ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔1
ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔
" مالا ۔" ماہر فرید اسے روک رہا تھا اس کے ہاتھ میں پھولوں کا بکےتھا۔ ۔
" نہیں ۔مجھے روکنا مت ۔ میںجا رہی ہوں ۔" وہ اب آگے بڑھ رہی تھی ۔اسکی باریک ہیلز کی کھٹ کھٹ دور تک سنائ دے رہی تھی ۔
" میں جانے والوں کو روکتا نہیں ۔" ماہر فرید کی آواز اسکے کانوں میں سنائ دینے لگی ۔
" اے ۔انشا ۔اٹھو ۔انشا " کوئ اب اس کو جھنجھوڑ رہا تھا
" ماہر فرید ۔اسے روک لو ۔پلیز ۔ زیاد نے کالا جادو کروایا ہے مالا پر ۔ اسے روک لو ۔ " وہ اب نیند میں بڑ بڑا رہی تھی کہ امی نے یکایک زور سے اس کا کمبل کھینچا ۔
انشا ۔اٹھتی ہے کہ ۔۔"انکی دل دہلانے دینے والی آواز پر وہ اٹھی تھی ۔
سامنے امی اسے خونخوار نگاہوں سے۔ گھور رہی تھیں ۔انکے ہاتھ میں اس کا کمبل تھا ۔
" امی ۔۔وہ۔ماہر فرید ۔۔" وہ کچھ بولتی امی نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ۔
"پڑوس کی جمعہ خالہ آىئ ہیں ۔ چا ۓ بنا کر لاؤ۔ "
" ہاۓ ۔جمعہ خالہ اتوار کو کیوں آئ ہیں ۔ " اس نے منہ پھااڑ کر جماہی لی تھی ۔
" وہ جمعہ کو آئیں یا اتوار کو ان کی مرضی ۔ ساری باتیں بعد میں کرنا ۔ سمجھیں ۔وہ ایک تیز نظر اس پر ڈال کر اندر چلی گئیں تھیں ۔
یہ امیاں بھی ایسی ہوتی ہیں ناں ۔ کیا تھا اگر کچھ دیر بعد اٹھاتیں وہ ۔ماہر فرید کیا پتا مالا کو روک دیتا اور زیاد سے شادی نا کرنے دیتا ۔ اونہہ سارے خواب ادھورے ہی رہ جاتے ہیں ۔وہ جلتی کڑھتی چاۓ بنا چکی تھی اور اب ڈرائینگ روم کی جانب قدم بڑھا چکی تھی ۔
" اب کیا بتاؤں بہن ۔ہماری صفیہ کتنی پریشان ہے ۔اس کے ساتھ اتنے عجیب وغریب واقعات ہو رہے ہیں کہ کیا بتاؤں ں ۔۔ اسکی طبعیت بھی ٹھیک نہیں رہ رہی ۔سر درد تو عام بات ہو گی ہے اور دل کی گھبراہٹ الگ ۔اب تم ہی بتاؤ کیا کریں اس کا ۔ پتا نہیں میری بچی کو کیا ہو گیا ہے ۔ وہ آہ بھرتے ہوۓ بولیں ۔
آخالہ ۔آپ کی بیٹی پر ضرور نگینہ سرکار نے کالا جادو کر وایا ہے ۔ وہ چا ۓ اندر لا تے بولی تھی ۔ امی کی تیز نظروں کی پرواہ کیۓ بغیر ۔
"نگینہ سرکار ۔۔یہ کون ہے ۔" خالہ پریشان ہو ئیں ۔
ارے آپ نگینہ سرکار کو نہیں جانتیں ۔ زیاد کی ماں ۔۔"۔اس نے ان کی لاعلمی پر از حد مایوسی ظاہر کی ۔
"زیاد ۔۔کون زیاد ۔۔"۔خالہ تو حق دق اسے دیکھنے لگیں ۔
"اف خالہ "۔اس نے اپنے سر پر ایک ہاتھ مارا ۔
"کتنی بھولی ہیں آپ ۔۔زیاد جس نے کشمالہ پر جادو کروایا تھا ۔"
"کشمالہ ۔اب یہ کشمالہ کون ہے ۔ میری بیٹی کا نام تو صفیہ ہے ۔ "خالہ بیچارگی سے بولیں تھیں ۔
ا"رے کشمالہ ۔۔حور جہاں کی بیٹی۔ کشمالہ ۔۔اب آپ یہ مت پوچھنا کہ حور جہاں کون ۔۔" اس نے اب ہاتھ اوپر اٹھا لیے تھے ۔
"یہ کس حور جہاں کی بات کر رہی ہے ۔۔ہاجرہ ۔۔"۔اب انہوں نے امی کو رحم بھرےانداز میں دیکھا تھا ۔
"خالہ وہ حور۔ "
"اب جاتی ہو کہ اٹھاؤں چپل ۔۔۔"امی دھاڑیں تو ان کے غصہ سے ڈرتی باہر آ گئ تھی ۔
" لو بھلائ کا زمانہ ہی نہیں رہا ۔ جمعہ خالہ کو جمعہ ہی کو آنا چاہیے اتوار کو نہیں ۔ورنہ اس طرح میرا اتوار برباد نا ہوتا ۔امی نے تو بات ہی نہیں کرنے دی ۔ وہ بڑے قلق سے سوچتی اپنے کمرے میں آگئ تھی
تو یہ تھی انشا رحمن ۔۔۔ایک ڈایجسٹ ریڈر جسے ڈایجسٹ پڑھنے کا ۔جنون تھا ۔ وہ اس وقت سے ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی جب اسے ابھی ڈایجسٹ کے معنی بھی معلوم نا تھے ۔ اسے جہاں جہاں ڈایجسٹ ملتی وہ پڑھنے بیٹھ جاتی ۔ اپنے گھر کے ماہانہ ڈایجسٹ تو وہ دو دن میں ختم کر دیتی بقول امی کے پڑھتی ہے کہ چاٹتی ہے ۔
کتابی کیڑا ہمیشہ کتاب میں ہی رہتا ۔باہر کی دنیا سے اسے قطعا دلچسپی نہیں تھی ۔
گھر کے کام اسے ویسے بھی پسند نہیں تھے ۔ہاں البتہ جب ڈایجسٹی ہیروین اپنے کمرے یا صحن کو پوری دل جمعی سے جھا رو لگاتی تو ہماری انشا کو بھی اپنا کچن، صحن صاف کرنے کا خیال آ جاتا اور وہ بھی جھاڑن لئے گھر کی صفائ اور جھاڑ پونچھ کو نکل جاتی ۔
ایسے میں امی حسب حال راۓ دیۓ جاتیں ۔
" آج کیا نگہت عبد اللہ کو پڑھا ہے جو گھر کی صفائ میں لگ گئ ہو ۔"
اگر اسکی ہیروین ۔شرارتیں کرتی گھر میں دھمال مچاتی تو یہ محترمہ بھی خوامخواہ گھر میں کودتی پھرتیں۔
"لگتا ہے رخ چودھری کو پڑھ رہی ہے ۔" امی اس پر کڑی نظر ڈالتیں مگر اسے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا ۔
اسے خود بھی پتا نہیں تھا کہ وہ ڈایجسٹی کی دنیا میں رہ رہی ہے ۔ اور اسی کے اثر میں وہ ہر کام کر رہی ہوتی ہے ۔اسکی ہیروین پکوان کرنے کچن میں گئ تو یہ بھی چلی گئ ۔اگر ہیروئن کو پڑھنے کا خبط ہوتا تو یہ بھی پڑھنے میں طوطے کو مات دینے لگتیں ۔دماغ تو جتنا تھا مگر رٹو طوطا بن کر اس نے کونسے امتحانات پاس کر نے تھے ۔
اگر ہیروئن صاحبہ کو ہلکے رنگ پسند تھے تو ان محترمہ کی وارڈروب ہلکے رنگ کے کپڑوں سے بھر جاتی ۔اور سارے گہرے رنگ کے کپڑے ماسی کی نذر ہو جاتے جس پر امی کا واویلہ تو بنتا تھا ۔
"کیا زہر ہو گے ہیں کپڑے ۔ایک دو بار تو پہنے تھے ۔"
ا"می اتنے گہرے رنگ ۔۔اور شوخ ۔سے رنگ ۔میں نہیں پہنوں گی بالکل گاؤں کی گنوار لگوں گی ۔"
"کس نے کہا گہرے رنگ صرف گنوار لوگ پہنتے ہیں "۔امی کی جان جل جاتی ۔
"امی ۔وہ پر سوں ہی تو ایک ہیروین نے یہ کہا تھا کہ شوخ رنگ بالکل نہیں پہننا سو بر رنگ پہننے چاہیے ۔ اچھا اثر پڑتا ہے ۔"
"کس پر" ۔امی کو جلال آیا ۔
ہ"یرو پر اور کس پر ۔۔۔۔"یہ کہتے ہوۓ امی کو دیکھا تو وہ اسے خشمگیں نظروں سے گھورنے لگیں تو جلدی سے بات بدل دی ۔
" یعنی ۔کپڑوں کا اچھا ذوق رکھنے والی خواتین ہلکے رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں ۔"
ا"ور جو مجھ جیسی خواتین گہرے سبز ،سرخ یا جامنی پہنے تو بالکل جنگلی نظر آتی ہیں ۔ ہے ناں ۔" امی پر غصہ چڑھنے لگتا ۔
"ارے امی ۔آپ کا کیا ہے آپ کی تو عمر ہی ہو گئ ۔ آپ کچھ بھی پہن لیں ۔چل جاتا ہے ۔" وہ آرام سے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی لیکن امی کے تاثرات اتنے ناقابل فہم تھے کہ ڈر کر وہاں سے کھسک لینے میں ہی اس نے عافیت جانی ۔
جاری
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں