میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تیس 30

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تیس 

  اس لیۓ وہ سب بھی اس سے دور دور ہی رہتے تھے ۔ پھر جب بڑے ہو ۓ تو اس نے خود ہی ان کے ہاں زیادہ آنا جا نا چھوڑ دیا تھا ۔ یہاں تک کہ اگر اربیہ بھی کبھی انکے یہاں آتی اور وہ رات رکنے کہتی تو وہ صاف منع کر دیتی کہ طہ بھائ غصہ کریں گے ۔ اس طرح بہت فاصلہ سا محسوس ہو تا تھا کبھی کبھی ۔ ۔

اور وہ خود اپنے بارے میں سوچتی تو اس نے کبھی طہ کے ساتھ کچھ غلط کیا تھا اور نا ہی کچھ برا کہا تھا مگر وہ اسکے ساتھ یوں کیوں ٹیڑھا رہتا ہے وہ سمجھ نا پائ تھی ۔

تبھی گیٹ پر اسے طہ کی بائیک کا ہارن سنائ دیا وہ جلدی سے کھڑکی سے دیکھنے لگی تو وہ بائیک کو اسٹانڈ لگا رہا تھا۔ یکدم ہی اسکے ہاتھ پاؤں پھول گۓ ۔ شمیم آرا اسکے پاس آگئیں تھیں ۔

تہذیب ۔ طہ آگیا ہے ۔ جاؤ اور پو چھ بھی لو کہ کھانا ابھی نکالیں یا کچھ دیر میں ۔ وہ کہتی پھر سے چلی گئیں ۔تو وہ مہمان خانہ کی طرف بڑھی تھی ۔ 

" اسلام علیکم ۔ اس نے دروازہ میں کھڑے ہو کر پہلے جھجھک کر سلام کیا تھا ۔ وہ ایک میگزین لیۓ بیٹھا تھا ۔ ۔ وہ اکیلا بیٹھا تھا۔

" ابو جی کہاں گۓ۔ "

 ۔  اس نے سب سے پہلے یہی سوال کیا ۔

"  کوئ باہر ملنے آگیا ہے تو وہیں گۓ ہیں ۔ اس نے جواب دیتے اسے دیکھا تھا ۔اپنے باپ کے گھر میں ٹہری وہ بہت پر اعتماد سی لگ رہی تھی ۔ ۔

کھانا لگا دیں یا ۔۔۔۔ " اس کی نظروں سے گھبرا کر اس نے جلدی سے پو چھا تھا ۔

" ماموں آجائیں تو لگا دیں ۔ ورنہ گھر پہنچنے تک کافی دیر ہو جائیگی ۔ وہ پھر سے  میگزین پر نظر یں جماۓ ہو ۓ بو لا تھا  ۔ وہ پلٹ گئ تھی ۔

کھانا بالکل خوشگوار انداز میں کھا یا گیا تھا ۔ اب وہ نکلنے کی تیاری میں تھی کہ اسکی نظر طہ کی بائیک پر پڑ گئ اور وہ ایکدم۔ ہی ڈھیلی پڑ گئ ۔

" یا اللہ ۔ اب مجھے بائیک پر جانا ہے ۔ میں نے کبھی بائیک کی سواری نہیں کی ۔ اب کیا کروں ۔ سوچتے سوچتے اسکی نظر اپنے گھر کی گاڑی پر پڑی ۔

 " یہ ٹھیک ہے ۔ " وہ سیدھا طہ کے پاس چلی گئ تھی ۔

وہ ابو جی کہہ رہے تھے رات ہو گئ ہے تو گاڑی میں چلے جائیں ۔ کرم دین کو فون کر کے بلا لیں گے ۔ "

 اسکی بات پر طہ نے اسے بہت دیر تک سوچتی نظروں سے دیکھا ۔

" ابھی ماموں سے بات ہو ئ تھی میری ۔ میرے سامنے تو انہوں نے ایسی کوئ بات نہیں کی ۔ " وہ  بغور دیکھتے ہو ۓ بولا تھا ۔

" جی مگر میں آج تک بائیک پر نہیں بیٹھی تو مجھے عادت نہیں ہے ۔ اس نے نظریں جھکا لی تھیں تو طہ نے اسے دیکھا ۔

" تو عادت تو ڈالنی پڑے گی ۔ کہ ہمارے پاس کار اگلے دس سال بھی شاید نا آ ۓ ۔ اور اگر آپ کو گاڑی میں ہی آنا ہے تو میں چلا جاتا ہوں آپ کرم دین کے ساتھ ہی آجائیں ۔ وہ یہ کہہ کر رکا بھی نہیں تھا ۔بائیک اسٹارٹ کرنے لگا تھا ۔

" کیا میں کرم دین کے ساتھ سسرال جاؤں گی ۔ اف نہیں ۔ "

اسکی بات سن کر وہ ہو ش میں آئ تھی اوربھاگی بھاگی اسکے قریب چلی گئ تھی ۔

آآرہی ہوں میں" ۔ اسے کہتی وہ اپنا بیگ لینے اندر گئ تھی اور کچھ منٹ میں  باہر آگئ  تھی ۔طہ نے اب بائیک اسٹارٹ کر دی  ھی اور اسکے بیٹھنے کا انتظار  کر رہا  تھا ۔

 اس نے پہلے بیگ سیٹ پر رکھا تھا پھر طہ کو بنا  ہاتھ لگاۓ بیٹھ گئ تھی ۔ 

چلیں ۔ دل ہی دل میں وہ ورد کرنے لگی تھی کہ خیر خیریت سے وہ پہنچ جاۓ۔ 

کچھ ہی دیر میں بائیک فراٹے بھر رہی تھی ۔اور اسکی سوچ کی گاڑی بھی ۔ اگر ابو کی گاڑی میں آجاتے تو  کمفرٹ ہی الگ ہو تا ۔ مگر اسکی سوچ پتا نہیں کیا ہے ۔ ںوہ اپنی  سوچ میں محو  تھی کہ سامنے شاید کتا آگیا تھا ۔اور طہ نے بریک لگا دیا تھا ۔

اور وہ اس اچانک افتاد پر چونکہ تیار نہیں تھی  اسکے کندھوں سے جا ٹکرائ تھی ۔  اور بری طرح شرمندہ ہو چکی تھی ۔ طہ نے لب بھینچ لیۓ تھے اور اگلے دو بار یونہی بریک لگانے پر وہ دونوں بار بھی اسکی پیٹھ سے سر ٹکرا چکی تھی ۔ طہ کی برداشت ختم ہو گئ تھی اور وہ بائیک روک چکا تھا ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر