میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط گیارہ

 میرے ہم نوا ۔۔قسط گیارہ 

وہ جب کمرے میں داخل ہوا  تو نظر سیدھا بیڈ پر ہی گئ تھی ۔ وہ گھنگھٹ ڈالےجھکے سر کے ساتھ بیٹھی تھی۔

اس نے پہلے کھنکھارا تھا اور پھر بیڈ کے قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گیا ۔ " آپ کو پتا ہو گا کن حالات اور کیفیات میں یہ نکاح یہ رخصتی عمل میں آئ اور میں حقیقتاً اس سب کے لیۓ تیار نہیں پتھا اور نا ہوں ۔ " وہ رکا جیسے دیکھنا مقصود تھا کہ وہ بغور سن رہی ہے یا نہیں ۔ 

اس نے اپنے جھکے سر کو تھوڑا سا اونچا کیا اور اس پر ایک نظر ڈالی تھی ۔

" اگر بات ماموں کی عزت پر نا آتی تو ۔۔  " وہ سمجھ گئ کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا اور کیا جتانا چاہ رہا تھا ۔ وہی احسان جتانے والا انداز تھا ۔ اس کا دل چاہا وہ سب نوچ کر پھینک دے ۔ آخر کب تک اسے یہ بتا یا جاۓ گا کہ وہ ان وانٹڈ ہے اور اسکے باپ نے اس پر زبردستی مسلط کر دیا ہے۔ پہلی رات ہی اسکے دل میں طہ کے لۓ گرہ پڑ گئ ۔

" اگر آپ چینج کر نا چاہ رہی ہیں تو میں باہر چلا جاتا ہوں ۔آپ چینج کر لیں ۔رخشی آپا  کپڑے رکھ گئ ہیں ۔ " وہ اٹھتے ہوۓ بو لا ۔ وہ چپ چاپ اٹھی تھی ۔ اسکا دوپٹہ سرک گیا تھا ۔اور دلہنوں کے مخصوص لباس میں ،مہندی اور خوشبؤں میں بسی وہ کوئ اور مخلوق لگ رہی تھی ۔ کوئ پری جیسی ۔ لیکن وہ طہ تھا جسے  پریاں اور پریوں  کی کہانیاں پسند نہیں تھیں ۔ وہ آخری حد تک حقیقت پسند اسے خوبصورتی کیسے بھاتی ۔ اگر وہ پری تھی تب بھی وہ خود کو شہزادہ نہیں مانتا تھا ۔وہ خوبصورت پریوں کو دیکھ کر ہو ش کھو دینے والا شہزادہ نہیں تھا ۔

اسے اٹھے دیکھ کر وہ باہر چلا گیا تھا ۔ باہر سب بے ہو شی کے عالم میں سو چکے تھے ۔ جس کو جہاں جگہ ملی وہاں تکیہ لگاۓ سو چکے تھے ۔۔ وہ کچھ دیر تک رات کے سناٹے کو محسوس کرتا رہا جب تک کہ اس رات کے سناٹے کو دروازہ کی " کھٹ" نے نا تو ڑا ۔ تھا وہ اندر آیا۔  صوفہ پر نظر پڑی.

 سارے کامدار  کپڑے صوفہ پر ڈالے وہ بیڈ پر سکون سے سو چکی تھی ۔ ہلکا سا کمبل اپنے اوپر ڈالے وہ کروٹ لے کر سو چکی تھی ۔ یا پھر اداکاری کر رہی تھی ۔۔

" اپنے ابو کے دیۓ گے پلنگ پر حق سے سونا شاید اسے ہی کہتے ہیں ۔ اور میرےہسونے کی جگہ پر یہ تام جھام والے پوشاکیں رکھ دیں ۔ ہونہہ ۔"

 اس نے صوفہ سے اسکے تمام  کپڑوں کو سمیٹا اور قریب کی کرسی پر ڈال دیا تھا ۔ تکیہ لیکر سوتے ہوۓ اس نے اسے دل ہی دل میں مخاطب کیا تھا ۔

" آج دلہن ہو تہذیب بیگم ۔آج معافی ہے مگر کل سے یہ بے ترتیبی میرے  یہاں نہیں چلے گی "۔ 

وہ دونوں آنکھیں موندے تھے ۔دونوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی اور دونوں ہی آج سے تین سال پہلے پہنچ چکے تھے جہاں ایک اور انسان ان کی زندگی میں داخل ہوا  تھا ۔ محتشم فیضان ۔

******

تین سال پہلے 

۔۔وہ بہت خاموشی سے اپنے کمرے سے نکلی تھی ۔ امی دوپہر کا کھانا کھا کر آرام کرنے چلی گئ تھیں ۔اسے آم کے درخت پر کل کچھ کیریاں نظر آئ تھیں ۔اور تبھی سے دل میں خود سے توڑنے کی خواہش دل میں جاگ گئ تھی ۔ ابو اکثر اسکو منع کرتے کہ درختوں پر چڑھنے سے ۔ 

اس نے دیکھا ایک کیری تو درخت کی نیچے لٹک رہی تھی ۔ " کچھ زیادہ اونچی تو نہیں ہے ۔ آسانی سے توڑ لوں گی ۔ " اس نے ایک مضبوط شاخ پر اپنا پیر رکھا اور درخت پر چڑھ گی ۔ مطلوبہ کیری توڑ لی مگر دل دوسری کیریوں کو دیکھ کر للچا یا ۔ وہ کچھ اور اوپر چڑھی تھی اور اپنے سبز دوپٹے کو کیریوں سے بھرنے لگی تھی۔ ۔

اوپر ہی سے  اسے دستک  سنائ دی تھی ۔ یہ بنگلہ کا چھوٹا دروازہ تھا ۔ وہ اکثر کھلا ہی ہوتا تھا اکثر روز آنے والوں کو پتا ہو تا تھا کہ یہ کھلا ہی رہتا ہے ۔ اور جو نوارد ہو تے وہ  ہی اس دروازہ پر دستک دیتے تھے۔۔

" افوہ ۔یہ گیٹ تو کھلا ہی ہو تا ہے ۔ کون بے وقوف ہے جو کھٹکھٹا رہا ہے ۔ " وہ چڑ گئ تھی ۔ ابھی اگر ابو ادھر آتے تو اسکو بڑی زبردست ڈانٹ پڑ سکتی تھی ۔ 

" آپ اندر آ سکتے ہیں آپ جو بھی ہیں ۔ " 

اس نے شاخ پر بیٹھے پیٹھے ہی چلا کر کہا ۔لیکن اس بندے نے سنا نہیں تھا وہ ایک بار اور دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا ۔

" ارے ۔وہ تو کھلا ہی ہے ۔آجائیں ۔جو بھی ہیں ۔ " اس نے سر پر ہاتھ مارا تھا ۔اور اپنی آواز اونچی کی تھی ۔

تبھی  دروازہ کھول کر وہ نو وارد اندر آیا تھا ۔

جاری ہے ۔

قسط کیسی لگی کمنٹ میں بتادیں ۔بہت نوازش ہو گی۔ آپ کے کمنٹ سے ہی لکھنے کو تحریک ملتی ہے ۔اس لیۓ آپ کی توجہ کی منتظر ۔۔

نازنین فردوس ۔حیدرآباد





 ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ