میرے ہم نوا ۔۔قط ستائس

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط ستائس 

"  اگر مگر کے آگے تو بس وہم ہو تے ہیں ۔حقیقت کو قبول کرنا اور خوشدلی سے قبول کرنا ہی عقلمندی ہے ۔ تہذیب اگر خوش نہیں تو اسکے چہرے پر وہ ویرانی بھی نہیں ہے جو اس نکاح سے پہلے تھی ۔بے یقین مستقبل نے اس کے چہرے کی شادابی ہی کھو دی تھی ۔مگر اب اس نے طہ کے ساتھ اپنے مستقبل کو قبول کر لیا ہے ۔ اگراب  اس طرح کے شکوک طہ کے سامنے ظاہر کرو گی تو وہ تہذیب کو ہی واپس یہاں بھیج دے گا۔۔ کہ اگر شک کرنا تھا تو شادی کیوں کی ۔ اس لیے اسکے سامنے ایسی حماقتیں مت کرنا ۔  " وہ اب بہت سنجیدگی سےکہہ رہے تھے ۔

" میں اتنی بے وقوف ہوں کیا ۔ " وہ برا مان گئیں تھیں ۔

" اتنی نہیں کچھ تو ہیں ۔ " ابوالکلام نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔

"' یہ اچھا ہو ا کہ اشعر نے آگے کچھ ہنگامہ نہیں کیا ۔ پتا نہیں کہاں ہے ۔ "  انہیں اچانک اشعر یاد آگیا تھا ۔

" وہ جہاں بھی ہوگا ۔ اسکی ٹھیک ٹھاک خاطر تواضع ہو رہی ہو گی ۔اسکی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ " انہوں نے بات ختم کر دی تھی ۔

******* 

وہ سب رات کے دیڑھ بجے تک پہنچ چکے تھے ۔ نظیر صاحب اور صابرہ  بیگم کو آج کا فنکشن  دل کو بھا گیا تھا ۔

" کسی زمانے میں فنکشن مطلب درد سر ہو تا تھا ۔ شادی بیاہ کی دعوت کی تیاری میں تو مہینوں لگ جاتے تھے ۔ کپڑوں کی خریداری سے لیکر سلوائ اور پھر اس پر زری لگانا وغیرہ اور پھر بہترین چاول خریدنا ۔ مصالحہ جات کی خریداری اور کوٹ پیس  کر رکھنا ۔۔۔شادیوں کی تھکان تو مہینوں نہیں اترتی تھی ۔ کام کر کر کے تو کمر تختہ ہو جاتی تھی ۔ ور آج دیکھو ۔ مہمانوں کی طرح تیار ہوۓ اور کھا پی کر گھر واپس ۔۔۔۔ ۔صابرہ بیگم ہنستے ہویۓ کہہ رہی تھیں ۔

نظیر صاحب بھی ہنس کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے ۔

" خواتین کو کافی سہولت ہو گئ ہے ۔ ورنہ تو جس کے یہاں دعوت ہو تی وہاں اکثر مرد و خواتین انتظامات میں ہی بھاگتے دوڑتے نظر آ رہے ہو تے تھے اور ایسے میں اکثر مہمانوں سے ملاقات بھی نہیں ہو پاتی تھی ۔ اکثر بعد میں شکوہ کر رہے ہو تے تھے کہ فلاں سے ملاقات نہیں ہو ئ  یا اکثر مہمانوں کو شکو ہ رہتا  تھاکہ ہم سے تو دلہن کی والدہ ملی ہی نہیں ۔ یا  دلہے کے والد  ہی غائب تھے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

" امی ۔ابو دولہا دولہن تخلیہ چاہتے ہیں اور ہم تکیہ ۔۔۔" اظہار ان دونوں کے مسلسل بولنے سے بےزار ، جماہی لیتے بڑ بڑایا تو امی کو بھی یاد آگیا کہ رات بھی کافی ہو گئ ہے ۔ وہ اربیہ کو آوازیں دینے لگیں کہ جلدی سے سب کے لیۓ بستر لگا دے ۔ جبکہ تہذیب تو اپنے کمرے میں پہلے ہی چلی گئ تھی ۔ طہ بھی کچھ دیر تک وہیں بیٹھا رہا تھا کہ تہذیب نے کپڑے بھی چینج کر نے ہو تے تھے ۔ 

ہمیشہ کی طرح دروازہ کی "کھٹ" پر ہی وہ اٹھا تھا ۔اور اندر چلا گیا تھا ۔اس کا خود کا  بھی تھکاوٹ سے برا حال تھا گو کہ ارینجمنٹ ہو ٹل والوں کے ذمہ تھی مگر دو تین گھنٹے  مسلسل سب سے ملتے ملاتے اس کے پیر جواب دےگۓ تھے ۔

اس نے دروازہ بند کر کے پلٹ کر دیکھا تو وہ بھی کروٹ بدلے پلٹ کر سو چکی تھی ۔ 

اس کا صوفہ پر تکیہ اور کمبل بھی رکھ دیا تھا ۔ اور اپنے کپڑے تہہ کر کے ٹیبل پر رکھ چکی تھی ۔

" چلو ۔بولنے سے پہلے ہی اتنا سب کر لیا ۔ گڈ ۔ " اپنے تھکے ہوۓ وجود کو صوفہ پر ڈالتے اس کا پہلا خیال یہی  تھا ۔

************ 

آج اسے تہذیب کو ماموں کےپاس چھوڑنے جا نا تھا ۔ امی نے اسےصبح ہی بتا دیا تھا ۔ اس کا ارادہ  اسے  ماموں کے پاس چھوڑ کر آفس جانے کا تھا ۔ تہذیب تیار ہو کر آگئ تو صابرہ بیگم اسے یوں صرف ہینڈ بیگ کے ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئیں۔ 

"  ارے ۔ دو جوڑ کپڑے بھی رکھ لیتیں تہذیب ۔ دو دن تو رکو گی ناں بھائ کے پاس ۔ " 

" نہیں ۔ شام تک آجائیں گی  وہ ۔ " طہ نے اپنے جوتے پہنتے ہوۓ کہا تھا ۔ تہذیب خاموش ہی کھڑی رہی ۔

" لیکن پہلی بار جا رہی ہے تو دو دن تو رہنے دیتے ۔ " وہ اب بھی حیران ہی تھیں ۔ انہیں طہ کی شرائط وغیرہ کا پتا نہیں تھا ۔ اس لیۓ انکی حیرت فطری تھی۔ 

" یا بیوی کے بغیر نیند نہیں آتی تمہیں اس لیۓ رکنے نہیں دے رہے ۔ " وہ ہنسی تھیں ۔طہ بری طرح سٹپٹایا تھا ۔ اسے امی سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی ۔ جبکہ تہذیب منہ پر دوپٹہ ڈالے آگے ہی چلی گئ تھی ۔ اف یہ پھپھو بھی ۔۔۔۔

" جی نہیں ۔ ایسی کوئ بات نہیں ہے ۔ " وہ سنبھل گیا تھا ۔

" ماموں کا فرمان ہو تا تھا آپ کے لیۓ کہ شادی شدہ بیٹی کو صبح آکر شام تک چلے جانا  چاہیۓ تو میں انکے دیۓ ہوۓ سبق ان ہی کو لوٹا رہا ہوں ۔

"  یہ کیا بات ہوئ ۔ تم ایسی باتیں پکڑ کر بیٹھے ہو ۔ میں انکی بہن تھی وہ بیٹی ہے کچھ تو فرق ہو گا ۔ "  وہ صدمہ سے بولیں تھیں ۔

 " آپ بھی اس گھر کی بیٹی ہی تھیں امی ۔ تہذیب بھی بیٹی ہی ہے ۔ پھر اس کے لیۓ اصول الگ کیوں ہونگے ۔ " وہ اب مضبوط لہجہ میں کہتا آگے بڑھ رہا تھا ۔

" شرمندہ کرو گے کیا بھائ کے سامنے ۔ " وہ اداس ہو گئیں۔ نجانے کیا کچھ یاد آ گیا تھا ۔

 " اچھا خدا حافظ امی ۔ " وہ اب نکل چکا تھا چونکہ تہذیب باہر جا چکی تھی ۔

طہ نے کار منگوا لی تھی ۔ تہذیب کو کچھ حیرت تو ہو ئ مگر اس نے کچھ کہا نہیں ۔ وہ اندر بیٹھ گئ تھی ۔ اسکا خیال تھا وہ ڈرائیور کے ساتھ سامنے بیٹھے گا مگر وہ ڈرائیور کو ایڈرس بتا کر پیچھے آیا تھا ۔ اور اسکے قریب آ کر بیٹھ گیا تھا ۔

جاری ہے 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ