میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط 39

میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 39 

آج بتول خالہ کے گھر شادی تھی  صابرہ اظہار نظیر صاحب سب نے اپنے اپنے کام جلدی نبٹالیۓ تھے شادی میں جانے کے خیال سے۔ صابرہ بیگم نے اسے شادی میں چلنے کے لیۓ کہا تھا ۔ جبکہ دوسری رسموں میں وہ سب اکیلے ہی چلی گئ تھیں ۔ البتہ شادی میں تہذیب کو بھی لے جانے کا ارادہ تھا ۔وہ لوگ مغرب کے ساتھ ہی نکل گۓ تھے ۔اسے طہ کے ساتھ جانا تھا ۔ جو آفس سے ابھی آیا تھا ۔

اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان سب کے لیۓ یہ  شادی اتنی اہم کیوں تھی ۔ اس  کا جانے کا بھی کو ئ ارادہ نہیں تھا ۔ پھپھو کے سامنے تو وہ کچھ بول بھی نا سکی تھی  اب سست سی بیٹھی تھی ۔ 

وہ کپڑے چینج کر کے آیا تو اسے یوں سست بیٹھے دیکھ کر رکا ۔

 " کیا ہوا ۔آپ تیار نہیں ہو ئیں ابھی ۔ " 

" جانا ضروری ہے " وہ بے زار سی ہو کر بولی تھی۔

" کیوں غریبوں کی شادیوں میں جانا ضروری نہیں ہو تا کیا ۔ " اس کا موڈ یکدم آف ہو ا تھا ۔

یہ ہر بات میں امیری غریبی کو بیچ میں کیوں لاتا ہے ۔ 

" نہیں ۔ ویسی بات نہیں ۔مگر قریبی رشتہ داری بھی نہیں ہے تو ۔۔۔" اس نے اپنا موقف واضح کرنا چا ہا تھا ۔

" بتول خالہ ہماری رشتہ دار بے شک نہیں ہیں مگر  اس گھر میں ہم  جب سے ہیں یا اس محلے میں جب سے ہیں تب سے ان کا ہمارا ساتھ ہے ۔ وہ بہت پرخلوص اور محبت والی خاتون ہیں ۔ بچپن میں جب ابا کبھی گاوں چلے جاتے کبھی کام سے باہر چلے جاتے اور انی کو رخشی آپا کے بچوں کی وجہہ سے دواخانوں میں رکنا ہوتا تو وہ ہمیشہ ہماری مدد کو تیار رہتیں تھیں ۔ وہ خود ہمارے لیۓ ناشتہ بناتیں۔ ۔اربیہ کو اسکول کے لیۓ تیار کرتیں اور ہم سب کو اسکول اور امی کو دواخانہ میں ٹفن بھی پہنچاتیں ۔ 

انکے رہتے امی کو اتنا سکون رہتا کہ وہ پورے گھر کی ذمہ داری انہیں سونپ دیتیں اور بتول خالہ  گھر کے فرد کی طرح یہ ذمہ داری  اٹھاتیں۔ ۔ وہ بیوہ ہیں ۔ اسکول میں وہ آیا ہیں مگر خوددار اتنی ہیں کہ مجال ہے جو اتنا کام کر کے کبھی کچھ رقم لی ہو ۔ ہمیشہ محبت کے قائم رہنے کی بات کر تیں ہیں ۔ ۔ وہ اسے سنا رہا تھا ۔ ساتھ ہی اپنے بال بھی بنا رہا تھا ۔

" ایسے وقت جب ہمارے اپنے ساتھ نہیں تھے وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ تھیں ۔  " آخر میں اس کا لجہ کچھ جتاتا ہوا تھا ۔جس پر تہذیب چونکی تھی ۔ لیکن اس نے ابوالکلام کی ہدایت کے مطابق کچھ بھی بولنے سے اپنے آپ کو باز رکھا تھا ۔

" ٹھیک ہے میں تیار ہو تی ہوں "۔ وہ اٹھی تھی ۔

" جلدی کریں ۔میں بھی لیٹ نہیں ہو نا چاہتا ۔ سادے کپڑے بھی چلیں گے کہ زیادہ دھوم دھام نہیں ہو گی وہاں ۔ویسے بھی کچھ بھی پہن لیں اچھی ہی لگتی ہیں تو ۔۔۔جلدی ہاں ۔ " وہ تیزی سے بولتے باہر چلا گیا تھا ۔

" ہا ۔ خوش ہونے  کا موقعہ تک نہیں دیا اس نے تو ۔" وہ اسکی بات کو کچھ دیر میں سمجھی تھی۔۔

اس نے پندرہ منٹ میں اپنی تیاری کر لی تھی۔ اپنا آف وہائٹ کلر انار کلی فراک اور  جیولری پہنے وہ چادر لے کر باہر آئ تھی ۔ وہ اسے دیکھ کر بائیک اسٹارٹ کر چکا تھا ۔ اس نے جلدی سے سیٹ پر اپنا ہینڈ بیگ رکھا جو کہ احتیاطی تدبیر کے لیۓ تھا اور پھر سنبھل کر بیٹھ گئ تھی ۔ اب وہ بائیک پر اتنی مضبوطی سے بیٹھتی تھی کہ طہ لاکھ بریک لگاتا یا  کتنے ہی اسپیڈ بریکرز آتے وہ ٹس سے مس بھی نا ہو تی ۔انا تو اس کے اندر بھی بہت  تھی ۔

پندرہ منٹ  کے اندر وہ میریج ہال پہنچ چکے تھے ۔ وہ اتر گئ تھی ۔اپنا۔ ہینڈ بیگ بھی لے لیا تھا ۔

" اس احتیاطی تدبیر کی دھجیاں اڑانے دیر ہی کتنی لگے گی مجھے ۔ وہ ہنسا تھا ۔ مگر تہذیب نے اسکی بات نہیں سنی تھی ۔وہ سیدھا عورتوں کے لیۓ مخصوص گیٹ میں چلی گئ تھی۔

 وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئ تھی سب کے سب خوشگوار حیرت میں گھرگۓ تھے ۔ شاید سب کو اندازہ تھا کہ وہ نہیں آۓ گی ۔

انکی محبت اور خلوص پر وہ بے حد متاثر ہو ئ تھی ۔ہر کوئ اسے ایسے  دیکھ رہا تھا جیسے وہ کہیں کی شہذادی ہو ۔

اس محبت خلوص اور عزت پر اسکی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں ۔ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ  متوسط طبقہ میں محبت ، خلوص اور عزت ہی کی اہمیت ہو تی ہے ۔ اس کے یہاں اکثر ایسے لوگوں کو  شمیم آرا کچھ رقم وغیرہ تھما کر خود انجان ہو جاتی تھیں  اور خود وہ تو ایسی دعوتوں میں۔ کبھی نہیں گئ تھی ۔ آج یہاں آئ تھی تو ایک نئ دنیا سے روشناس ہو رہی تھی ۔

" اچھا ۔ تو یہ ہیں طہ بھائ کی بیوی ۔ " کسی کی آواز آئ تھی ۔

" ماشاءاللہ یہ تو بہت پیاری ہیں سونے جیسی ۔ " ایک اور اسے تکتے کہہ رہی تھی ۔

" نہیں شہذادی جیسی ۔ " ایک اور نے اختلاف کیا تھا ۔

" مگر جو بھی ہیں طہ بھائ کی لیۓ پرفیکٹ ہیں ۔ " 

 " ہمارے طہ بھائ بھی کچھ کم نہیں ہیں ۔ ہیرا ہیں ہیرا ۔" ایک نے کہا تھا اور دوسری سب ہی لڑکیوں نے اسکی ہاں میں ہاں ملائ تھی ۔

" طہ بھائ جیسا بھی کوئ نہیں ۔ " اب وہ سب طہ کی تعریف میں رطب اللسان تھیں ۔ تہذیب کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ کر ٹہر گئ تھی ۔ اسے خود کو طہ کے حوالے سے پہچانا جانا اچھا لگا تھا ۔

اس پوری شادی کو اس نے بھی دل سے انجواۓ کیا تھا ۔ صابرہ بیگم کے ساتھ جا کر وہ ہر چھوٹے بڑے سے مل چکی تھی ۔ کچھ کام میں ہاتھ بھی بٹا دیا تھا ۔ آخر میں وہ نظیر صاحب اور اربیہ گھر واپس آگئ تھیں ۔جبکہ صابرہ طہ اور اظہار رخصتی تک وہیں تھے ۔ وہ گھر کے فرد کی طرح پورے انتظام میں لگے تھے ۔ 

وہ اپنے کمرے میں آکر کپڑے چینج کر کے سو بھی چکی تھی ۔ طہ کب آیا تھا اسے پتا بھی نہیں چلا تھا ۔

جب کچھ رات گذری تو اسکی آنکھ کھلی تھی ۔اس نے کروٹ لی تھی ۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی ۔ 

اس نے صوفہ پر طہ کو دیکھنا چاہا تھا لیکن یک بیک پلٹ گئ تھی ۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

اس نے مارے شرمندگی کے اپنی چادر پورے سر تک کھینچ لی تھی ۔ 

اف ۔ اس نے اپنے آپ کو ڈپٹا تھا ۔ کیا ضرورت تھی جو ادھر نظر کی ۔

پتا نہیں وہ کیا سمجھے گا ۔ 

اور سمجھنے والا تو مسکرا کر پلٹ کر سو چکا تھا ۔گو نیند تو دونوں کی آنکھوں سے روٹھ گئ تھی ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے وجود کو بہت شدت سے محسوس کر رہے تھے ۔




 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر