ڈائجسٹ ریڈر ۔۔ قسط 2
امی کا ماتھا تو ایک سال بھر پہلے اس وقت ٹھنکا تھا جب وہ سونے جا رہی تھیں اور انشا کی سسکیاں انہیں سنائ دیں ۔
اآے ہاے کیوں رو رہی ہو ۔ " وہ اس کے قریب چلی گئ تھیں جو دونوں پیر اور ہاتھ ایک دوسرے سے لپٹے چہکوں پہیوں رونے میں مشغول تھی ۔
" امی ۔وہ عمر تھا نا ۔۔۔وہ مر گیا " انکے پوچھنے کی دیر تھی انشا اب دھاڑیں مار کر رونے لگی ۔
" یا اللہ ۔عمر مر گیا ۔اور ایسے کیسے مر گیا ۔ابھی پرسوں تو ڈسچارج ہو کر آیا تھا ۔تمہاری پھپھو بتا رہی تھیں ۔اور تم یہ ابے تبے سے بات کر رہی ہو ۔وہ پندرہ سال بڑا ہے تم سے ۔ شادی شدہ ہے ۔اور ۔۔۔"
" امی ۔وہ عمر بھائ کی بات نہیں کر رہی تھی میں ۔ وہ تو بیچارے صحتمند ہیں ۔ میں امر بیل کے عمر کی بات کر رہی تھی ۔" امی کی تیز چلتی زبان کو بریک لگانے کی کوشش کرتی وہ جلدی بول پڑی تھی ۔
" کونسا بیل ۔"۔امی کو خاک پلے نا پڑا ۔
عمیرہ احمد کے ناول کا ہیرو ۔۔اس نے اب شرمندگی سے اپنا سر جھکایا ۔
اوہ ہو ۔اچھا اچھا ۔۔" امی نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی ۔
میت کب کرہے ہیں وہ لوگ ۔ انہوں نے ٹھنڈے لہجہ میں پوچھا ۔
جی ۔وہ کچھ حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگی ۔
بھئ ۔جب وہ مر ہی چکا ہے تو تدفین وغیرہ بھی کر رہے ہو نگے ۔تو کیوں نا جا کر پرسہ ہی دے آئیں ۔تمہاری عمیرہ احمد کو ۔۔ " انہوں نے۔ "تمہاری "پر زور دیکر کہا ۔تو وہ شرمندہ ہوئ ۔
ا"امی آپ بھی ۔ذرا رحم نہیں ہے آپ کے پاس ۔ کوئ مرے یا جیے آپ کو کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ "
ہاں ۔اب میری رحمدلی کے حقدار یہ افسانوی کردار ہی رہ گے ہیں ۔اب دیکھنا انشا ۔تمہارے بابا سے کہہ کر یہ ڈایجسٹ بند نا کر وایا تو میرا نام بدل دینا ۔ ان کاغصہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا تھا ۔
"بانو آپا ٹھیک رہے گا ۔" اس نے چڑانے والے انداز میں انہیں دیکھا تو وہ اسے مارنے دوڑ یں تھیں ۔
*********
اس دن واقعی میں امی سنجیدہ ہو گئیں تھیں ان ڈایجسٹ کو بند کرنے کے لیے ۔ شام میں بابا نے جیسے ہی کھانا ختم کیا اور انشا جاے بنانے چلی گئ انہوں نے اپنی بات کا آغاز کیا ۔
" دیکھیے ۔یہ ہماری انشا پر ڈایجسٹ پڑھنے کا جنون چڑھ گیا ہے ۔اس کی دنیا تو ڈائجسٹ سے شروع ہو کر ڈایجسٹ پر ختم ہو رہی ہے ۔ حد سے زیادہ ہی خیالی دنیاؤں میں رہنے لگی ہے ۔ ہمہ وقت ان ناول نگاروں کو سوچنا یہ اچھی بات تو نہیں ۔"
" واقعی میں اچھی بات نہیں ہے ۔ایسا کرتا ہوں کیبل اور ڈایجسٹ دو نوں بند کر دیتا ہوں ۔دونوں ماں بیٹی کافی سدھر جائیں گی "۔ بابا نے گاؤ تکیہ سے سر ٹکا دیا تھا ۔
" ہیں کیبل ۔۔۔ کیبل کا ڈایجسٹ سے کیا تعلق ۔ "
" امی گویا تڑپ گئیں ۔
" بھئ جب ڈایجسٹ بچی کو بگاڑ رہے ہیں تو کیبل بھی تو عورتوں کو بگاڑ رہا ہے ۔ اسٹار پلس کے ڈرامے جو آپ دیکھتی ہیں وہ بھی خواتین کو سازش کرنا سکھا رہے ہیں ۔تو صرف ڈائجسٹ کیوں ۔" بابا کی بات پر انشا نے" ہرے" کے انداز میں ہاتھ لہراۓ تھے۔ ۔
" میں اس عمر میں ڈرامے دیکھ کر بگڑوں گی ۔ کچھ خیال ہے آپ کو آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ " امی گو کہ اسٹار پلس کے ڈراموں کی شیدائ تھیں مگر ان کو بدنام بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔
" " کیا ان بے ہودہ ڈراموں سے بہتر نہیں ہیں ڈایجسٹ جو اس کو کم از کم زندگی کا ڈھنگ تو سکھا دیتے ہیں ۔ اگر وہ ہیروئن کو دیکھ کر ہیروئن جیسا کچھ کرتی ہے تو کیا برا ہے ۔ کرنے دو ۔ کچھ اچھا ہی کرے گی ۔اسی لیے تو ڈایجسٹ کی ہیروین کو بہت پرفیکٹ بتایا جاتا ہے تاکہ لڑکیاں کچھ زیادہ نہیں تو کچھ کم تو ان جیسی بن جائیں گی ۔ اس لیۓ میرے خیال میں اب نو اآرگیومنٹ ۔ " بابا نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔انشا مسکراتے چاۓ لائ تو ساتھ ہی اس نے بابا کو دونوں ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بنایا جسے دیکھ کر وہ مسکرا گۓ تھے ۔ امی تو اپنے کیبل کی جان بخش جانے پر خوش تھیں ۔اس لیے اس پر ان کا دھیان ہی نہیں گیا تھا ۔ یوں محترمہ انشا کو بابا کی جانب سے مکمل اجازت مل گئ تھی کہ وہ جتنی خوابوں کی دنیا میں رہنا چاہتی ہیں رہ لیں ۔کوئ مضایقہ نہیں ۔آخر ڈایجسٹ کی دنیا اتنی بری بھی نہیں ہو تی ۔
**********
اامی نے اسے شادی میں چلنے کے لیۓ کہا تھا انکی ایک خالہ ذاد بہن کی بیٹی کی شادی تھی ۔اور وہ اب کپڑے لے کر بیٹھی تھی ۔ایک بے حد شوخ رنگ شاکنگ پنک سوٹ جس پر ہیوی ورک تھا نکالا اور امی کو بتایا ۔
" یہ پہن لوں ۔ "
ہاں ۔ بہت اچھی لگو گی ۔" امی کی تو بانچھیں ہی کھل گئیں ۔
" جی ۔اس تپی گرمی میں یہ بھڑکیلا سوٹ پہنوں گی تو شعلہ جوالہ لگوں گی ۔ " اس نے جلدی سے اس ڈریس کو شاید پر رکھا ۔
" تو مجھ سے پوچھا ہی کیوں ۔ ایسے پوچھا جیسے فرمانبردار سی بیٹی ہو ۔ امی حسب توقع بھڑکیں تھیں ۔
" مجھے آپ کا رد عمل دیکھنا تھا ۔ کیسی بانچھیں کھل گئیں تھیں یہاں سے وہاں تک ۔ " وہ انکی کیفیت کا مزا لیتی اب دوسرا سوٹ نکال رہی تھی ۔
" ہونہہ ۔اب پہنوگی وہی پھیکے سڑے سے رنگ کے کپڑے ۔جو خود پر کھلتے بھی نہیں ۔ وہ اب بیزار ی سے اٹھنے لگی تھیں ۔
" انگلش کلرز ہوتے ہیں وہ ۔ پیاری امی ۔ " اس نے ہلکا سرمئ رنگ کا سوٹ نکالا تھا ۔
" اس منحوس رنگ کے کپڑے تو پہنو ہی مت ۔ چوہیا سے کم نہیں لگو گی ۔ اس رنگ کے سوٹ کو دیکھتے ہی ان کا پارہ چڑھا ۔
تو سیاہ کیسا رہے گا ۔ بڑی منفرد لگوں گی میں ۔بالکل ڈایجسٹ کی ہیروین کی طرح " اس نے سیاہ کامدانی کا سوٹ خود پر لگا کر کہا ۔
ہاں ۔ پچھلی بار چلی تھیں نا سر سے پیر تک سیاہ پہن کر ۔ کیا ہوا ۔یاد نہیں ۔"
"کیا ہوا تھا بلکہ سب تعریف ہی کر رہے تھے ۔ "اس نے جیسے یاد کرنے کی کوشش کی ۔
"تمہاری پھپھو نے ہی کہا تھا کہ دلہن کی نظر بٹو بن کے آئ ہے ہماری انشا۔ مجھے کتنی شرمندگی ہوئ تھی ۔"
جاری
از ۔۔نازنین فردوس
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں