میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط چالیس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط چالیس 

وقت گذر رہا تھا ۔ ہر دن  ان دونں کے بیچ جہاں قلبی فاصلہ کم ہو رہا تھا وہاں ایک  گریز بھی پیدا ہو گیا تھا ۔وہ ایک دوسرے سے کتراۓ کتراۓ پھر نے لگے تھے ۔ اسے اسکی بولتی نظریں ہراساں کر نے لگی تھیں ۔ ایک جھجھک سی ہو گئ تھی ۔ایک دوسرے کے لیۓ ۔ جب تک طہ سو نہیں جاتا وہ  کمرے میں قدم بھی نا رکھتی یا  اسکے انے سے پہلے ہی لائٹ بند کر۔ دیتی اور  سونے کی کوشش کر نے لگتی ۔ 

ایک حجاب تھا جو ان دونوں کے بیچ حا ئل تھا ۔

آج وہ سب ہال میں بیٹھے تھے۔ صابرہ بیگم ترکاری لیۓ بیٹھی تھیں جبکہ طہ اپنا رائٹنگ  ورک کر رہا تھا ۔وہ اور  اربیہ ایک میگزین میں سر دیۓ بیٹھی تھیں ۔جب طہ کا فون بجا تھا ۔

اس نے فون اٹھا لیا تھا اور وہاں کی بات سننے کے بعد اس کے جہرے پر پریشانی کے تاثرات   چھا گۓ  تھے۔

جی ٹھیک ہے ۔ ہاں ۔میں  دیکھتا ہوں ۔آپ فکر مند نا ہوں ۔ وہ یہ کہکر فون رکھ چکا تھا ۔ صابرہ بیگم اسے ہی دیکھ رہی تھیں ۔

کس کا فون تھا ۔ " 

" امی ۔ وہ رابعہ خالہ نے فون کیا تھا ۔ اکبر خالو کو برین اسٹروک ہو گیا ہے ۔وہ کومہ میں چلے  گۓ ہیں ۔ " اسکے بولنے پر صابرہ بیگم نے بے ساختہ دل بر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔

" یا اللہ ۔ رابعہ تو بہت پریشان ہو گی ۔ طہ ۔ہمیں جانا چاہیۓ ۔ " 

" جی ۔امی ابا آجائیں سب ملکر جائیں گے ۔ واقعی بہت بری خبر ہے یہ ۔ " وہ بھی افسوس سے بولا تھا۔

" ایک اکبر  خالو کے دم سے تو گھر چل رہا تھا ۔اشعر تو بالکل ہی بے کاری میں ہے ۔ ایسے میں یہ حادثہ بہت افسوس ناک ہے ۔ " وہ دل سوزی سے کہہ رہا تھا ۔

شام تک نظیر صاحب بھی آگۓ تھے ۔وہ سب   اب جانے کی تیاری میں تھے ۔ وہ کمرے میں آ یا تو وہ غصہ سے بھری بیٹھی تھی ۔

" آپ لوگ سچ میں جا رہے ہیں ہاسپٹل ۔اکبر پھوپھا کو دیکھنے ۔ " اس کا لہجہ تیکھا تھا ۔

ہاں ۔ کیوں ۔ " وہ اسکے لہجہ پر چونکا تھا ۔

" انہوں نے جو کچھ ہم لوگوں کے ساتھ کیا اسکے باوجود ۔۔۔۔" اس نے اپنا لہجہ دھیما ہی رکھا تھا گو کہ وہ اندر سے پھٹ پڑنے کو تیار تھی ۔

" اشعر بھی تو ہو گا وہاں ۔ " وہ اسے جانے کیا جتانا جاہ رہی تھی ۔

" ہاں ۔تو ۔ " وہ اب اسے دیکھنے لگا ۔

" اشعر کو پہلے بھی ہینڈل کر جکا ہوں ۔ابھی بھی کر سکتا ہوں ۔ اب وہ ہاسپٹل میں تو لڑنے نہیں بیٹھے گا جبکہ اسکا خود کے باپ کی حالت نازک ہو ۔" 

" اگر ۔ابو جی کو پتا چلا تو ۔۔۔" 

" ماموں کو تو پتا چلے گا ہی ۔ بلکہ مجھے یقین ہے کہ وہ ہم  سے پہلے وہاں موجود ہو ں گے۔

" اس نے اتنے یقین سے کہا کہ وہ لا جواب سی ہو گئ ۔

" اتنا جانتے ہو کیا ابو جی کو ۔۔  " 

" ہاں ۔جتنا  اچھا وہ مجھے جانتے ہیں اتنا ہی میں بھی انہیں جانتا ہوں ۔ "  وہ کہہ کر رکا بھی نہیں تھا ۔الماری سے کچھ رقم لے کر وہ نکلا تھا ۔

وہ صابرہ بیگم اور نظیر صاحب کو لیکر شام میں ہاسپٹل کے لیۓ نکل چکا تھا ۔ وہ جب ہاسپٹل پہنچے تو اسکی توقع کے مطابق ابوالکلام وہاں پہلے ہی سے موجود تھے ۔ ان لوگوں کو دیکھ کر وہ  ان لوگوں کے قریب آ گۓ تھے ۔

" اچھا ہوا ۔تم لوگ آگۓ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔ " 

" اب اکبر خالو کی حالت کیسی ہے ۔ " اس نے پو چھا تھا ۔

" ابھی تو وہ کومہ میں ہی ہے ۔ آپریشن کا کہہ رہے ہیں ڈاکٹرز ۔ وہی ڈسکس کرنا تھا ڈاکٹر سے ۔ " انہوں نے بتا یا تھا ۔

" اچھا ۔ میں امی ابو کو رابعہ خالہ کے پاس چھوڑ آتا ہوں ۔ بھر ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ۔ " وہ ان دو نوں کو لیکر آگے بڑھا ۔تھا جہاں رابعہ اور انکی دوسری بیٹیاں وغیرہ تھیں ۔

رابعہ صابرہ کو دیکھ کر رونے لگی تھیں ۔ جبکہ صابرہ بیگم بھی اپنی آنکھیں پونچھنے لگیں ۔

شاہینہ مراد وغیرہ بھی اب طہ سے بات کر رہے  تھے ۔جبکہ وہاں اشعر ایسی جگہ کھڑا تھا کہ وہ کسی کو نظر نا آۓ۔ 

اامی کہ وہیں چھوڑ کر وہ ابوالکلام کو لیکر ڈاکٹرز کے کیبن کی طرف بڑھا تھا ۔

وہیں ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپریشن تو نا گزیر ہے ۔ لیکن اسکی بھی کوئ گارنٹی نہیں کہ وہ آپریشن کے بعد بھی نارمل ہو جائیں گے ۔۔لیکن ان لوگوں کو رسک تو لینا ہی تھا  ۔ اس لیۓ ان سب نے مل کر آپریشن کے لیۓ منظوری دے دی تھی ۔مراد قدیر بھی ان کے ساتھ ہی تھے ۔آبریشن  دوسرے دن ہی  رکھا گیا تھا ۔ اکبر سیٹھ ہنوز کومہ میں تھے ۔ اب رقم کا انتظام کرنا تھا۔ جو کہ سب کو مل کر ہی کرنا تھا ۔ طہ اور ابوالکلام نے اس میں اپنا حصہ بھی ڈالنے کی بات کی تھی ۔

وہ واپس گھر آگۓ تھے ۔

" ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیۓ جو دوسروں کی زندگی میں کانٹے بوتے ہیں ان کی زندگی میں پھول کہاں سے آئیں ۔ " 

یہ تہذیب کا پہلا تبصرہ تھا جب اسے ان سب کا پتا چلا تھا ۔

" یہ تو غلط بات ہے ۔ یہاں ہر ایک کو اس کے کیۓ کی سزا بھگتنی ہے ۔ مگر ہم کون ہو تے ہیں یہ کہنے والے کہ کس کو کیا سزا ملی ۔ یہاں تو ہر ایک پر ایسا  وقت آ سکتا ہے ۔ " طہ نے اختلاف کیا تھا ۔

" مکافات عمل کہتے ہیں اس کو ۔ " وہ طنزیہ بولی تھی ۔

" بے شک ۔ مکافات عمل ایک حقیقت ہے۔لیکن یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑنا چاہیۓ نا کہ ہم فیصلہ سناتے پھریں ۔‌کہ اس نے اپنے کیۓ کی سزا پائ ۔ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس کے اس عمل کی وجہہ سے اسکو یہ نقصان پہنچا ۔ یا اس بیماری نے آ گھیرا ۔ "







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ