میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط سترہ

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط سترہ 

" مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ابوالکلام سے اشعر کے سلسلے میں بات کر لینی چاہیۓ ۔ " اکبر سیٹھ اپنے پلنگ پر گاؤ تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے ۔ انکے چہرے پر ہمیشہ کی طرح کرختگی سی چھائ ہوئ تھی جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھی ۔

" لیکن ابو ۔اشعر تو ابھی پڑھ رہا ہے ۔ نا اس نے اپنی تعلیم مکمل کی نا ہی نوکری لگی ۔آپ کس خوبی پر اس کا رشتہ مانگیں گے ۔" 

یہ شاہینہ تھیں جو ذی شعور تھیں ۔ ان کی ہی ہمت تھی جو باپ کے سامنے زبان کھو لتیں تھیں ۔

" یہ بات تو صحیح ہے ۔ اس موقعہ پر جبکہ اشعر کے پاس نا ڈگری ہے اور نا روزگار ۔تو ماموں تو" کھٹ "سے انکار کر دیں گے ۔ " ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں کریں گے ۔ ۔ مراد نے بھی اپنی بیوی کی تائید کی ۔

" دو سال ٹہر جاتے ہیں ۔ ابھی تہذیب کی بھی پڑھائ مکمل نہیں ہوئ ۔ اور ماموں تو تعلیم مکمل ہونے تک شادی کریں گے نہیں ۔  اس لیۓ انتظار کرنا ہی بہتر ہو گا ۔" 

رابعہ بیگم ان سب کی باتیں خاموشی سے سن رہی تھیں ۔جبکہ اکبر سیٹھ کچھ متامل سے لگ رہے تھے ۔

" وہ سب ٹھیک ہے ۔ مگر اشعر ان دو سالوں میں اپنی تعلیم مکمل کر لے گا ۔اس کی کیا گارنٹی ہے ۔ " اور پھر نوکری کا بھی کوئ امکان نہیں۔ 

" ابو ۔ میں پڑھ تو رہا ہوں ۔ کالج بھی روز جا رہا ہو ں ۔ " قریب بیٹھا اشعر باپ کے سامنے منمنایا تھا ۔

" ہاں ۔ روزکالج تو جا رہے ہو ۔ لیکن صرف کالج جانے سے ڈگری نہیں ملتی ۔ محنت کرنی پڑتی ہے ۔ " انکی طنزیہ نظروں کا محور اب اشعر ہی تھا ۔

" اور ابوالکلام سے پھی کچھ بعید نہیں کہ وہ اشعر سے کہیں زیادہ کسی بھی قابل شخص کو اشعر پر  فوقیت نا دیں ۔ " 

" ابو اگر آپ محتشم کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اسکا علاج ہے میرے پاس  ۔ " اشعر کی نظروں میں تخریبی عنصر غالب تھا ۔

" ہونہہ ۔ پڑھ لو یہی کافی ہے ۔ " انکے کاٹ دار انداز پر اشعر سر جھکا کر رہ گیا تھا ۔ جبکہ وہ سب خاموش ہو گۓ تھے ۔ لیکن آخر میں یہی طۓ پایا تھا کہ وہ لوگ دو سال تک رکیں گے ۔اس کے بعد ہی وہ رشتہ ڈالیں گے ۔ 

*********

  " کیا آپ نے اکرم بھائ کو ہاں کر دی ہے ۔ " شمیم آرا نے اپنے شوہر سے پوچھا جو ہمیشہ کی طرح کتابوں میں غرق تھے ۔ 

" نہیں ۔ ابھی تہذیب کی تعلیم مکمل نہیں ہو ئ ۔ اس سے پہلے میں یہ بکھیڑا نہیں کھڑا کروں  گا ۔ ہاں جب وہ ڈگری پوری کر لے گی ۔ منگنی کر دیں گے اور چھ مہینے کے اندر شادی  ۔ " انہوں نے کتاب پر سے نظریں ہٹا دیں تھیں ۔ 

" جی ۔ یہی مناسب لگ رہا ہے ۔ " شمیم آرا کو بھی یہی درست محسوس ہوا تھا ۔ انکی رضامندی پر وہ دوبارہ کتاب پر اپنی توجہ مرتکز کر چکے تھے ۔ 

*********

 وہ اپنے کالج سے نکلی تو ڈرائیور کے بجاۓ ابو کو دیکھ کر حیران رہ گئ  ۔وہ گاڑی کے باہر اس کا انتظار کر رہے تھے ۔

" آپ ۔۔ کیا ہو ا ۔ کرم دین نہیں آیا ۔ " وہ کار کا فرنٹ  ڈور کھولتے کھولتے رک گئ ۔ ڈرائونگ سیٹ پر طہ اور فرنٹ سیٹ پر محتشم بیٹھے ہوۓ تھے۔ 

" وہ اپنے گھر چلا گیا ۔اسکی ماں کی طبعیت خراب تھی ۔ ۔مجھے بھی کچھ کام تھا طہ اور محتشم آۓ ہوۓ تھے ٹو ان دونوں کو ساتھ ہی لے آیا ۔ 

 وہ خود بیک ڈور کھول رہے تھے ۔ تہذیب  دونوں کو سلام کرتی بیٹھ۔ گئ تھی۔ طہ نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی ۔ دس منٹ بعد ابوالکلام نے گاڑی رکوائ تھی ۔یہاں انکی ایک ذیلی آفس تھی ۔ انہیں کچھ پیپرز پر سائن کر کے آنا تھا ۔

" ہم بھی ساتھ  آ جائیں  ۔ " محتشم نے ان سے پو چھا تھا ۔

" نہیں ۔ بس دو منٹ میں آ جاؤں گا ۔ " وہ آفس میں چلے گۓ ۔ تہذیب اپنے بیگ سے  کتابیں نکال کر  بیٹھ گئ تھی۔

" ڈرائیونگ کب سیکھی ۔ طہ ۔کافی اچھی چلا لیتے ہو ۔ " محتشم اس سے متاثر ہو گۓ تھے ۔ 

" بس ۔ زندگی نے تو بہت کچھ سکھا دیا ڈرائیونگ کیا چیز ہے " طہ کی آواز اور  لہجے میں یاسیت سی تھی۔ 

جاری ہے ۔




۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ