کہا  ۔

ارے اب تم لوگ انشا کو میک اپ تو کر دو ورنہ یہ پھر سے کچھ کا کچھ لگا کر بیٹھ جایئیگی ۔صفورہ کو خیال آیا   تو اس نے انشا کو دیکھ کر کہا ۔

ہاں ۔ ان محترمہ کا کیا ہے ۔لپ اسٹک کو آئی شیڈز وز سمجھ کر آنکھوں پر  لگا لیں ۔ جبین نے اب اس کا میک اپ کرنا شروع کیا تھا ۔ وہ گھر سے میک اپ کٹ لیکر نکلتی تھی ۔

انشا  ان سب کے سامنے کچھ کہہ نہیں پاتی تھی ۔ ہلکے میک اپ کی تو وہ بھی قائل تھی ۔

جبین‌ اور دیبا نے اس کا میک اپ کر ڈالا تھا اور دوپٹہ کو نے سرے سے سٹ  کیا تھا ۔جس میں  وہ بھی کافی پرکشش لگ رہی تھی ۔

"چلیں اب ہماری انشا، ریڈی ہے اپنے ہیرو کو ٹکر مارنے کے لیے ۔ اب بس کہیں سے تو ہماری ہیرو کی انٹری ہو ۔ کیوں انشا" ۔ انہوں نے جھک کر اسے دیکھا تو وہ بری طرح جھینپ گئ ۔

"اب بس معاف کردو ۔مجھے ۔ " 

ارے چلو کھانا لگ گیا ہے ۔ کسی نے اندر آ کر  کر اطلاع دی تو وہ سب گرتی پڑتیں کھانے کے ٹیبلز کی جانب بھاگیں کہ دعوت کا مطلب کھانا بھی تو ہوتا ہے ۔

***********

باقی آئندہ 

اپنی راۓ سے آگاہ کریں ۔مہربانی ہو گی ۔

جاری 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ