میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 43
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 43
وہ اس وقت آنکنکے اس حصہ میں کھڑی تھی جہاں اس نے گلاب اور موتیے کے پودے پھپھو کی مدد سے لگاۓ تھے ۔ یہاں سرخ سفید گلابی اور زرد گلابوں کے پودے اپنی بہار دکھا رہے تھے جبکہ موتیا موسم کے لحاظ سے اپنی پوری آب وتاب سے مہک رہا تھا ۔ موتیا تو کافی بڑا ہو گیا تھا اور اس پر بے شمار پھول کھلے تھے ۔ وہ مسکراتے انہیں توڑ رہی تھی ۔ اپنے ہلکے سبز رنگ کے دوپٹہ میں وہ موتیا بھر رہی تھی ۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کل طہ کے ساتھ کی وجہہ سے تھی ۔ وہ آج گھر پر ہی تھا مگر کچھ کام سے قریبی مارٹ گیا ہوا تھا ۔
صابرہ بیگم بتول خالہ کے گھر گئیں تھیں جبکہ اربیہ اور اظہار اپنی روٹین لائف کے تحت اپنے کاموں میں تھے ۔
طہ جب باہر گیا تھا تو اس نے دروازہ نہیں لگایا تھا ۔اس کا خیال تھا وہ جلدی آئیگا ۔ اس لیۓ اس نے دروازہ بند کرنے کا تردد بھی نہیں کیا تھا ۔ یہ محلہ ایسا تھا یہاں اکثر دروازہ کھلے رکھتتے تھے اور جوری کا تو ڈر تھا نا خوف ۔
اوہ چونکی اس وقت جب اس نے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس کی ۔ وہ طہ سمجھ کر پلٹی تھی مگر سامنے موجود شخص کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ جم گئ تھی۔ ۔ وہاں محتشم کھڑے تھے ۔اسکے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکاۓ ۔
" آپ ۔" اس کے لب کانپے ۔انہیں دیکھ کر اسے وہ کرب انگیز لمحات یاد آگۓ جسے اس نے جھیلا تھا ۔
" خالہ نہیں ہیں ۔ " وہ اس پر سے نظریں ہٹاتے کچھ پیچھے ہوۓ تھے ۔
" پڑوس میں گئ ہیں پھپھو ۔ " اس نے جواب دیا تھا ۔
اور طہ ۔" ان کا سوال بے ساختہ تھا ۔
" وہ قریبی مارٹ تک گۓ ہیں ۔شاید اب آجائیں ۔" یہ کہتے ہوۓ اسے انہیں بٹھانے کا خیال بھی آیا تھا ۔
" آپ بیٹھیں ۔میںکرسی لاتی ہوں ۔ " اس نے اپنا دوپٹہ سر پر جمانا چاہا تھا لیکن دوپٹہ میں بھرے سارے موتیا کے پھول اسکے قدموں میں گر گۓ۔
محتشم نے اسے ایک نظر دیکھا تھا ۔
" نہیں ۔میں پھر آؤں گا ۔ " وہ پلٹتے پلٹتے رکے ۔
" تہذیب ۔ مجھے آپ سے معذرت کرنی تھی ۔جو کچھ ہوا ۔جو ذیادتی ہوئ اس سب کے لیۓ ۔ میں نے بہت گلٹی فیل کیا ان تین مہینوں میں ۔ " وہ اسے معذرت جتا رہے تھے ۔اور وہ چپ رہی تھی ۔لکہ اس نے اپنی توجہ ان پودوں پر مرکوذ کی تھی ۔ جو اسکے رازدار تھے ۔
" لیکن طہ ۔ وہ بہت اچھا ہے ۔خوددار ہے اور سیلف میڈ انسان ۔آئ ایڈمائر ہم ۔ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اس جیسا انسان آپ کو ملا ۔ "
انکی بات پر اس نے گلاب کے ان پتوں کو دیکھنا شروع کیا تھا جہاں اب نئ کونپلیں اگ رہی تھیں ۔
" میں اب چلتا ہوں ۔ انہوں نے اسکی عدم توجہی کو محسوس کیا تھا ۔
" لیکن ایک بات اور بھی ہے وہ رکے تھے ایک نظر اسے دیکھا تھا ۔
۔ طہ بھی بہت خوش نصیب ہے " ایک تتلی کسی کلاب پر سے اڑی تھی ۔اور اسکی نگاہیں اس تتلی کے تعاقب میں چلی گئیں ۔
وہ اب واپس جا رہے تھے ۔ ان کا جانا طۓ تھا ۔ وہ بہت پہلے اسکی زندگی سے جا چکے تھے ۔اس نے انہیں رو کنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
ابھی وہ سنبھل بھی نا پائ تھی کہ انکے پیچھے طہ بھی آگیا تھا ۔
وہ شاید محتشم کو روکنا چاہتا تھا مگر وہ بنا دیکھے سیدھے چلے گۓ تھے ۔
طہ اندر آیا تھا ۔ وہ اسکی زندگی میں بھی آ چکا تھا ۔
" محتشم بھائ آۓ تھے ۔؟" اسکے بظاہر سادے انداز میں پوچھا گیا سوال اسکے لیۓ حلق کا کانٹا بن گیا ۔وہ ہوش میں آئ تھی ۔
" ہاں ۔ پوچھ رہے تھے تمہیں ۔،" اس نے زمین پر گرے پھول اٹھانے شروع کیۓ تھے ۔
" ہممم ۔ " وہ مختصر ہممم کہتا اندر دالان میں چلا گیا تھا ۔ اسکے لہجے میں اتنا غیر معمولی پن تھا کہ تہذیب کے ہاتھوں میں جیسے جان ہی نا رہی تھی ۔
وہ بھی پیچھے دالان میں آئ تو وہ لیٹا ہوا تھا ۔ اپنے آنکھوں پر دونوں بازو رکھے ۔ وہ سنجیدہ لگ رہا تھا ۔
وہ چپ جاپ اسے دیکھ کر کچن میں چلی گئ تھی ۔ اب قریب ایک بج رہا تھا ۔ اسے اب دوپہر کے کھانے کی تیاری کرنی تھی مگر طہ کے انداز پر وہ بہت کنفیوز ہو گئ تھی ۔
اس نے روٹی بنائ تھی ڈش میں چاول نکالے اورسالن نکالا تھا اور طہ کو بولنے چل دی تھی ۔
" میں نے کھا نا نکال دیا ہے ۔ " اس نے طہ کے قریب جا کر کہا تھا ۔
اس نے کوئ جواب نہیں دیا تھا ۔
وہ کچھ دیر چپ رہی تھی ۔ پھر دوسری بار اس نے اسے آواز دی تھی ۔
کھانا کھالیں ۔ روٹی ٹھنڈی ہو جائگی ۔ "
":کس سے پوچھ کر نکالا ۔ میں نے کہا تھا مجھے کھانا ہے ۔ " اس نے ایک جھٹکے سے اپنے بازو ہٹاۓ تھے اور اسے غصہ سے دیکھنے لگا ۔آنکھیں سرخ ہو ئ پڑیں تھیں ۔
وہ ایک لمحہ کو چپ ہو ئ تھی ۔وہ اس طرح کیوں برتاؤ کر رہا تھا اس کے ساتھ ۔ وہ سوچ میں پڑ گئ ۔
اس نے سارے کھانے کے برتن اٹھا دیۓ تھے اور خود اندر آئ تھی ۔ اسے اسکا رویہ سے تکلیف ہو رہی تھی ۔ وہ کیا سوچ رہا تھا ۔ کیا تھا اسکے دل میں ۔ کھل کر بولے تو سہی ۔
کیا وہ مچتشم کو لیکر کسی شک کا شکار ہو گیا ہے ۔
اسکی سوچ یہیں آ کر اٹک رہی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی نا محرم کے ساتھ غیر ضروری بات کی ہی نہیں تھی ۔ محتشم ہو یا طہ ۔ اس نے ہمیشہ خود کو ان سے ایک فاصلہ پر رکھا تھا ۔وہ مردوں سے بے حجابانہ بات کرنے کی قائل ہی نہیں تھی ۔
آج اس کے کردار پر طہ کا شک اسکے دل میں کئ قیامتیں لایا تھا ۔ اور وہ اس سب کے لیۓ بالکل بھی تیار نہیں تھی۔
*****
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں