میرے ہم نوا ۔۔۔قسط53
میرے ہم نوا ۔۔ آخری قسط
اس نے کچھ جھجھک کر اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا تھا۔ مگر اس کا ارادہ اور ہاتھ دونوں پر گرفت مضبوط تھی ۔بلکہ وہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اس کے گریز بر محظوظ ہو رہا تھا ۔" ارے ۔ ایک اہم بات تو بھول گیا ۔اس نے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا اور خود اٹھ کر اس نے کببرڈ کھول کر کچھ پیپرز نکالے تھے ۔
اور واپس بیڈ پر آگیا تھا ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے وہ پیپرز اسکی گود میں رکھے تھے
یہ گھر کے پیپرز ہیں جو آپ کے نام ہے ۔ آئ مین ۔یہ آپکی رونمائ ہے ۔"
"کیا ۔ یہ سب کیوں ۔ " وہ اب پریشان ہو گئ تھی ۔
" اب میںتاج محل تو نہیںبنا سکتا ۔آپ کے لیۓ ۔ بس ایک ادنیٰ سی کوشش ۔ " وہ اب بیٹھ گیا تھا ۔
" نہیں ۔ میں یہ کیسے لے سکتی ہوں ۔ پھپھو پھپھا کیا سمجھیں گے ۔ اور سب ۔مجھے اچھا نہیں لگے گا ۔ " اس نے جلدی سے پیپرز اسے دینے چاہے تھے ۔
" پھپھو کی تو جان بھتیجی میں اٹکی رہتی ہے ۔اور ابا سے پوچھ کر ہی آپ کے نام کیا ہے ۔ باقی تو سب تہذیب آپی کے دیوانے ہیں ۔برا تو میں ہی ہوں۔ اس نے پیپرز نہیں لیۓ تھے ۔
" لیکن پھر بھی مجھے اچھا۔ نہیں لگے گا ۔ " وہ یک بیک دو متضاد کیفیات میں گھر گئ تھی ۔ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ عجیب سا احساس ۔
" کیوں ۔ یہ تو ہے ہی میری کمائ کا ۔ حق تو آپ کا ہی ہوا ۔ " اسکا نرم سا لہجہ ۔
" ہممم ۔ وہ چپ ہوئ ۔یہ آخری بات تھی جس سے اس پر طہ کا کردار واضح ہوا تھا ۔
مرد کا کردار ایسا ہو کہ عورت اس کے سامنے جھکنے پر بھی فخر محسوس کرے ۔
اور آج وہ فخر اس کے حصہ میں آیا تھا ۔
" ویسے ماموں کی جائداد میں سے بھی آپ اپنا حصہ لینا چاہیں تو لے سکتی ہیں ۔میں آپ کو روکوں گا نہیں ۔بس میں نہیں لے سکتا ۔"
" نہیں ۔میں بھی نہیں لوں گی ۔"
"کیوں "۔
میرے شوہر نے مجھے جو دیا ہے وہ میرے لیۓ کافی ہے" ۔۔وہ اعتراف کر رہی تھی کہ دل جیت رہی تھی طہ کو سمجھ نہیں آیا ۔ لیکن وہ بہت خوبصورت احساس تھا۔
"آپ ۔۔۔" وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر تہذیب نے اسے ٹوک دیا ۔۔
ممم یہ آپ آپ کب تک کرتے رہو گے ۔ "
وہ ہنسا تھا ۔
"بچپن میں امی کی سخت ہدایات ہو تی تھیں ۔کہ تہذیب کو آپ سے ہی مخاطب کرناہے ۔ تو عادت ہی ایسی پڑگئ ہے۔۔ اس نے کہتے ہوۓ اسے دیکھا تھا ۔
" ویسے بے تکلف ہونے کا ارادہ تو ہے اگر اجازت دو تو ۔۔۔" اسکی بات پر اس کا چہرے پر ہزار رنگ بکھر گۓ۔
توبہ ۔ یہ بندہ ہر چیز کی اجازت لیتا ہے ۔"
ا"وہ سب شرائط وغیرہ ۔۔ " اسے بہت کچھ یاد آیا ۔
" جہاں محبت ہو وہاں شرائط نہیں ہوتیں ۔" اسکی بات میں کھلا اعتراف تھا ۔
ویسے اظہار نے مجھے بہت کچھ لکھ کر دیا تھا کہ یہ یہ کہنا ہے وغیرہ ۔ مکر میں پریکٹیکل انسان ۔ وہ ساری باتیں ہی بھول گیا ۔ " اسکی بات پر اسکی ہنسی نکل گئ تھی ۔
بس ایک ہی بات ہے ۔
انہی پتھروں پر چل کر آ سکو تو آؤ
مرے راستے میں کوئ کہکشاں نہیں ہے ۔
اس نے بولنے کے ساتھ اس کے سامنےہاتھ پھیلا یا تھا ۔وہ اسے کچھ دیر گھور کر دیکھتی رہی ۔ پھر کہا ۔
" یہ کہکشاں کون ہے ۔"
اب کے اس کاقہقہہ بے ساختہ تھا ۔
اف یہ عورت ذات بھی ۔۔۔۔" وہ اب اٹھنا چاہتی تھی مگر اس نے اسے اٹھنے نا دیا ۔۔۔۔۔
اس رات چاند اور ستارے انکے دامن میں آگۓ تھے ۔اور سارے حجاب اٹھ گۓ تھے ۔
*********
ختم شد
نوٹ ۔۔محترم قارئین ۔ آپ سب کا بے حد شکریہ ۔آپ نے میری یہ تصنیف پسند کی اور آپ سب کی محبت نے مجھے اس ناول کو خوبصورتی سے لکھوایا ۔آپ کی حوصلہ افزائ ہی ہے جو کچھ لکھ پائ ہوں ۔امید کرتی ہوں آئندہ بھی آپ یونہی مجھ سے جڑے رہیں گے ۔
آخری قسط اور پورا ناول آپ کو کیسا لگا ۔یہ ضرور بتادیں ۔ اور کچھ غلطیاں ہیں تو وہ بھی ۔
آپکی راۓ بے حد اہم ہے ۔اس لیۓ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت راۓ زنی پر ضرور دیں ۔اس سے لکھنے والوں کا حوصلہ بہت بڑھتا ہے ۔
شکریہ
نازنین فردوس
حیدرآباد دکن
انڈیا ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں