میرے ہم نوا ۔۔۔قسط بارہ
میرے ہم نوا قسط بارہ
نوارد اندر آ چکا تھا ۔تہذیب کو جھک کر دیکھنا پڑ رہا تھا ۔وہ اونچے قد والا لگ رہا تھا ۔ جسکے بال ایک سائڈ میں نفیس انداز میں جماۓ گۓ تھے ۔
" جی آپ کون ہیں ۔ " وہ شاخ پر بیٹھے بیٹھے یوں پوچھ رہی تھی جیسے نو وارد سے انٹرویو کر رہی ہو ۔ نو وارد کچھ حیران پریشان لگ رہا تھا اور دا ئیں بائیں سر ہلاتے آواز کی سمت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔
" مجھے ابوالکلام صاحب سے ملنا تھا ۔ وہ ہیں " نو وارد نے اپنی آواز اونچی کی تھی ۔
" وہ اندر ہیں ۔ میں بلاتی ہوں ۔ " وہ یہ کہتی اپنے پیر ایک شاخ سے دوسری شاخ پر رکھتے اترنے لگی تھی ۔آخر میں اسے کودنا پڑا تھا زمین تک پہنچنے کے لیۓ۔ نو وارد کچھ ڈر کر پیچھے ہٹا تھا ۔پھر اسے دیکھا تھا ۔
لانبی سی سبز رنگ کی فراک بہنے اپنے بالوں کو ایک کلپ میں قید کیۓ وہ اپنے دوپٹہ کو پکڑے ٹہری تھی جس میں تازہ توڑی گئ کیریاں تھیں ۔
" اوہ ۔ تہذیب یہ تم ہو ۔ " نو وارد اسے پہچان چکا تھا جبکہ وہ ابھی تک اسے پہچان نہیں پائ تھی ۔بڑی بڑی سیاہ آنکھوں سے بس اسے گھو رے جا رہی تھی ۔
" مگر آپ کون مو صوف ہیں ۔ "
":آپکی مرحومہ پھپھو کا اکلوتا بیٹا ۔محتشم " نو وارد کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔
" محتشم فیضان " اس نے اپنا تعارف کر وایا تو وہ ہو ش میں آئ ۔
"محتشم بھائ آپ ۔ " آخر وہ پہچان گئ تھی اور اس سے پہلے کہ وہ اندر لے آتی ابو وہاں آگۓ تھے ۔
" " تم یہاں کس سے بات کر رہی ہو ۔ " انکی نظر ابھی محتشم پر نہیں پڑی تھی ۔
" ابو وہ ۔ میں۔ " وہ لاشعوری طور پر میں اپنے دوپٹے میں موجود کیریوں کو چھپا نے کی کوشش کر رہی تھی ۔
" کہا تھا نا درخت پر نا چڑھنا ۔ مگر ۔۔تم ۔۔۔عابد کو کہہ سکتی تھیں . وہ توڑ دیتا ۔" اسکے کیریاں چھپانے کی کوشش نا کام کر تے اس کو ڈانٹتے وہ اب محتشم کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔
" ارے محتشم ۔کب آۓ ۔ آؤ ۔اندر تو آؤ ۔ " وہ اسے اندر مہمان خانہ کی جانب لے گۓ تو وہ بھی امی کے کمرے میں چلی گئ تھی ۔
" امی ۔ امی ۔ " " وہ صالحہ پھو پھو کے مرحوم بیٹے محتشم آۓ ہیں ۔ابو نے کھانا بنانے کا کہا ہے ۔ "
" کیا ۔کہا ۔ صالحہ پھو پھو کا مرحوم بیٹا؟ ۔ ": کیسی اولٹ پٹانگ بات کر رہی ہو ۔ امی جھٹ اٹھ گئ تھیں ۔
" ارے مطلب مرحومہ صالحہ پھو پھو کے بیٹے محتشم بھائ کی بات کر رہی ہوں ۔ " اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا ۔
" ": اچھا اچھا ۔فون کیا تھا اس نے تمہارے ابو کو ۔ " اچھا چلو میں کچھ کھانے کا بندو بست کر تی ہوں " وہ اپنی ساڑی ٹھیک کرتی چلی گئیں ۔ اور وہ خود کیریاں کھانے میں مصروف ہو گئ تھی ۔
" کہو ۔ محتشم ۔سب کیسے ہیں ابو وغیرہ ۔ " ابوالکلام محتشم کو دیکھ کرخوشی محسوس کر رہے تھے ۔ محتشم انکی مرحومہ بہن کی اکلوتی اولاد تھے ۔ وہ چار سال کے ہی تھے کہ انکی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا ۔ اور انکے شوہر نے دوسری شادی کر لی تھی ۔کچھ سالوں تک وہ سب رابطے میں تھے لیکن آہستہ آہستہ وقت نے اتنی دو ریاں پیدا کر دی تھیں کہ محتشم کے بارے میں وہ لاعلم ہی رہے ۔کل جب محتشم نے انہیں فون کیا تو وہ بہت حیران ہو ۓ کہ انہوں نے نا صرف اپنی تعلیم مکمل کر لی تھی بلکہ ایک بہترین کمپنی میں وہ منتخب بھی ہو گۓ تھے ۔ وہ اب انہی کے شہر میں چھ مہینے سے کام کر رہے تھے ۔۔
" ابابھی اتوار تک آنے والے ہیں ۔میں نے آپ کا پیغام دیا تھا ۔ وہ بھی آپ سے ملنے بے حد پر جوش ہیں ۔ " محتشم نرم انداز میں بتاتے جا رہے تھے ۔
" اچھا چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ وہ خود آرہے ہیں ۔ ایسا کرتے ہیں انکے آنے پر ایک دعوت رکھ لیتے ہیں ۔ میں رابعہ صابرہ کو بھی بلوا لوں گا۔ اس طرح سب سے ملاقات ہو جائگی ۔ " ابوالکلام نے آپنے منصوبہ سے آ گاہ کیا ۔
" جی ۔لیکن دعوت وغیرہ کی تو خیر کوئ ضرورت نہیں ۔ آپ خوامخواہ تکلفات میں نا پڑیں ۔ " انکے انداز میں جھجھک تھی ۔
" "تم یہاں اسی شہر میں رہ رہے ہو اور کراۓ کے گھر میں ۔یہ اچھی بات نہیں ۔ تم میرے گھر میں بھی رہ سکتے ہو
اس گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ "
" انہوں نے شفقت سے بھانجے کو دیکھا تھا ۔ جو وجاہت میں کامل تھا۔۔
" شکریہ ماموں ۔ لیکن ابھی تو دوست وغیرہ ساتھ ہیں ۔ آگے دیکھتے ہیں ۔
جاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں