میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط52
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 52
جب میں اس دن مارٹ گیا تھا تو وہاں مجھے میری ایک کلاس فیلو جو ماسٹرز کرتے ہوۓ میرے ساتھ تھی ۔ ملی ۔ فائزہ ۔ میں جب نکل رہا تھا وہ میرے سامنے آئ تھی۔ ہم دونوں ایک ہی بیج کے تھے ۔ اس کے حالات اور میرے حالات ایک جیسے تھے ۔اس کے بھی والد بیمار اور دو بہنیں شادی کے قابل تھیں ۔ یہ تیسری بیٹی تھی جبکہ اور دو بھائ بھی تھے ۔ معاشی حالات بہت زیادہ خراب تھے وہ مجھ سے اکثر اپنے حالات ڈسکس کیا کرتی تھی ۔ ہم دونوں ایک جیسے حالات سے گذر رہے تھے تو ایک دوسرے کے لیۓ انسیت بھی محسوس ہو تی تھی۔
ہم دونوں نے مل کر اپنے مستقبل کے بارے میں بات تو نہیں کی تھی لیکن مجھے لگتا تھا کہ وہ میرے ماحول میںایڈجسٹ ہو جائیگی ۔
لیکن جب ماسٹرز ہو گیا اور ہم دونوں اپنی پریکٹیکل لائف میں داخل ہوۓ تب وہ اچانک منظر ہی سے غائب ہو گئ ۔اس سے پہلے کہ میں اس سے کانٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا میرا نکاح آپ سے ہوگیا اور میں اپنے آپ کو اس رشتہ کے لیۓ تیار کرنے لگا تھا ۔جو حقیقت تھی وہ حقیقت تھی ۔ میں نے پھر اس سے ملنے یا رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
لیکن اس دن مارٹ میں وہ اچانک میرے سامنے آگئ تھی ۔ بے پناہ میک اپ اور زیورات اور قیمتی لباس پہنے ۔میں اسے پہچان نہیں پایا جب تک وہ خود میرے پاس نا آئ ۔اس نے مجھے روکا ۔اور خود ہی بتانا شروع کیا کہ وہ کہاں چلی گئ تھی ۔وہ رک کر اسے دیکھنے لگا جو اس انکشاف پر خاموش تھی ۔
اس نے کہا ۔ " طہ ۔ آئ ایم سوری ۔ میں نے شادی کر لی ہے ۔ "
مبارک ہو ۔" میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا تھا ۔
" دراصل فیروز ہمارے مالک مکان تھے ۔وہ۔ اکثر ہمارے گھر آتے تھے ۔ اور ہمارے حالات سے مکمل واقف تھے ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیۓ وہ مجھے معاشی سپورٹ بھی فراہم کرنے کی پیشکش کر چکے تھے ۔ دونوں بہنوں کی شادیوں سے لیکر بھائیوں کی تعلیم تک کا خرچہ انہوں نے اپنے ذمہ لینے کی بات کی تھی ۔ مجھے لگا " کیا ہوا وہ اگر عمر میں مجھ سے بڑے ہیں اور شادی شدہ ہیں ۔ لیکنایک بہتر مستقبل کی ضمانت بھی تو دے رہے ہیں ۔ انہوں نے میرے نام ایک گھر کرنے کی بھی بات کی تھی ۔تب میں نے ان کا رشتہ قبول کر لیا ۔
میں اگر تم سے شادی کرتی تو مجھے کیاملتا ۔ وہی ماہانہ تنگی ۔من پسند چیز کو خریدنے کے لیۓ بھی دل مارنا ۔ ماہانہ قسطوں کا بوجھ ۔ ایک تنگی بھری تلخ زندگی ۔نا اپنا گھر اور اگر گھر لیں بھی تو لون لیے کر جسکی قسط بھرتے بھرتے ہم دونوں بوڑھے ہو جاتے ۔ ہمارا ایک بہت قیمتی وقت انہی ذمہ داریوں کو ادا کرتے گذر جاتا ۔اور اس چکر سےہم کبھی نکل نہیں سکتے تھے اور زندگی میں اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیۓ وقت کا انتظار کرتے بس سسکتے گذارتے۔ ۔ ایک حقیقت پسند لڑکی ہونے کے ناطے میں ایسی زند گی گذارنے کے خیال سے ہی لرز گئ تھی ۔ اور میں نے فیروز کا رشتہ قبول کر لیا ۔اس لیۓ " سوری "
" میری بھی شادی ہو گئ ہے ۔ اپنی ماموں کی بیٹی سے ۔ "
" اوہ ۔" پھر ٹھیک ہے ۔پھر کبھی ملیں گے ۔" وہ یہ کہہ کر چلی گئ تھی لیکن میری غیرت اور غربت پر ایک طمانچہ مار کر چلی گئ تھی ۔
میں نے اپنے آپ کو کانٹوں پر گھسیٹتا محسوس کیا ۔
ایسی تکلیف جیسے کسی نے گرم گرم میرے منہ پر تیزاب پھینک دیا ہو ۔
میں ایسی آگ میں جل رہا تھا ۔جو مجھے مچبت اور غربت کے فرق بتا رہی تھی ۔
وہ چقیقت پسند تھی اس نے صحیح تجزیہ کیا تھا ۔میری زندگی کا ۔
میری زندگی میں ہر چیز قسطوں میں ملتی ہے ۔خوشی بھی ۔
اور میرے پاس ذمہ داریوں کا ایک ڈھیر ۔والدین ۔بھائ بہن وں کو دیکھنا ۔اور ان سب میں میری اپنی زندگی تو یوں بھی پس پشت ہی چلی جاتی تھی۔
خواہشیں تو بہت دور ضرورتیں بھی پوری ہونے کا ایک لمبا انتظار ۔
کھینچ تان کی زندگی ۔
اس نے صحیح کہا تھا ۔اور اس صحیح نے مجھے آسمان سے زمین پر پٹخ دیا تھا ۔ میری ہستی ہی ہل گئ تھی۔
بھلا وہ لڑکی جو خود مصائب اور آلام میں پلی تھی ۔ جب وہ میرے ساتھ زندگی گذارنے میں ہچکچا رہی تھی تو میںکیسے ایک ایسی لڑکی جو آغاز سے ہی آسائشوں میں پلی بڑھی تھی جسے کبھی زندگی کا کوئ دھکا ہی نہیں لگا تھا ۔ اور جس نے زندگی صرف بے فکری اور بے نیازی میں گذاری تھی ۔ میں کیسے اسے اپنے ساتھ اس کانٹوں بھری ڑندگی گذارنے کے لیۓ مجبور کر سکتا تھا ۔
تو مجھے یہی لگا کہ اسے آپشن دے دوں بہت زیادہ دیر نہیں ہوئ تھی ۔ ابھی کچھ وقت تو تھا زندگی میں اپنی ترجیحات سٹ کر لینے کا ۔ تو وہی میں نے آپ کو دیا تھا ۔
آپ کو حق تھا اور اب بھی ہے کہ آپ کو کیا چاہیۓ۔وہ آپ لے سکتی ہیں ۔ اپنے فیصلے خود بھی کرسکتی ہیں ۔ کوئ زور زبردستی نہیں ۔
لیکن مجھے نہیں معلوم تھا ۔میںجو بات کر رہا تھا وہ کچھ اور انداز میں آپ تک پہنچ رہی تھی ۔
اور آپ اپنی خودساختہ سوچ کو لیکر گھر سے ہی چلی جائینگی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔"ایک اداس مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی
ہ"ممم" ۔ وہ اسے دیکھنےلگی ۔۔" مجھے تو بس یہی لگا کہ تم مجھے جانے کے لیۓ کہہ رہے ہو ۔ غصہ ہی اتنا آیا تھا کہ ساری باتیں غور سے سنی ہی نہیں تھی ۔
تم نے بات ہی اس ڈھب سے کی تھی کہ۔۔۔۔۔۔خیر ۔۔کیا وہ بہت خوبصورت تھی ۔" "
"کیا "
اسکے انداز پر اسے کھل کر ہنسی آئ تھی ۔
" اف یہ عورت ذات بھی ۔۔۔" " میں خوبصورتی وغیرہ سے متاثر ہونے والا مرد نہیں ہوں ۔ مجھے تو کسی کی سادگی مار گئ تھی ۔میں تو اسکی سادگی پر مر مٹا تھا ۔ " اس نے اسکی آنکھوں میںدیکھ کر کہا تھا ۔اسکی نظریں جھک گئ تھیں ۔
" یہ مر مٹنا تھا تمہارا ۔پلٹ کر خبر تک نا لی ۔ " اسے یاد آ ہی گیا کہ وہ اس سے ناراض تھی ۔
" کوتاہیاں تو ہوئ ہیں ۔ آپ کے جانے کے بعد سمجھ آیا تھا کہ جو لڑکی نکاح کے ساتھ ہی میرے ماحول میںڈھلنے کی بات کر رہی تھی ۔میں نے اس پر اعتماد کیوں نا کیا ۔ وہ جو میرے لیۓ بہت کچھ برداشت کر رہی تھی اور عمر بھر برداشت کرنا چاہ رہی تھی ۔ میں وہ سب کیسے نظر انداز کر سکتا تھا ۔
مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ میں نے کچھ زیادتی کی تھی تو آنے کے سوا کوئ چارہ نہیں تھا ۔ اسکی کشش مجھے کھینچ لے آئ ۔ اسکے ہاتھوں پر اسکی گرفت مضبوط ہو گئ تھی۔
جاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں