حقیقی علم

 میرے خیال میں حقیقی علم کا مطلب ایک ہی ہے اور وہ ہے ایسا علم جو آپ کے دل میں الہام کی طرح اترے ۔ علم سمندر سے بھی گہرا ہو تا ہے اور حقیقی علم اس کا موتی انمول موتی ۔ 

علم حاصل کرنا فرض ہے ۔ اور وہ علم جو ہم پر فرض ہے وہ دین کا  علم ہے کیونکہ علوم کئ ہیں ۔ لیکن وہ سارے علوم بےکار ہیں جب آپ حقیقی علم سے بہرہ مند نہیں ۔اگر آپ اپنے خالق کو پہچان نا سکے ۔اسکی حقیقت کو پہچان نا سکے تو آپ نے دنیاوی علوم بے شک حاصل کیۓ ہوں مگر وہ سب فضول ہی ہیں کہ دین کا علم ہی اصل علم ہے ۔

اس حقیقی علم کے لیۓ یہ ضروری نہیں کہ آپ عربی اردو میں مہارت حاصل کریں کہ وہ تو ایک ذریعہ ہے ۔ مگر حقیقی علم کی معرفت زبان سے نہیں تقوی سے حاصل ہو تی ہے ۔ آج دنیاۓ اسلام میں کئ جید علماۓ کرام ہیں جو عربی اردو انگریزی پر مکمل عبور رکھتے ہیں مگر کیا وہ حقیقی علم سے روشناس ہیں ۔ ؟ 

کیا انہیں دیکھ کر ہمیں اللہ یاد آتا ہے ۔ 

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ وہ ہمارے سچے حقیقی رہبر ہیں ۔

دین کا علم حاصل کرنا الگ بات ہے عمل کرنا الگ بات ہے ۔

گفتار کے غازی تو بہت ہیں کردار کے غازی کہاں ہیں ۔ 

اس پر لکھنا تو بہت چاہ رہی تھی مگر وہی وقت کی کمی ۔۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ