میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 37
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 37
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نا دے
میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نا دے
میرے گھر سے دور ہیں راحتیں مجھے ڈھونڈتی ہیں مصیبتیں
مجھے خوف کہ میراپتا کوئ گرڈشوں کو بتا نا دے ۔
وہ اپنے روم میں تھی جب اس نے طہ کی آواز سنی تھی ۔ آج وہ خلاف معمول جلد آ گیا تھا ۔اور اب اربیہ کو آواز دے رہا تھا ۔
" اربیہ ۔ایک گلاس پانی تو لاؤ۔ " اسکی آواز پر وہ اٹھی تھی ۔اربیہ اور پھپھو کچھ دیر پہلے ہی پڑوس میں گۓتھے ۔وہ گھر میں اکیلی تھی ۔
وہ کچن میں گئ تھی اور ایک کانچ کے گلاس میں پانی لے کر آگی تھی ۔
" یہ لیں ۔ " اس نے ہال میں اپنے بازو آنکھوں پر رکھے سوتے ہوۓ طہ کو آواز دی تھی ۔ گرمی اپنے عروج پر تھی ۔ اور اس گرمی سے بےحال وہ یوں پڑا تھا جیسے بے جان ہو ۔ اسے اس پر بہت ترس آگیا تھا ۔
طہ نے آنکھیں کھولیں اور گلاس تھام لیا ۔ اور اٹھ کر پینے لگا ۔ ایک گھونٹ پیتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ سادا پانی نہیں تھا ۔وہ لیموں کاشربت تھا جس میں روح افزا ڈال کر ایک جاں فزا مشروب بنا یا گیا تھا ۔
" نجانے کیسی پیاس تھی وہ غٹاغٹ پورا گلاس پی گیا۔ "
" یہ بہت اچھا تھا ۔ تھینک یو ۔۔ وہ یہ کہتے دوبارہ لیٹ گیا تو وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ واپس باہر آگئ تھی ۔
اور طہ کو بہت پہلے کبھی سنے گۓ ایک گانے کے بول کانوں میں گونجنے لگے تھے ۔
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
ازندگی دھوپ تم گھنا سایہ
واوران دونوں کے بیچ جو ایک دوسرے کے لیۓ منفی جذبات تھے وہ اب بدلنے لگے تھے جہاں طہ کو احساس ہو رہا تھا کہ اس نے تہذیب کو مغرور پھوہڑ لڑکی سمجھا تھا وہ غلط تھا ۔وہ بالکل بھی پھوہڑ نہیں تھی ہاں اس میں کاموں کو لیکر بے نیازی تھی ۔لیکن جب وہ کوئ کام کرتی تو بہترین کرتی تھی اور ان دنوں میں کئ بار خود طہ چونکا تھا ۔ وہ دن بہ دن اپنے طرز عمل سے طہ کے دل میں اپنی جگہ بنا رہی تھی۔ جبکہ تہذیب جو طہ کو بداخلاق اکھڑ اور خود غرض قسم کا انسان سمجھتی تھی ۔لیکن اسے اب سمجھ میں آنے لگا تھا ۔وہ بہت الگ قسم کا انسان تھا ۔
وہ اس کہانی کی پس کہانی سمجھ رہی تھی ۔اس کے کرداروں پر غور کر رہی تھی ۔اور اپنا کردار بھی اسے اس کہانی میں ڈالنا تھا ۔ اپنا ایک مثبت کردار ۔۔۔
وہ اب بہت دلجمعی سے ہر کام سیکھ رہی تھی صابرہ بیگم کے ساتھ اربیہ کے ساتھ ہنستے بولتے وہ طہ کو چونکا کر رکھ دیتی ۔ اس نے صابرہ بیگم سے پکوان کی کئ ڈشز سیکھ لیں تھیں ۔ اور ہر دن کجھ نا کچھ نیا کرتی رہتی ۔ اسکے علاوہ گھر کو سجانا سنوارنا اچھے سے ڈیکوریٹ کرنا اور پھر نظیر صاحب اور صابرہ بیگم سے ڈھیروں داد سمیٹتی وہ طہ کے لیۓ کئ سوچ کے در وا کر رہی تھی ۔
*************
وہ آج گھر پر ہی تھا ۔ دوپہر کا کھانا ہوا تو سب آرام کرنے چلے گۓ تھے ۔صابرہ بیگم سیپارہ پڑھنے بیٹھی تھیں جبکہ اربیہ اپنے اسکول کا کام لیکر دوسرے کمرے میں بیٹھی تھی ۔ طہ اپنے کمرے میں ٹیبل پر آفس کے کاموں میں الجھا ہوا تھا ۔
وہ اپنے ہاتھ میں اپنا ایک کرتا لیکر دالان میں آگئ تھی ۔ یہاں ایک کونے میں صابرہ نے اپنی سینے کی مشین سٹ کی تھی ۔ وہ اکثر کجھ نا کچھ سیتی رہتی تھیں ۔تہذیب انہیں دیکھتی رہی تھی تو آج اس کا یہی خیال تھا کہ وہ اپنے کرتا جسکی سلائ ادھڑی ہوئ تھی سی لے ۔ ۔ اچھا وقت ہے ۔
اس نے مشین کا ٹاپ آہستہ سے نکالا ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ سب کو پتا چلے کہ وہ کچھ سی رہی ہے خاص طور پر طہ کو ۔ وہ سلائ سے نابلد تھی لیکن اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوۓ اسے یہ معرکہ سر کرنا تھا ۔
اس نے اب کرسی رکھی ۔ بنا آواز کیۓ ۔ اور پھر مشین پر بیٹھ گئ ۔اور اپنا کرتا مہارت سے جما دیا تھا اور پھر مشین چلانا شروع کر دی ۔
لیکن کچھ ہی دیر میں دیکھا تو دھاگہ ٹوٹ گیا تھا ۔اس نے پھر دھاگہ پرویا اور پھر پیر چلانا شروع کیا ۔ ابھی بھی ایک دو سیون پر ہی دھاگہ پھر دغا دے گیا اور ٹوٹ گیا ۔ وہ چڑ گئ اور تیسری بار کوشش کرنے لگی ۔لیکن تیسری بار تو دھاگہ پہلی بار میں ہی ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب بیزار ہو گئ تھی اور اب مشین پر سے اٹھ جانا چاہتی تھی ۔
مشین کی آواز پر طہ کا چونکنا لازمی تھا ۔ گو کہ آواز ہلکی تھی مگر اس نے سن لی تھی اور اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو وہ نظر آگئ ۔
اپنے ایک ہاتھ میں کرتا پکڑے۔ وہ کافی شش و پنج میں محسوس ہو رہی تھی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں