میرے ہم نوا قسط چونتیس34

میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط چونتیس 34

  گرمی سے بچنے کے لیے تہذیب نے ایک ہاتھ کا پنکھا رکھ لیا تھا ۔  نیند آنے تک وہ پنکھا جھلاتی رہتی اور نیند آنے پر چھوڑ دیتی ۔۔اس سے کچھ افاقہ سا ہوا تھا اور وہ مطمئن تھی ۔

اس دن بھی وہ کچن کا کام مکمل کر کے اپنے کمرے میں آئ تھی تب اس نے طہ کو ایک نیا ٹیبل فین اسی طرح ایڈجسٹ کرتے دیکھا ۔ تھا جیسے اس نے کیا تھا ۔

وہ رک گئ ۔ 

" یہ کیوں لاۓ اب ۔" 

" ساری رات ان کی جھن چھن سے بچنے کے لیۓ ۔ وہ اسکے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے بولا تب اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تھا ۔

پھپھو کے اصرار پر وہ اکثر ہاتھ بھر چوڑیاں پہنتی تھی ۔جو اکثر اسکے ہاتھوں کی حرکت سے بجنے لگتی تھیں ۔ 

" اوہ ۔۔"وہ چپ رہی ۔ " انہیں اتار  دیتی ہوں ۔ "اس نے چوڑیاں اتارنی  چاہیں تو طہ نے منع کر دیا ۔

" رہنے دیں ۔ "  کہتے ہوۓ اس نے فین کھول دیا تھا ۔ ۔  جسکی تیز ہوا سے تہذیب کے بال اور دوپٹہ دونوں ہی اڑنے لگے ۔

اس نے جلدی سے اپنے بال سمیٹے تھے دوپٹہ ٹھیک کرتے اس نے  اسکی سمت دیکھا تو دل دھڑک کر رہ گیا ۔

وہ مسکراتے اسے ہی دیکھ رہا تھا بلکہ اسکی آنکھوں میں ایک شرارت سی نظر آرہی تھی ۔ وہ  محجوب سی ہو گئ اور باہر چلی آئ تھی ۔

باہر اظہار اربیہ صابرہ بیگم بیٹھے تھے ۔ اسکے گلنار سے چہرہ کو دیکھ کر اظہار بولے بنا نا رہ  سکا ۔

"  اوہو ۔ تہذیب آپی ۔ کیا بات ہے پتھر موم بن رہے ہیں ۔ زمانے میں انقلاب آنے کو ہے "۔ 

اسکے انداز پروہ مزید سرخ ہوئ تھی ۔

" تو طہ بھیا تو سب کا خیال رکھتے ہیں اگر اپنی بیوی کے لیۓ خیال کر لیا تو کیا غلط کیا ۔ " اربیہ نے اس کا ہاتھ تھاماتھا ۔ وہ سرخ چہرہ لیۓ بیٹھی رہی تھی ۔ 

"غصہ کا تیز ہے مگر دل کا بہت اچھا ہے " اس کے گلرنگ چہرے کو نہارتے صابرہ بیگم بولیں تو وہ جھینپ گئ تھی ۔

*************

اس رات تہذیب کو فین سے زیادہ آرام طہ کے خیال نے سکون پہنچا یا تھا ۔ اس کا احساس کرنا اس کے دل میں ایک نۓ جذبہ کو پروان چڑھا رہا تھا ۔وہ اس جذبہ کی شدت سے واقف تھی ۔

***************

وہ اس وقت ناشتہ میں سب کے لیۓ انڈے تل رہی تھی ثب پھپھو نے کہا تھا کہ طہ انڈا نہیں کھاتا  تم اسکے لیے کچھ اور بنادو ۔۔

وہ حیران ہو ئ تھی ۔ 

انڈا کیوں نہیں کھاتے ۔اسکے لیۓ حیرت کا مقام تھا ۔

"اسیے پسند نہیں بیٹے ۔ پھپھو نے نظریں چرائیں تھیں ۔ وہ ان کے اس انداز پر سوچ میں پڑ گئ تھی ۔

اور اسی سوچ کا اس نے  ابوالکلام کے گھر جا کر  اظہار کر دیا تھا ۔

" پتا نہیں کیا بات ہے ابو ۔ پھپھو بتا رہی تھیں کہ وہ انڈا نہیں کھاتا  کیا وہ بچپن سے انڈا نہیں کھاتا" ۔ وہ اپنے باپ کے سامنےیونہی  بول چکی تھی مگر اسکی بات سن کر ابوالکلام اور شمیم آرا دونوں بھی احساس جرم میں مبتلا محسوس ہو ۓ۔ 

تہذیب ۔بیٹا ۔کبھی کبھی کچھ چیزیں معمولی ہو تی ہیں لیکن کچھ لوگوں کے لیۓ  وہ معمولی نہیں رہتیں ۔انکے لیۓاس کا اثر دیر پا ہو تا ہے ۔ وہ بول رہے تھے اور تہذیب انہیں حیرانی سے سن رہی تھی ۔

دراصل میری اور صابرہ کی شادی چار سال کے وقفہ کے ساتھ ہوئ تھی ۔ اسکو دو بچے ہو گۓ رخشی اور طہ جبکہ ہمیں تم دوسرےسال پیدا ہو ئیں تھیں ۔ جس طرح ہر روایتی گھر۔ میں گھریلو اختلافات ہو تے ہیں ہمارا گھر بھی اس سے مبرا نہیں ہمارے گھر میں بھی ساس بہو نند بھاوج کی کچھ چپقلش چلتی رہتی تھی ۔ تمہاری دادی ہمیشہ صابرہ کی طرف داری کرتیں جسکی وجہہ سے میں صابرہ سے کافی ناراض رہتا ۔تھا ۔ 

وہ کہہ رہے تھے تو شمیم آرا اٹھ کر چلی گئیں تھیں ۔

مجھے ہر شادی شدہ بیٹے کی طرح اپنی ماں اور بہن ہی قصوروار نظر آتی تھیں ۔ ان دنوں جوانی کا خمار بھی تو چھایا رہتا ہے ۔

ایسے میں اکثر میں صابرہ کے ساتھ زیادتی کر جاتا اور وہ صبر کرتی نظر انداز کرتی ۔

ایسے ہی جب گرمیوں کی تعطیلات میں سب بہنیں جمع تھیں ۔ رابعہ صابرہ اور بچے ۔تو گھر میں دھماچوکڑی مچ گئ تھی ۔


۔

 ۔

 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ