میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 47

 وہ لوگ شام کی چاۓ کے لیۓ دالان میں بیٹھی تھیں ۔تبھی عابد آیا تھا ۔

" آپ کا تو گھر بن رہا ہے تہذیب باجی " وہ کسی کا م‌سے بازار گیا تھا اور اب آیا تو یہ خبر لیکر ۔

" کیا ۔ تجھے کیسے پتا چلا ۔ " شمیم آرا حیران ہو ئیں  تھیں ۔ حیرت کا جھٹکا تہذیب کو بھی لگا تھا ۔

ابوالکلام ابھی وہاں سے اٹھ کر گۓ تھے ۔ وہ دونوں ہی تھیں ۔

" طہ بھائ کے پلاٹ تک گیا تھا میں ۔ تو وہاں طہ بھائ کھڑے مزدوروں کو ہدایات دے رہے تھے ۔ " اس نے جوش و خروش سے بتایا ۔

" ہاں تو تم وہاں جاتےاور بات کر آتے طہ سے ۔ ایسے ہی کیوں آگۓ۔ " شمیم آرا کو غصہ آیا ۔

" نا با با ۔ طہ بھائ تو غصہ میں تھے ۔ میں وہاں جا کر اپنی شامت کیوں بلواتا ۔ چپکے سے کھسک آیا ۔ وہ کہتا اندر بڑھ گیا تھا ۔

" تم سے کچھ نہیں کہا تھا طہ نے گھر کے متعلق ۔ " اب وہ اسکی طرف پلٹی تھیں ۔

" امی ۔ میں یہاں ہوں تو مجھے کیسے پتا چلتا ۔ اگر وہاں ہوتی تو مجھے بھی علم ہوتا ۔ " وہ چڑ کر بولی تھی اور پھر وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئ تھی ۔

ماں  کو تو بہلا لیا تھا مگر  اب   موٹے موٹے آنسو خود  اسکی آنکھوں میں تیرنے لگے تھے ۔

" ہونہہ ۔پتا نہیں کیا سمجھتا ہے ۔ اگر گھر کا  بتا دیتا تو ۔ خوش ہی ہوتی میں ۔ مگر نہیں جی ۔ طہ ہ صاحب کیوں خوش ہونے دیں تہذیب کو ۔دل جلانے کے لیۓ شادی کی تھی ۔ اور شادی بھی کیا تھی ۔شرائط کا پلندہ ۔ یہ کرنا چاہیۓ ۔وہ کرنا چاہیۓ۔ ہونہہ ۔ اب تو ساری شرائط کو آگ لگا دینے کو جی جاہتا ہے ۔ مجال ہے ان تین مہینوں میں کسی نے کچھ خبر بھی لی ہو ۔ ایسے جیسےتہذیب نامی کوئ ہستی انکی زندگی میں تھی ہی نہیں ۔ 

اور مجھے دیکھو ۔ سب کو ایسے یاد کر رہی ہوں جیسے کہ میرا وجود انکے بغیر کچھ ہے ہی نہیں ۔اور تو اور کان ہیں کہ بس اس کی ہی آہٹوں کے منتظر ۔ 

دس بار تو فون چیک کرتی رہتی ہوں کہ شاید اس نے کچھ میسیج ہی بھیجا ہو ۔ 

مگر نہیں ۔ وہاں تو ایک "ہیلو "بھی نہیں ۔

آخر وہ چاہتا کیا ہے ۔ 

وہ تھک ہار کر اب پھر سے رونے بیٹھ گئ تھی ۔

*********

آپ نے سنا ۔طہ گھر بنا رہا ہے بلکہ کام شروع بھی ہو گیا ہے ۔آج عابد باہر گیا تو دیکھ آیا تھا ۔‌" ابوالکلام جیسے ہی وہاں آۓ تھے شمیم آرا نے فوراً انہیں مطلع کیا تھا ۔

" ہاں ۔ مجھے نظیر صاحب نے بتایا تھا اور طہ اسی میں مصروف ہے ۔" انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔

" مصروف ہو بھی تو بندہ بیوی کے لیۓ وقت نکال ہی لیتا ہے ۔ یہ کیا کہ پلٹ کر خبر تک نا لی ۔ " وہ اب دکھ سے بو لی تھیں ۔ وہ روز تہذیب کو خود سے الجھتے دیکھ رہی تھیں ۔ ماں تھیں اسکی کیفیات بھی سمجھ رہی تھیں ۔

" تہذیب نے کچھ کہا "  انہوں نے انہیں رک کر دیکھا تھا ۔

" وہ کچھ کہتی نہیں ۔ بس کچھ پو جھ۔ تو چڑ کر اٹھ کر چلی جاتی ہے ۔ آخر میں نے کہا۔ " اسے چھوڑ دو ۔ "  طلاق کا حق تو  تمہارے پاس ہی ہے ۔ بس غصہ سے یہ کہکر نکل گئ کہ ۔ وہ کبھی طلاق نہیں لے گی ۔

" گھر چھوڑنا عورت کی آخری غلطی ہوتی ہے ۔اسے یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ " وہ کچھ متفکر سے تھے۔

" ہاں مگر ۔۔۔ایسی بھی کیا بے رخی کہ دل کو لگا لیا ۔" وہ اب دب کر بولیں تھیں ۔

" دل کو نہیں انا  کو لگا لیا ہےطہ  نے۔" اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گۓ تھے ۔

" اب ویسے بھی رمضان آنے سے پہلے مجھے سب کی دعوت کرنی ہے حج کو جانے سے پہلے یہ میری دعوت  ہو گی تو اس میں سب کو بلانا ہی ہے ۔ تب بات کروں گا میں طہ اور نظیر صاحب سے ۔ " 

" ہاں ۔ یہ ٹھیک ہے  مگر طہ نہیں آیا تو ۔۔۔۔" وہ یکبارگی خوش بھی ہو گئ تھیں اور ایک خدشہ نے سر بھی اٹھا یا تھا ۔

ان کی بات پر ابوالکلام نے کجھ نہیں کہا تھا ۔ 

*******

اسے اپنا خود کا ذاتی گھر بنانے کی شدید خواہش تھی ۔ اور اب جب وہ پوری ہو رہی تھی تو دل تھا کہ بے کل تھا ۔۔ وہ روز آفس جاتا اور پھر گھر آتے ہی اپنے پلاٹ کی جانب بھاگتا ۔وہاں بلڈر کے ساتھ مغز پاچی کرتے شام ہو جاتی ۔کبھی ریت کم پڑ جاتی کبھی سمنٹ تو کبھی پانی کی ٹینکر منگوانی ہوتی ۔ مزدوروں کی جا ۓ پانی بھی دیکھنی ہو تی ۔ اکثر مزدور کام سے بچنے کے لیۓ کبھی حیلے بہانے کرتے تھے ۔ ان پر نظر رکھنی ہوتی تھی ۔

بلڈر حیلہ بہانوں سے رقم کا تقاضا کرتا تھا ۔ جس کو لیکر بھی کافی بحث ہو جاتی تھی ۔

اتنی مصروفیات میں بھی  کہیں سے اسکی یاد چھم سے آ جاتی تھی ۔ کبھی  مسکر اتی ہوئ تو کبھی سرخ چہرہ لیۓ بگڑے منہ بناتی ۔ یوں لگتا وہ جہاں بھی دیکھے گا وہ وہاں نظر آجائیگی ۔ 

آنکھ بند کرو تو حاضر آنکھ کھو لو تو بھی حاضر ۔

تم کیسی ہو ۔ جان سے چمٹ گئ ہو ۔ یا جان ہی بن گئ ہو ۔

وہ چڑ کر سوچتا رہتا ۔

دھیما دھیما سا سلگتا احساس اسے بے چین‌کیۓ رکھتا ۔







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ