میرے ہم نوا قسط 44

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 44

اس دن اس نے دوپہر کا کھانا ہی نہیں کھایا  تھا ۔تہذیب نے پھر پوچھنے کی حماقت نہیں کی ۔ شام تک پھپھو وغیرہ سب آگۓ تو وہ بھی اٹھ گیا تھا ۔ لیکن اس کا رویہ ہنوز ویسے ہی رہا ۔ محتشم کے بارے میں نا اس نے گھر میں کسی سے کہا نا تہذیب نے کچھ بتا یا ۔وہ دونوں ہی خاموش تھے ۔

یوں ایک ہفتہ گذر گیا اور اسکے رویے میں کوئ تبدیلی محسوس نہیں ہوئ ۔

اس رات وہ سارے کام ختم کر کےبیٹھی تھی جب اس نے اسے آواز دی تھی ۔

" تہذیب ۔۔ " اور اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔ وہ ایسی کسی پکار سے ڈر رہی تھی ۔ کہاں وہ اسے بللاتا نا تھا اور اپ اس کا بلانا ۔

وہ کیا کہے گا ۔کیا فیصلہ سناۓ گا ۔ یہ محبت کی پکار تو نہیں تھی وہ۔ خوش ہو تی ۔ اسکے دل میں کئ انجانے واہمے جڑ پکڑنے لگے ۔

اس نے صرف اسے دیکھا کہا کچھ نہیں ۔ وہ اس کی طرف ہی متوجہ تھا ۔‌اور اسے  اپنے پتھریلے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا ۔

" ہم دونوں کے لیۓ وقت آگیا ہے کہ اپنی اپنی زندگی کی راہ میں آگے بڑھیں ۔ جب نکاح ہوا تھا اس وقت حالات بالکل مختلف تھے ۔ اب ویسے حالات نہیں ہیں ۔ اب آپ زیادہ بہتر طریقہ سے فیصلہ کر سکتی ہیں ۔۔‌ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔اسکے چہرے پر نا قابل فہم تاثرات تھے ۔

" مجھے نہیں لگتا کہ میں آپ کو زبردستی اس رستہ میں باندھوں اس لیۓ میرے خیال میں اس رشتہ کو ڈیفائن کرنے کا وقت آ کیا ہے ۔ آپ کو مکمل آزادی ہے آپ جب چاہے جا سکتی ہیں ‌‌۔ اس رشتہ کو اب زبردستی گھسیٹنے کی کوشش فضول ہے ۔ اب آپ  پر منحصر ہے کہ آپ کو کیا اچھا لگتا ہے میں آپ پر زور زبردستی سے اس رشتہ کو بر قرار رکھنے کے لیۓ نہیں کہوں گا ۔‌آپ جب چاہیں یہاں سے جا سکتی ہیں ۔ میں روکوں گا نہیں ۔ " وہ ٹہر گیا 

تہذیب کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگے تھا ۔ 

اوہ تو اب مجھے جانے کے لیۓ کہا جا رہا ہے ۔ ہاں وہ کہہ سکتا ہے کہ وہ مجھے روکے گا نہیں ۔کیونکہ اس نے کبھی دل کے ہاتھوں فیصلہ نہیں کیا ۔

وہ مجھے جانے کے لیۓ کہے گا ۔ ایسا میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ اس نے فیصلہ مجھ پر نہیں چھوڑا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ وہ کچھ بھی کہتا مگر جانے کے لیۓ نا کہتا ۔ آخر آخر اس نے اسے اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی ہی بات کی ۔

" ٹھیک ہے ۔آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا ۔ " اس نے مضبوطی سے کہا تھا ۔ اور شاید فیصلہ اسی رات ہو گیا تھا ۔ طہ کو اسکے تاثرات نا فابل فہم لگے ۔‌مگر آس نے کچھ نہیں کہا نا کوئ وضاحت ۔۔ان دونوں نے اس رات خاموشی اوڑھ لی تھی ۔ 

********* 

دوسری صبح وہ سب کے چلے جانے کے بعد اپنا بیگ لیکر نکلی تھی ۔ صابرہ اب لیٹنے کی تیاری میں تھیں جب اس نے انہیں پکارا ۔

" بھپھو ۔ " وہ چونک کر اٹھیں ۔ 

" میں ابو جی کے پاس جا رہی ہوں ۔‌" اس نے اپنےلہجہ کو متوازن رکھا تھا ۔

" بھائ کے پاس جا رہی ہو ۔ طہ کو پوچھا تھا ۔ " انہوں نے کچھ چونک کر اس کے بیگ کو دیکھا تھا ۔ وہ عام طور پر اتنے بڑے بیگ کے ساتھ جاتی نہیں تھی ۔

" جی ۔ ان ہی کی اجازت سے جا رہی ہوں ۔ ":اس نے بھیگے لہجہ میں کہا تھا اور رکی نہیں تھی ۔ باہر کرایہ کی ٹیکسی کرتے اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے تھے ۔ وہ بر بار اپنے آنسو روکنے کی  وشش کر رہی تھی جو کہ ایک سیلاب کی طرح اسکی  آنکھوں سے  آۓ چلے جا رہے تھے ۔

ابوالکلام کا گھر آیا تو  وہ شکست خوردہ سی تھی ۔ باہر کوئ نہیں تھا ۔ وہ اب سیدھا اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی ۔ دل تھا کہ روۓ جا رہا تھا ۔ اس نے کبھی نہیں سوجا تھا کہ وہ یوں اپنے باپ کیے گھر آئیگی ۔ اسکے زندگی گذارنے کے سارے عزائم دھرے رہ گۓ تھے ۔ابوالکلام کا سامنا  وہ کیسے کرے گی ۔کیا بتاۓ گی انہیں کہ وہ نا کام ہو گئ اور اب گھر واپس آگئ ہے ۔ ۔ ان کی بیٹی گھر نا بسا سکی ۔ ۔۔۔اس آخری بات پر وہ اپنے کمرے میں آ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔ 

*********

اپنے آفس کا کام نبٹا کر وہ اب گھر آیا تھا ۔ شام کے سات بج رہے تھے ۔ دالان میں امی بیٹھی تھیں ۔ وہ انہیں دیکھتے اپنے کمرے میں آیا تو سارا کمرا اپنے مکین کے جانے کا غم مناتا لگ رہا تھا ۔ اس ویران پڑے کمرے میں وہ رک سا گیا ۔

" اوہ ۔ تو کیا وہ چلی گئ۔ شاید یہی فیصلہ ہونا تھا ۔ ہم دونوں کے لیۓ ۔ یہ فیصلہ ازل تک رقم تھا ۔ " وہ ایک طنزیہ سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس باہر آگیا تھا ۔

تہذیب بھائ کے پاس گئ ہے ۔ " امی اسے بتا رہی تھیں ۔ وہ رکا ۔

وہ صرف گئ نہیں تھی ۔اپنا فیصلہ سنا گئ تھی ۔ 

" تو وہ اس کا فیصلہ تھا ۔اسے چھوڑ جانے کا ۔ " اس نے کچھ نہیں کہا تھا ۔ خاموش رہ کر وہ اپنا بھرم رکھنا چاہ رہا تھا ۔

ممکنہ فیصلوں میں اک ہجر کا فیصلہ بھی تھا۔

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا۔


*********

" پتا نہیں اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے ۔ کچھ بتاتی بھی نہیں اور اپنا غصہ اختری عابد سب پر نکال رہی ہے ۔ " شمیم آرا اپنے کمرے میں جھلائ ہوئ آئیں تھیں ۔

" کیوں ۔کیا ہوا ۔" ابوالکلام جو کوئ دینی کتاب لیۓ بیٹھے تھے ۔پوچھ بیٹھے۔

" اب اس سے کچھ بھی مت سوال کرنا ۔ کچھ وقت دو اسے ۔ خوامخواہ پیچھے مت پڑو ۔ " اس کو آے ہوۓ پندرہ دن ہو گۓ تھے ۔ اب ہر ایک کو تشویش ہونی لازمی تھی ۔

" آخر بتاتو سکتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔اور صابرہ کو دیکھو ۔اس نے بھی ایک فون نہیں کیا ۔ " اب وہ نند پر اپنا غصہ نکال رہی تھیں ۔

" دیکھو ۔صابرہ خود سمجھ دار ہے ۔  میاں بیوی کا معاملہ ہے خود ہی نمٹ جائیگا ۔یہ سوچ کر وہ بھی خاموش بیٹھی ہوگی ۔ اب تم بھی خاموش بیٹھو ۔ اس کے پیچھے مت پڑو ۔ " انہوں نے الٹا انہیں ہی جھاڑ پلائ ۔

" پتا نہیں کیا ہو گیا ۔ اس طرح تو وہ کبھی نہیں آئ۔ ضرور طہ نے کجھ کہا ہو گا ۔ یونہی تو نہیں آئ ہوگی وہ ۔ اتنے دن سے رہ رہی تھی ۔ میری بیٹی ۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسکی کوئ غلطی ہوگی ۔ ": انکی بات پر ابوالکلام بھی خاموش ہو گۓ تھے ۔ 

***********



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ