میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 46

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 46

اب ایک مہینہ کے قریب ہو گیا تھا اسے یہاں آۓ ۔ وہ اب ناشتہ کے لیۓ ٹیبل پر ابوالکلام اور شمیم آرا کے ساتھ۔  غائب دماغی سے بیٹھی تھی۔ اسے" اس" کے گھر کی چہل پہل یاد آنے لگتی تھی ۔ 

" کیا ہوا ۔تہذیب ۔ کھا نہیں رہی ہو ۔ ہاتھ کیوں روکا ہوا ہے تم نے ۔ " شمیم آرا کو اسکی خاموشی کھلی تھی ۔

" امی ۔اختری نے دال صحیح نہیں بنائ ۔ کھٹی کر دی ہے ۔ مجھ سے کھائ نہیں جا رہی۔ پھپھو دال بہت اچھی بناتی ہیں ۔  ۔ " اس نے روٹی کا نوالہ لیتے ہوۓ کہا تھا.

" اف ۔تم اور تمہاری پھپھو کے قصیدے ۔ " شمیم آرا ہنسیں ۔ 

" بچپن سے اختری کے ہاتھ کا کھائ ہو ۔اور اب تمہیں اسکے ہاتھ کا کھانا  پسند نہیں آرہا ۔ " 

" اگر پھپھو کی یاد آرہی ہے تو بات کر لو صابرہ سے ۔ کس۔ نے منع کیا ہے ۔ " اب ابوالکلام اسکی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔ 

" جی ۔ کر لوں گی ۔ " اس نے صاف منع نہیں کیا تھا ۔مگر دل ہی  دل میں وہ سب سے بد گمان بھی ہو گئ تھی ۔ 

کسی نے ایک بار بھی اس سے بات نہیں کی تھی  ۔ اتنے دن ہو گۓ تھے۔ اربیہ تو بات کر سکتی تھی وہ اسکی بھابھی بعد میں دوست پہلے تھی ۔ لیکن کسی نے بھی اسے یاد نہیں کیا تھا ۔تو وہ کیوں سب کو یاد کرتی ۔ 

" سنا ہے محتشم آۓ تھے ۔ باہر سے " شمیم آرا کو اچانک یاد آیا تھا جس پر تہذیب نے انہیں چونکہ کر دیکھا تھا ۔وہ ابوالکلام سے مخاطب تھیں ۔

" ہاں ۔ مجھ سے بات کی تھی  اس نے ۔ اب وہ جا بھی چکا ہے ۔ " ابو الکلام نے مختصراً کہا تھا ۔

" کچھ نہیں بتایا  اس نے کہ وہ اس طرح کیسے منظر سے غائب ہوا تھا ۔ " شمیم آرا نے فوراً وہی سوال کیا تھا جسکے جواب کا سب کو شدت سے انتظار تھا ۔ تہذیب نے بھی اپنے کان ادھر ہی لگاۓ تھے ۔

" ہاں ۔ کہہ رہا تھا اسے اشعر کے دوستوں نے دو دن اپنی قید میں رکھا تھا مگر پھر کسی طرح وہ انکے چنگل سے نکلا تھا ۔اور  دبئ چلا گیا تھا ۔" 

" وہ اس وقت یہاں  کیوں نہیں آیا ۔ یہاں سب تو اسکے منتظر تھے ۔ "و ہ اب حیران تھیں ۔

" دراصل جب وہ وہاں سے بچ کر اپنے باس کے پاس چلا گیا تھا ۔ وتو اسکے باس نے اسے آفر دی تھی کہ وہ اسکی بیٹی سے شادی کرلے تو وہ اسے دبئ میں مکمل کمپنی کے ساتھ سٹ کر دے گا ۔   اس آفر کے بعد وہ یہاں کیوں آتا ۔اس نے اپنے بہتر مستقبل کو تر جیح دی ۔ " وہ بہت عام سے انداز میں بتا رہے تھے جبکہ انکی یہ بات سن کر تہذیب کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔

" تو ہماری تہذیب سے شادی سے اسے کیا نقصان ہوتا یا اسکے مستقبل کو ۔" شمیم آرا کو غصہ آ گیا تھا ۔

" وہ بات الگ تھی ۔ جس طرح اشعر نے اغوا کا ڈرامہ کیا وہ کچھ خوفزدہ ہو گیا تھا ۔اسے لکا اسے اس قسم کی سیاست سے دور ہی جا نا چاہیۓ ۔ ویسے بھی اس کا باس کروڑوں کا ملک ہے ہمارا اس کا تقابل ہی نہیں ۔ " وہ کچھ دھیمے لہجے میں بولے تھے ۔ 

" ہماری عزت کا نہیں سوچا اس نے ۔ خود غرض آنسان ۔ " شمیم آرا کو برداشت نہیں ہو رہا تھا برداشت تو تہذیب کو بھی نہیں ہو رہا تھا ۔ مگر وہ بے حس بنی رہی تھی ۔ اب وہ سوچ رہی تھی طہ کو  یہ سب نہیں معلوم ہوگا ورنہ وہ اسکے ساتھ یوں نہیں کرتا ۔ محتشم کے چلے جانے کی خبر سے اسکے دل میں ایک گونا سکون سا محسوس ہوا تھا ۔ مگر کتنی عجیب بات تھی جس انسان کی وجہہ سے وہ ملے تھے اسی انسان کی وجہہ سے وہ جدا ہو گۓ تھے 

********

اب اس گھر میں وہ رونق نہیں رہی تھی ۔ وہ آفس سے گھر آیا تھا ۔اور اب اپنے کمرے میں اپنی رائٹنگ ٹیبل پر کچھ حساب کتاب کر رہا تھا ۔ تب صابرہ بیگم وہاں آگئیں تھیں ۔

" طہ ۔ " 

" جی ۔ " اس نے مصروف انداز میں ہی جواب دیا ۔

" تہذیب کا فون آیا تھا ۔ " ابنکے پوچھنے کی دیر تھی۔ اس نے غصہ سے پین ہی  پھینک دیا ۔

" نہیں ۔ اور آئیگا بھی نہیں ۔ امی آپ کیا سمجھتی ہیں اس دنیا میں آپ کی بھتیجی سے ہٹ کر کوئ مسئلہ ہی نہیں ۔ روز دن میں آپ دس بار پو چھتی ہیں کہ فون آیا تھا کیا ۔ میں کیا کروں اگر فون نہیں آیا یا وہ اگر بات نہیں کرنا چاہ رہی تو ۔ گر جاؤں اسکے قدموں میں اور کہوں کہ میرے گھر آجاؤ ۔ پیر پڑ جاؤں ۔ کیا کروں میں ۔

میرے اپنی اتنی پرابلمز ہیں ۔مجھے وہی دیکھنے دیں ۔ مجھ سے فضول سوال مت کریں ۔ اگر اتنی محبت آ رہی ہے تو بھتیجی پر خود بات کر لیں ۔ میں نے منع تو نہیں کیا ۔ میرا دماغ مت کھائیں ۔ " وہ غصہ سے کرسی دھکیل کر اٹھا تھا ۔ اس کے چہرے کے تاثرات پر بیچاری صابرہ بیگم اتنی سہم گئیں کہ چپ کر گئیں ۔

نظیر صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے صابرہ بیگم کو ہی سمجھا یا ۔

" اس وقت وہ جس کیفیت میں مبتلا ہے ۔تم نہیں سمجھ سکتیں ۔ ایک طرف اس نے جو لون لیا ہوا ہے اسکی ماہانہ قسط بھرنی ہے ۔ اور دوسری طرف جو بلڈر ہے وہ کہیں پیسہ لیکر بھاگ نا جاۓ اس لیۓ اس پر بھی نظر رکھنی ہے ۔ اور اس کے سر بر ٹہر کر اس سے کام کر وانا ہے ۔ گھر جتنی جلد بن جاۓ اتنا اچھا ہو کا ۔ورنہ ایک طرف کرایہ دینا ہوگا اور دوسری جانب قرض کی قسط بھرنی ہیں ۔ وہ ان سب چیزوں کا بوجھ لیۓ  پھر رہا ہے ۔اور تم ۔۔۔۔ " وہ صابرہ بیگم کو تاسف سے دیکھنے لگے ۔

" میں نے تمہارے بھائ سے بات کر لی ہے ۔ انہوں نے بھی تیقن دیا ہے کہ  بہت جلد مسئلہ حل ہو جائیگا ۔ پھر تم فکر کیوں کر رہی ہو ۔ " 

انکی بات پر صابرہ بیگم رونے لگیں۔

" کیسے نا فکر کروں ۔میریے بیٹے کا گھر ابھی بسا نہیں اور اس طرح ۔۔۔۔" 

"  اب فی الحال اسے گھر بنانے پر فوکس کرنے دو ۔ باقی سب بعد میں دیکھیں گے ۔ " انہوں نے بات ختم کر دی تو سب خاموش ہو گۓ تھے ۔ اب کوئ بھی گھر میں تہذیب کا ذکر طہ کے سامنے نہیں کرتا تھا ۔



 ۔



 ۔ 





 ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ