میرے ہم نوا۔۔۔۔۔قسط اکتیس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط اکتیس 

" کیا ہوگیا ہے ۔‌" وہ ہو نٹ بھینچ کر اس کی طرف پلٹا تھا ۔

 " میں نے کہا تھا مجھے عادت نہیں ہے ۔"  وہ تھوڑا پیچھے ہٹ کر بولی تھی ۔ اب وہ دونوں ہی گاڑی سے اتر گۓ تھے ۔

"  کیا مطلب عادت نہیں ہے کامن سینس بھی کوئ چیز ہو تی ہے ۔ ڈھنگ سے بیٹھ تو سکتی تھیں ۔ " وہ اب برسنے کے قریب تھا ۔

" تو آپ اس طرح بریک لگائیں گے تو ۔۔۔" 

"  یعنی میں جان بوجھ کر بریک لگا رہا ہوں ۔ اتنا چھچھورا لگ رہا ہوں میں ۔ اس کے غصہ کو اس الزام نے جیسے اور بڑھا دیا تھا ۔

" نہیں ۔ مگر ۔۔۔ " 

" مگر کیا  اربیہ بھی بیٹھتی ہے مگر اس طرح مجال ہے جو کبھی یوں آ گری ہو ۔ حالانکہ وہ روز بس سے جاتی ہے ۔اسے بھی عادت نہیں ہے بائیک پر بیٹھنے کی ۔ امیری والا رعب جتانا ضروری ہو تا ہے شاید "  اسکے ہتک والے انداز پر تہذیب کا منہ سرخ ہو گیا ۔

" میں آٹو سے جاؤں گی۔ یہ کہتی اس نے سامنے جاتے ایک آٹو کو روک دیا تھا ۔ اور اس میں بیٹھ  گئ تھی اور اسکے سامنے آتو نکل بھی گیا اور وہ غصہ سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا ۔۔جب وہ گھر میں داخل ہوا تو نظیر صاحب اور اربیہ سونے چلے گۓ تھے ۔اور اظہار دوست کے پاس گیا ہوا تھا ۔ امی ہی دالان میں بیٹھی تھیں ۔

" کیا ہوا ۔طہ ۔تم دونوں الگ الگ کیوں آۓ ۔ ان کا پریشان ہو نا جائز تھا ۔

" امی ۔راستہ میں میری گاڑی خراب ہو گئ تھی تو میں نے ہی آٹو میں بھیجا تھا ۔ " وہ انہیں مطمئن کرتا اندر چلا گیا تھا ۔

وہ غصہ سے اندر داخل ہوا تھا  ۔تہذیب بھی بیڈ پر برہم سی بیٹھی تھی ۔

اسے غصہ سے گھورتے اس نے  اپنے کپڑوں کی المار ی کھولی تھی ۔ اور اپنے کپڑے نکال لیۓ تھے ۔ تہذیب کو گھو رتا وہ باہر چلا گیا تھا ۔ تہذیب کی برہمی بھی بدستور تھی ۔ اس کا چہرہ بھی اسکی اندر کے جذبات کا غماز تھا ۔

کچھ دیر بعد و ہ کپڑے بدل کر آ گیا تھا اور صوفہ پر بیٹھ گیا تھا ۔ اور اپنے   غصہ کو  وہ اب بھی کنٹرول کرنے میں لگا تھا ۔

کافی دیر کے بعد اس نے برہم سے لہجہ میں کہا تھا ۔

" مجھے آپ کا یہ انداز سخت ناگوار گذرا ہے لیکن میں خوامخواہ بات بڑھاؤں گا نہیں ۔ آئندہ اس قسم کی کوئ حرکت قابل قبول نہیں ہو گی ۔" 

تہذیب بھی اپنے آپ پر ضبط کے پہرے بٹھا رہی تھی دل تو اس کا چیخ چیخ کر لڑنے کو چاہ رہا تھا مگر اسکی مشکل یہ تھی کو طہ کے سامنے اسکی آواز ہی نہیں نکل پاتی تھی ۔

اور ہمارے گھر کے ماحول میں یوں لڑائی جھگڑے بھی عام بات نہیں ہیں ۔ میں نے امی کو گاڑی خراب ہونے کا بہانا بنادیا تاکہ وہ کچھ بھی فیل نا کریں ۔ امید ہے آپ میری فیملی کا خیال کریں گی ۔ وہ اب لفظ چبا چبا کر ادا کر رہا تھا ۔

" جی ۔ فکر مت کریں وہ صرف آپ کی ہی نہیں میری فیملی بھی ہے۔ " وہ بھی غصہ سے تڑخ کر بولی تھی اور جھٹکے سے لائٹ آف کر کے لیٹ گئ تھی ۔ 

********** 

اس واقعے کے بعد تو جو ان دونوں کے بیچ بیگانی فضا چھاگئ وہ دور ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ بات تو وہ دونوں یوں بھی نہیں کرتے تھے اب تو ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ پھیر لیتے تھے ۔ اسی طرح کئ دن گزر گۓ ۔ 

وہ کمرے میں اپنے آفس کا کام لے کر بیٹھا تھا ۔ فایلز سامنے رکھے وہ اپنے لکھنے پر توجہ مرکوز کیۓ ہوۓ تھا جب اربیہ ان دونوں کے لیۓ چاۓ لے آئ تھی ۔ تہذیب اپنی الماری میں اپنے کپڑے سٹ کر رہی تھی ۔

آپی چاۓ لے لیں ۔ اربیہ نے اسے بھی متوجہ کیا تو اس نے اسکے ہاتھ سے چاۓ لے لی تھی اور تپائ پر رکھ دی تھی ۔ 

طہ نے اپنی چاۓ پی لی تھی ۔ کچھ دیر بعد وہ بھی اٹھی تھی اور اپنا اور طہ کا کپ لیکر باہر چلی گئ تھی ۔ 

****

وہ رات میں اپنے بیڈ کی جادر ٹھیک کر رہی تھی جب اس نے طہ کو ٹیبل پر کافی کا پیک  رکھتے ہو ۓ دیکھا تھا ۔وہ چونک کر پلٹی تھی ۔ 

کافی ۔لیکن کیوں لا ۓ ۔"

آ"آپ چا ۓ نہیں پیتیں ۔ کافی پیتی ہیں۔"وہ چپ رہی ۔( پتا نہیں اسے کیسے پتا چلا ۔) وہ ہمیشہ کافی پیتی تھی لیکن یہاں کسی کو اسکے شوق کا پتا نہیں تھا اور اس نے بولنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا ۔


 یہ بات آپ   مجھے کہہ سکتی تھیں ۔ ٹیبل کے اس کنارے ٹہرے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

" اسکی کیا ضرورت تھی ۔ خوامخواہ کا خرچہ ۔۔۔"  

جاری 



۔ ۔۔۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ