میرے ہم نوا قسط ۔پینتیس 35
میرے ہم نوا ۔۔۔قسط پینتیس 35
اس وقت سارے بچوں نے گھر میں ہنگامہ مچا یا ہوا تھا جس میں اشعر سر فہرست تھا جسے اکبر سیٹھ کی اولاد ہونے سے زیادہ پرو ٹوکول ملتا تھا ۔اس وقت اکبر سیٹھ کے کاروبارکی دھوم مچی ہوئ تھی ۔ شمیم آرا بچوں کے لیۓ ناشتہ بنا رہی تھیں جب ا شعر نے فرمائش کی تھی کہ اسے انڈا تل کر دیا جاۓ۔ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بچے بھی انڈے ہی کی فرمائش کرنے لگے ۔شمیم آرا ہنس کر سب کے لیۓ انڈا تلنے لگی تھیں بنا ماتھے پر بل لاۓ کہ اسی بیچ طہ نے بھی انڈا کھانے کی ضد کی ۔
صابرہ نے اسے سمجھایا کہ جو ہے وہ وہی کھالے مگر وہ اڑ کر بیٹھ گیا کہ اسے بھی اشعر کی طرح انڈا ہی کھا نا ہے ۔
شمیم آرا یوں تو سب کے لیۓ انکی فرمائش پوری کرنے میں جتی ہو ئ تھیں مگر غریب طہ کی فرمائش پر ان کا منہ بن گیا تھا ۔اور انہوں نے غصہ سے اسے دیکھا تھا ۔
" اپنے باپ کے گھر میں یوں فرمائش کر نا یہاں نہیں ۔ انہوں نے غصہ سے چمچہ پٹک دہا تھا ۔وہ طہ سے شروع سے چڑتی تھیں ۔
" وہاں تو فرمائش کیا پوری ہو تی۔ ہو گی ۔ایک انڈے میں ڈھیر ساری پیاز ڈال کر خاگینہ بنا کر سب کو نبٹا دیا جاتا ہو گا ۔ " یہ اشعر تھا جو اس وقت تھا تو چھ سات سال کا مگر اسکی بدزبانی اس وقت بھی عروج پر تھی ۔اسکی pH پر نا سمجھ بچے بھی ہنسنے لگے تھے ۔جبکہ طہ تو بے عزتی کے احساس سے وہیں جم گیا تھا ۔
" ہاں ۔ اور نہیں تو کیا ۔ یہاں انہیں پورا انڈا چاہیۓ ۔ ہونہہ۔ " اس وقت شمیم آرا نے اشعر کی بھر پور تائید کی تھی ۔
" بھابھی ۔ آپ کو اس طرح نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔" وہاں صابرہ بیگم آگئیں تھیں ۔
" ارے صابرہ میں تو تمہارے بھلے ہی کے لیۓ کہہ رہی ہوں ۔ اگر یہ ایسی فرمائیشیں کرے گا تو تمہیں کتنی مشکل ہو گی ۔ کہاں سے پورا کر سکو گی تم اسکی فرما ئیشیں ۔ " غریب نند سے وہ ڈرتی بھی نہیں تھیں ۔
" طہ ۔چلو ادھر آجاؤ ۔ میں نے کہا تھا نا جو ہے وہی کھالینا ۔ مگر تم سنتے کہاں ہو ۔ " صابرہ بیگم نے ان کی بات پی لی تھی اور اب طہ پر اپنا غصہ نکال رہی تھیں ۔
" خبردار ۔جو آئندہ کبھی انڈے کا نام بھی لیا تو ۔۔۔۔" وہ اسے وہاں سے لے گئ تھیں ۔ اسی دن وہ واپس اپنے گھر آگئ تھیں ۔بہنوں کے بے حد اصرار پر بھی وہ رکیں نہیں تھیں ۔ جب یہ بات ابوالکلام تک پہنچی تو وہ بھی بیوی کی ہاں میں ہاں ملا کر رہ گۓ تھے ۔
جسے ان کے والدین نے پسند نہیں کیا تھا اور وہ ابوالکلام سے ناراض ہو گۓ تھے ۔
" تمہیں صابرہ کی دل جوئ کرنی چاہیۓ تھی ۔ وہ دل کو لگا گئ ہے یہ بات ۔ یہاں آنے سے منع کر رہی ہے ۔ "
" ابا ۔ اکر وہ یہاں نہیں آنا چاہتی تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ویسے بھی میرے خیال میں شادی شدہ بیٹی کو اپنے مائیکہ زیادہ نہیں آنا چاہیۓ ۔ بس صبح آۓ اور شام میں چلے جانا چاہیۓ ۔ " انکی بات سن کر انکے والد کو رنج پہنچا تھا ۔ مگر وہ خاموش ہو گۓ تھے ۔ یوں صابرہ والدین سے ملنے آتیں تو صبح آتیں اور شام تک واپس چلی جاتیں تھیں ۔ طہ نے اس تاریخ سے انکے ہاں آنا چھوڑ دیا تھا ۔ہاں کبھی کبھی کچھ خاص مو قعہ ہوتا تو وہ آ جاتا مگر اسکے دل میں جو گرہ تھی وہ یسے ہی رہی ۔ ایک فاصلہ ان ماموں بھانجے کے بیچ رہا جو کبھی کم نا ہو سکا ۔
" تو بیٹا ۔ طہ نے تب سے انڈا کھا نا ہی چھوڑ دیا ۔ اس نے کبھی پھر انڈا کھانے کی فرمائش نہیں کی ۔ " ابوالکلام نے اپنی بات ختم کی تو تہذیب کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئ تھیں ۔
" اگر کبھی طہ تم سے اس بارے میں کچھ کہے تو تم بجاۓ ہمیں صحیح یا حق بجانب کہنے کہ اپنی یا پھر ہماری غلطی تسلیم کر لینا تاکہ وہ تم پر اعتماد کر سکے کہ تم اسکی خیر خواہ ہو ۔ اس کے درد کو سمجھتی ہو ۔ یہ میاں بیوی کے لیۓ ضروری ہو تا ہے ۔ وہ اب اسے سمجھا رہے تھے ۔ اس نے اپنے آنسو صاف کیۓ تھے اور اثبات میں سر ہلا گئ تھی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں