میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تیرہ
میرے ہم نوا ۔۔۔قسط تیرہ
آج ابوالکلام کے بنگلہ میں رونقیں اتر آئ تھیں ۔ رابعہ صابرہ صبح ہی سے موجود تھیں ۔ نوکر چاکر یہاں وہاں کاموں میں مصروف پھر رہے تھے۔ سامانوں کی اٹھا پٹک چل رہی تھی ۔ عابد ۔ لان کی صفائ میں لگا ہوا تھا ۔ جبکہ اختری شمیم آرا کے ساتھ باورچی خانے میں مصالحے وغیرہ بھوننے میں مصروف تھیں ۔ تہذیب خشک میوہ جات کی بڑی پرات لیۓ بیٹھی تھی ۔ اسے میوے تراشنے کا کام سونپا گیا تھا ۔ اربیہ اور امینہ بھی اسکے ساتھ ہی تھیں ۔ ان کے ہاتھوں میں بھی میوے تراشنے کی چھریاں تھیں ۔
یہ ایک خاندانی تقریب تھی ۔ جس میں باہر کا کوئ بندہ شریک نہیں تھا ۔نظیر صاحب اور اکبر سیٹھ بھی مہمان خانے میں بیٹھے تھے ۔ابھی محتشم اور انکے ابو وغیرہ نہیں آۓ تھے ۔
" اور سنائیے ۔نظیر صاحب ۔ کیسی چل رہی ہے ۔ " اکبر سیٹھ نے ہنس کر پو چھا ۔
" بھئ ۔ گذر رہی ہے جیسی بھی ۔ " نظیر صاحب نے انکساری سے کہا ۔
" میں نے سنا رخشی کے سسرال والوں نے آپ سے کچھ روپیوں کی ڈیمانڈ کی ہے ۔ "۔
" ڈیمانڈ تو نہیں ہے دراصل انہیں گاڑی خریدنی ہے تو کچھ مدد چاہیۓ تھی ۔ " نظیر صاحب کچھ دبے دبے لہجے میں بولے تھے ۔
" مدد اور آپ سے ۔جبکہ آپ کو کو تو خود تنگی کا سامنا رہتا ہے مہینے کے آخری دنوں میں ۔ " اکبر سیٹھ کے طنزیہ انداز پر نظیر صاحب کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔
" اسلام علیکم خالو ۔" طہ نے اکبر سیٹھ کے قریب آ کر سلام کیا تھا ۔
": اشعر کہاں ہے ۔ آیا نہیں کیا ابھی ۔ "' اسکے یوں دخل اندازی پر وہ کچھ جز بزہو ۓ تھے ۔ اور پھر اشعر کے بارے میں سوال ۔جس سے وہ بچنا چاہ رہے تھے ۔
": ابھی کچھ دیر میں آ جائیگا ۔ ویسے بھی وہ اس گھر کا ہو نے والا داماد ہے تو تاخیر سے آنا بنتا ہے ۔ " انہوں نے طہ کو خاص طور پر دیکھ کر کہا تھا ۔ اس وقت کمرے میں ابوالکلام نہیں تھے ۔
" میں نے سنا وہ تھرڈ سمسٹر میں فیل ہو چکا ہے تو شاید۔۔۔۔" طہ نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔
" ایسی نا کامیوں سے وہ ڈرتا نہیں ۔ اور نا ہی وہ منہ چھپاۓ گا ۔ ہونہہ۔ " ان کے انداز سے انکی جلن محسوس ہو رہی تھی ۔
" ڈگریاں مکمل کرنے والوں کو کونسے نوکریاں پلیٹ میں رکھ کر پیش کی جا رہی ہیں ۔ جوتے گھس جاتے ہیں تب بھی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی ۔ تم خود کو پتا نہیں کیا توپ سمجھتے ہو ۔ "' اب انہوں نے طہ پر ہی حملہ بول دیا تھا ۔
" گذارے لائق تو کر ہی لوں گا ۔ " وہ انہیں جواب دے کر خود باہر چلا گیا تھا ۔ نظیر صاحب کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آگئ تھی ۔ جبکہ اکبر سیٹھ جل بھن گۓ تھے۔
تقریب شروع ہو گئ تھی ۔ محتشم بھی اپنے ابو کے ساتھ آ گۓ تھے ۔اسکے کچھ دیر بعد اشعر اور اسکا بھائ بھی آ گۓ تھے ۔
صابرہ اور رابعہ کئ مہینوں کے بعد ملی تھیں اس لیۓ وہ اپنے باتوں میں مصروف تھیں ۔
" ہا ۓ۔ اگر صالہ آپا ہو تی تو محتشم کو دیکھ کر کتنی خوش ہو تیں ۔ " صابرہ نے اپنی مرحومہ بہن کو یاد کیا ۔
" ہاں ۔ماشا اللہ ۔کیا قد نکالا ہے ۔ آنکھ بھر کر دیکھنے ڈر لگتا ہے کہیں نظر ہی نا لگے ۔ "
" ایسا اچھا ۔ تعلیم یافتہ اور خوبصورت ،اور اخلاق تو سبحان اللہ " اس سے ملکر دل ہی خوش ہو گیا ۔" محتشم کو دیکھ کر صابرہ نہال تھیں ۔
" صحیح کہہ ری ہو ۔ " رابعہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائ تھی اور باہر بیٹھے اپنے بیٹے اشعر کو دیکھ کر ان کے سینے سے ایک آہ نکلی تھی .
*****
" اور طہ کیا کر رہے ہو آ ج کل " محتشم طہ کے قریب پیٹھے تھے ۔ " میرا ڈگری اگلے سال ہو جاۓ گا ۔ محتشم بھائ۔ "' طہ نے انہیں جواب دیا ۔
" خالو کیا وہی دوکان چلا رہے ہیں "
" نہیں محتشم بھائ وہ دوکان تو نہیں اب ابا کسی دوسری جگہ نو کری کر رہے ہیں ۔ " طہ نے جواب دیا تھا ۔
" آپ ہمارے گھر بھی آئیں ۔محتشم بھائ۔ " طہ نے خوبصورت سے اپنے کزن کو دیکھا ۔
"تمہارے گھر کی طرف اتنی پتلی پتلی گلیاں ہیں ۔کوئ آنا چاہے تو کیسے آۓ۔ گاڑی تو کہیں دور چھوڑنی پڑتی ہے ۔ " بہت دیر سے اشعر وہاں بیٹھ کر انکی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔طنز سے بو لا تھا ۔
" کوئ بات نہیں ۔ میں آ جاؤں گا ۔ فون کروں گا ۔ آنے سے پہلے ۔" انہوں نے اپنی مخصوص نرمی سے کہا تھا
" جی ضرور ۔ہم انتظار کریں گے "
*************
" ۔
" ۔
"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں