میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط بتیس
میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط بتیس ۔
" افورڈ کر سکتا ہوں ۔ "کہتے ہوۓ وہ صوفہ کی سمت پلٹ گیا تھا ۔
ساری رات تہذیب کی آنکھوں میں وہ کافی کا پیک ناچتا رہا ۔ایک عجب سا احساس تھا جسے وہ نام نا دے سکی مگر وہ احساس بہت پر اثر تھا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے طہ نے کافی کا پیک نہیں ایک پھولوں کا گلدستہ دے دیا ہو ۔ایک مسحور کردینے والا احساس تھا ۔
شاید اسی احساس نے اسے اس کا احساس کر نے پر مجبور کیا تھا جب وہ بھری دوپہر میں اپنے کپڑے استری کر رہا تھا ۔ اپنی رائٹنگ ٹیبل پر کپڑا بچھاۓ وہ اپنی شرٹ استری کر رہا تھا جب وہ اسکے قریب آئ تھی ۔
" میں کردوں گی ۔ آپ ہٹیں ۔ اسکے ہاتھ سے شرٹ لینے کے لیۓ ہاتھ بڑھا یا ۔
" رہنے دیں ۔عادت نہیں ہو گی ۔ " وہ اسی کی بات لوٹا رہا تھا ۔
" کوشش تو ۔ کر سکتی ہوں ۔ میرے کپڑے اکثر کر لیا کرتی تھی ۔ اس نے جیسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ بھی اپنے گھر کام کرتی تھی ۔
" عابد یا اختری کر تے ہو نگے ۔" وہ اپنا شرٹ پھیلا رہا تھا ۔
" نہیں ۔ کبھی کبھی میں خود بھی کر تی تھی ۔ اب اس نے شرٹ پکڑ لی تھی تو وہ ہٹ گیا تھا ۔
وہ جلدی جلدی استری کپڑوں پر پھیرنے لگی ۔ پانچ منٹ میں وہ اسے شرٹ تھما چکی تھی ۔
تہذیب شرٹ دے کر پلٹ گئ تھی یہ دیکھے بنا کہ گھنی مونچھوں کے تلے طہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ تھی ۔
*********
وہ ایک تکلف کی دیوار تھی جو ڈھے رہی تھی مگر اس وقت تک جب تہذیب ابوالکلام کے گھر نہیں گئ تھی ۔
مارچ کا موسم تھا ۔سورج کی تپش سے ہر شۓ پگھلی جا رہی تھی ۔ وہ اس چھوٹے سے کمرے کے حبس سے پریشان تھی ۔ پنکھا فل اسپیڈ پر چل رہا تھا مگر پھر بھی پسینے کے ریلے تھے کہ بہے جا رہے تھے ۔ اس نے سکون سے سوۓ طہ کو دیکھا تھا ۔
کتنے سکون سے سو رہا تھا وہ ۔ کیا اسے کرمی نہیں لگ رہی ہوگی ۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔
"شاید جنوں کو گرمی نہیں لگتی "۔ وہ کلس کر رہ گئ تھی. اور اس رات گرمی سے بےحال وہ ٹھیک سے سو بھی نا سکی تھی۔
دوسری صبح طہ اسے ابو کے پاس چھوڑ گیا تھا اور وہ آج رات یہیں رکنے والی تھی ۔
یہاں اے سی کھول کر وہ حد درجہ خود ترسی میں مبتلا ہو گئ تھی ۔
اب اسکے کمرے میں اے سی تو لگنے سے رہا ۔ کہ طہ تو ہمیشہ اپنے بجٹ کا رونا روتے رہتا تھا ۔مگر ایک خیال پر اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔ ۔
وہ دوسرے دن اختری کے ساتھ گھر آگی تھی ۔طہ نے آفس میٹنگ کا بتا یا تھا ۔
اختری کے ساتھ آٹو میں آتے وہ ابوالکلام کے گھر کا ایک فالتو پڑا ہوا ٹیبل فین اٹھا لا ئ تھی ۔اور اپنے کمرے میں ایسی جگہ فٹ کیا کہ وہ اس کے لیۓ اور طہ کے لیۓ دونوں کو کام آۓ ۔ اختری جا چکی تھی ۔ وہ بہت خوشی سے فین لگا کر کچھ سکون سے بیٹھی تھی۔
طہ اپنا کام ختم کر کے اندر آیا تھا ۔اور اس ٹیبل فین کو دیکھ کر ٹھٹک گیا ۔
"یہ تو ماموں کا فین ہے یہ یہاں کیسے آیا ۔" اسکے انداز میں خشونت تھی ۔
" میں لائ تھی ۔ گرمی بہت ہو رہی تھی تو ۔۔" اس نے اطمینان سے کہا تھا ۔ یہ دیکھے بغیر کے اس کے چہرے پر بلا کا غضب چھا گیا تھا ۔
" کس سے پوچھ کر لائیں آپ ۔ " وہ دبی آواز میں چلایا تھا ۔
" ابو جی کے پاس تو بےکار ہی رکھا ہوا تھا ۔اور ۔۔"
" وہ کچھ بھی کرتے اس بےکار کے فالتو سامان کا ۔آپ کو کیا ضرورت تھی لے آنے کی ۔ " اس کے چہرہ غصہ کی حدت سے دہکنے لگا تھا ۔
" امی سے پو چھا تھا ۔ " اس نے ایک اور سوال کیا ۔
" نہیں ۔ " تہذیب کی نظریں جھک گئیں تھیں ۔ وہ تو اسکے غصہ کو ہی سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
" کیوں ۔ " اس نے اپنی آنکھیں اس پر گاڑیں ۔
" صرف پھپھو نہیں ہیں وہ ۔ساس بھی ہیں ۔ " اس بات پر وہ شرمندہ ہو گئ تھی ۔ سچ میں اسے پوچھ لینا چاہیۓ تھا ۔
" کبھی دیکھا ہے امی کو اپنے بھائ کے گھر سے کچھ چیزیں لاتے ہو ۓ۔ " اس کے سوال تھے کہ تیر ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
" امی کی پوری زندگی گذر گئ مگر انہوں نے کبھی اپنی ضرورتوں کا رونا اپنے بھائ کے سامنے نہیں رویا تھا ۔ اور آپ ۔۔۔۔دو دن میں گرمی برداشت نا کر سکیں اور فین اٹھا لائیں ۔ " وہ اب اسے شرمندہ کر رہا تھا ۔
" کل کی تاریخ میں یہ فین یہاں سے ہٹ جانا چاہیۓ۔ ورنہ میں اس کمرے میں ہی نہیں آؤں گا ۔ "اس نے غصہ سے پلگ کھینچا اور خود صوفہ پر لمبا لیٹ گیا ۔
تہذیب بس اندھیرے میں بیٹھی رہ گئ تھی ۔ اس کا اتنا شدید رد عمل ہو گا اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔
جاری
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں