میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط اٹھارہ
میرے ہم نوا ۔۔۔۔
" منفی خیالات ہی چھاۓ رہتے ہیں تمہارے حواسوں پر ۔ زندگی میں ہر قسم کے حالات آتے رہتے ہیں اچھے برے ۔خوشگوار ،نا خوشگوار ۔لیکن انہیں خود پر مسلط نہیں کر لینے چاہیۓ۔ دن بدلتے دیر لگتی ہے کیا ۔ " وہ اسے نرم لہجہ میں سمجھا رہے تھے ۔
" اب تک تو زندگی نے اپنا برتاؤ تلخ ہی رکھا ہے ۔ تو تلخی میرے لہجے میں اتر گئ ہے ۔ وہ شاعر کہتا ہے ۔نا
" دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ دیا ہے وہی لوٹا رہا ہوں میں
اس کے کہنے پر محتشم اسے افسوس سے دیکھ کر رہ گۓ ۔
" آگے کیا ارادے ہیں ۔ ابھی پڑھنا ہے یا ۔۔۔"
" پڑھنا تو ہے مجھے ۔لیکن ابا کی نوکری سے ملنے والے روپیۓ کافی نہیں ہیں ۔گھرکے اخراجات گھر کا کرایہ ۔اظہار کی فیس اور اربیہ کی شادی ۔تو مجھے جلد از جلد نوکری کرنی ہے ۔ پڑھتے ہو ۓ نوکری کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ اسٹیرینگ وہیل پر اپنا ہاتھ رکھے کہہ رہا تھا ۔ وہ دونوں تہذیب کی موجودگی کو جیسے فراموش کر چکے تھے ۔ تہذیب نے بھی مداخلت کا نہیں سوچا تھا ۔ اس دن کی خجالت اسے بھولے نہیں جا رہی تھی ۔
" ماسٹرز کے بعد ہی نوکری کرنا چاہ رہے ہو یا ۔۔۔" محتشم اس سے پوچھ رہے تھے ۔
" ماسٹرز مکمل کرنے تک بہت وقت ہو جائیگا۔ اس لیۓ پڑھتے ہو ۓ ی ہی جاب ڈھونڈنا چاہ رہا تھا ۔ "
" تو ایسا کرو ۔ " محتشم نے اپنے شرٹ کی جیب سے ایک کارڈ نکالا ۔
اور طہ کی طرف بڑھایا ۔
" یہ رکن صاحب ہیں انہیں محنتی قابل لڑکوں کی تلاش ہے ۔ مارکٹنگ کے لیۓ۔ تو تم ان کے پاس جاؤ ۔ وہ تمہیں رکھ لیں گے ۔ " وہ طہ کی سمت دیکھتے ہوۓ بولے ۔تھے ۔
" سچ میں وہ رکھ لیں گے ۔ " طہ کو جیسے یقین ہی نہیں آیا تھا ۔
" ہاں ۔ آج کل قابل محنتی لڑکوں کی سخت ڈیمانڈ ہے جو کام کومکمل دلجمعی سے کریں ۔ اور جو یہ آج کل کے نوجوان رونا روتے رہتے ہیں نا کہ نوکری نہیں ملتی بغیر کسی سفارش کے تو غلط ہیں ۔ جو لوگ محنت کر نے پر یقین رکھتے ہیں ۔بڑی بڑی کمپنیاں ایسے نوجوانوں کو فوراً منتخب کرتی ہیں ۔جن میں لگن ہو تی ہے ۔ " انکے تفصیلی بات کو وہ بہت غور سے سن رہا تھا اور خود تہذیب بھی ۔
" لیکن یہ کمپنی کہاں ہے ۔میرے گھر سے بہت دور ہے کیا ۔ " اس نے سوالیہ انداز میں محتشم کو دیکھا تھا ۔
" ہاں ۔قریب ایک دیڑھ گھنٹے کی مسافت ہے لیکن بڑے شہروں میں یہ تو ایک عام بات ہے ۔ " وہ بولتے بولتے رکے ۔
" گاڑی ہے تمہارے پاس ۔ "
" نہیں ۔ابھی خریدنا ہے " وہ فاصلہ سن کر مایوس ہو گیا تھا ۔
" اوہ تو کوئ بات نہیں ۔ میرے پاس ایک گاڑی ہے پرانی ۔میں نے نئ گاڑی لی تو گھر میں ہی رکھی ہوئ ہے ۔ تم وہ لے لو ۔ " وہ نرم انداز میں کہہ رہے تھے ۔
" لیکن ۔۔ " طہ کچھ ہچکچایا ۔
" ابھی مجھے ضرورت نہیں ہے ۔ ثب ہو گی تو مانگ لوں گا ۔ تب تک اسے استعمال کر سکتے ہو ۔ " انہوں نے زیادہ زور دیا تو طہ نے رضامندی میں سر ہلایا تھا ۔
عام حالات میں طہ کے لیۓ اس طرح کسی کی ہلپ لینا گوارا نا ہو تا لیکن محتشم کے لہجے میں اپنائیت ہی اتنی تھی کہ وہ انکار نہیں کر سکا تھا ۔اور انکے مخلص کردار کا وہ قائل ہو گیا تھا ۔ ا ور وہیں انکی باتیں سنتی تہذیب پر بھی محتشم کی اس خو بی کا ادراک ہوا تھا اور اسکے دل میں بھی محتشم کے لیۓ ستائش کے جذبات ابھرے تھے ۔
***********
ان تین سالوں میں یہ تینوں خاندان اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ رہے تھے ۔ طہ نے پڑھائ کے ساتھ ساتھ جاب بھی کر رہا تھا اور اب انکے گھر میں اخراجات کی کھینچا تانی کم ہو گئ تھی ۔ جس کے لیۓ وہ محتشم کا شکر گذار تھا ۔ تہذیب اب گریجویشن کے فائنلز میں آگئ تھی ۔ اور اشعر ابھی تک اپنا سمسٹر کلیر نہیں کر پا یا تھا جسکی وجہہ سے اسے ڈگری نہیں مل رہی تھی ۔ ان کے گھر کے حالات بھی مالی طور پر بگڑتے جارہے تھے ۔ اگر ان کا اپنا ذاتی مکان نا ہو تا تو وہ در در بھٹک رہے ہو تے مگر ایک سر چھپانے کا آسرا تھا جس کا اکبر سیٹھ کو بڑا ناز تھا ۔
محتشم بھی ترقی کے منازل تیزی سے طۓ کر رہے تھے ۔ ایسے میں انکے والد نے تہذیب کے لیۓ محتشم کا نام لیا تو ابوالکلام نے انہیں رضامندی دے دی ۔
اور رسم منگنی کے بجاۓ شادی کی تجویز رکھی جس پر محتشم کے والد نے بھی ہامی بھری ۔
جاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں