میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 38
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 38
وہ اٹھا تھا اور باہر آگیا تھا اس کا کام بھی تقریباً مکمل تھا ۔۔
" کیا ہوا ۔ " وہ اب اسکے قریب آگیا تھا ۔
" کچھ نہیں ۔ " اس نے کرتا چھپانا چاہا تھا ۔ مگر نا کام رہی تھی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا اور اسکے ہاتھ سے لے لیا ۔اس کے کرتے کو غور سے دیکھا ۔ پھر اسے ۔
" سینا تھا ۔کیا ۔ "
تہذیب نے صرف اثبات میں سر ہلایا تھا اور اس کرتے کی آستین بتائ تھی جہاں سے سلائ ادھڑ گئ تھی ۔
" دھاگہ بار بار ٹوٹ رہا ہے ۔ " اسکے ساتھ ہی بتا دیا ۔
" ہممم ۔ میں دیکھتا ہوں ۔ اس نے کرسی گھسیٹی تھی اور پھر اس کا کرتا لیا اور اسکے ہم رنگ دھاگہ مشین میں پرو یا تھا ۔ تہذیب اسکو بغور دیکھ رہی تھی ۔ اس نے کچھ ادھر ادھر مشین کے نٹ ٹھیک کیۓ تھے ۔ پھر مشین چلانی شروع کی تھی ۔ اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اس کا کرتا تیار تھا ۔ اس نے وہ تہذیب کی سمت بڑھا یا تھا۔
تہذیب نے اپنے کرتے کو الٹ پلٹ کر دیکھا ۔ کہیں بھی جھول نہیں تھا ۔ اتنی صاف سلوائ ۔ ؟ وہ حیران تھی ۔
" میرے ساتھ پتا نہیں اس مشین کو کیا دشمنی تھی ۔ جو بار بار دھاگہ ٹوٹ رہا تھا ۔ " وہ خفیف سی ہو کر بولی تھی ۔
" جب کوئ اناڑی بیٹھتا ہے تو اسے پتا چل جاتا ہے ۔" تہذیب نے اس بات پر اسے دیکھا تھا ۔اس کا لہجہ طنزیہ نہیں تھا ۔ بلکہ اس نے اپنی مسکراہٹ دبا لی تھی ۔
" اچھا ۔ایک منٹ ۔ہاں ۔ " وہ یہ کہتی اپنے روم میں چلی گئ تھی ۔ واپس آئ تو اس کے ہاتھ میں چار اور کرتیاں تھیں ۔
" انہیں بھی سینا تھا۔ اس نے کپڑے اسکے آگے کیۓ تھے ۔ طہ جو اب اٹھنے والا تھا ۔اس بات پر اس کو گھورنے لگا ۔
" درزی لگ رہا ہوں ۔ " اس نے ڈپٹا ۔
" امی یا اربیہ کو جب فرصت ہو انکے ساتھ بیٹھ کر سی لینا ۔ حد ہے ۔تھوڑا سا سافٹ کارنر کیا دیا ۔ سر پر بیٹھ جاتی۔ ہیں ۔ " اس نے کرسی کھسکائ تھی ۔ تہذیب بری طرح خجل ہو گئ تھی جبکہ اندر کمرے سے امی اور اربیہ جو انکی طرف متوجہ تھیں مسکرانے لگیں تھیں ۔
************
وہ اس وقت شام کی چاۓ بنا رہی تھی جب انکے محلے کی ایک خاتون بتول خالہ تشریف لا ئیں تھیں ۔ وہ صابرہ پھپھو کی ہم عمر تھیں ۔ خستہ حال کپڑوں سے ہی وہ ایک غریب گھرانہ کی لگ رہی تھیں ۔ تہذیب نے انہیں سلام کیا تھا ۔ اور اندر لے آئ تھی ۔ اسکے برعکس انہیں دیکھ کر سب کے سب پر جوش سے انکے استقبال کو ٹہر گۓ تھے ۔
" کیسی ہیں خالہ ۔ شادی کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں ۔ اظہار نے پوچھا ۔
" وہی کارڈ دینے آئ ہوں ۔بیٹے " انہوں نے کرسی پر بیٹھ کر کہا ۔
ماشاءاللہ مبارک بتول ۔ اللہ اپنی سلمی کے نصیب اچھے کرے " صابرہ بیگم بھی انکے قریب ہی بیٹھ گئ تھیں ۔
ہاں آپا ۔ آپ سب کو آنا ہے ۔ اور تین دن پہلے سے رسمیں ہونگی تو پورے چار دن کی دعوت ہے ۔
" واہ ۔ اور ولیمہ کی دعوت۔ " وہ اظہار تھا ۔ کسی کو نا بخشنے والا ۔
" ارے اظہار ۔ ولیمہ تو لڑکے والے دیں گے ۔ انہوں نے بہت کم لوگوں کو بلانے کا کہا ہے اس لیۓ تمہارا نام نہیں لکھا ۔ ہمارےخاندان کا نہیں پتا کیا ۔اگر انہیں ولیمہ میں نا لے گئ تو میری ہڈیا ں بسلیاں ایک کر دیں گے۔ ۔ وہ بھی ہنس کر کہنے لگیں ۔
" اورشادی کے انتظامات وغیرہ کیسے چل رہے ہیں آپ کے پاس ۔ طہ بھی وہیں آ گیا تھا ۔ اور اب وہ بھی انکی باتوں میں شامل تھا ۔
" طہ بیٹے ۔اب تم سے کیا پردہ ۔ سب انتظام اچھا ہو گیا تھا ۔لیکن دولہے کی اماں کو اچانک واشنگ مشین یاد آگئ اور انہوں نے لسٹ میں واشنگ مشین کا اضافہ کر دیا ۔ اب اسی کے لیۓ میں دوڑ دھوپ کر رہی ہوں ۔ " انہوں نے اپنے پلو سے چہرہ پونچھتے کہا تھا
" تو آپ نے منع کر دینا تھا ۔ واشنگ مشین اتنی ضروری تو نہیں تھی ۔ " اظہارنے کہا تھا ۔
" اب عین وقت میں کیا لڑائ لیکر بیٹھ جاؤں ۔ اس لیۓ چپ رہی ۔ وہ اب آزردہ سی تھیں ۔
" خالہ آپ فکر مت کریں ۔ واشنگ مشین کا انتظام میں کر لوں گا ۔ " طہ نے ان کو تسلی دی تھی ۔ تہذیب چا ۓ دے رہی تھی ۔ یہ سن کر اسے تعجب ہوا تھا ۔ وہ کوئ اپنی خونی رشتہ دار نہیں تھیں پھر انکے ساتھ اتنا ہمدردآنہ سلوک ۔ اسے سمجھ نہیں آیا ۔
" بیٹے ۔تمہارے اپنے خرچے ہیں ۔ اب تو ماشاء اللہ سے بیوی بھی آگئ ہے ۔ " انہوں نے تہذیب پر ایک مسکراتی نظر ڈالی تھی ۔
" جی ۔ بیوی تو آگئ ہے مگر فی الحال اسکے خرچے نہیں ہیں ۔ " وہ اسے دیکھ کر ہنستے ہوۓ بولا تھا ۔
" اچھا ۔ اب نہیں ہیں تو کیا ہوا ۔آگے تو ہو نگے ۔" جب بچے وغیرہ ہونگے تو خرچے تو بڑھیں گے ۔ وہ سادگی سے بو ل رہی تھیں ۔
تہذیب کو بیٹھنا محال ہی ہو گیا ۔وہ اندر کی جانب چلی گئ تھی۔ اظہار طہ کو دیکھ کر ہنسنے لگا تھا جس کا خود کا چہرہ بھی سرخ ہو گیا تھا ۔
۔ مذاق ایک طرف ۔ خالہ ۔ آپ واشنگ مشین کی طرف سے بے فکر رہیں ۔ وہ میرے ذمہ ہے ۔ ویسے بھی سلمی کو گفٹ تو دینا ہی تھا ۔ آخر سلمی بھی اربیہ کی ہی طرح ہے میرے لیۓ ۔ " اس نے حتمی کہا تو وہ بیچاری تشکر سے اسے دیکھتی رہیں تھیں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں