میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔نویںقسط
میرے ہم نوا ۔۔۔نویں قسط
ابوالکلام مہمانوں کی لسٹ پکڑے ہر ایک نام پر ٹک کرتے جا رہے تھے ۔ نظیر صاحب کے گھر سے مہمانوں کی جو لسٹ آئ تھی وہ بہت مختصر تھی ۔ انکا اپنا حلقہ احباب بہت وسیع تھا لیکن حالات کے مدنظر انہوں نے بھی مہمانوں کی تعداد کم ہی رکھی تھی ۔ طہ نے ہر کام میں سادگی کا ہی کہا تھا تو وہ بھی اس معاملہ میں اس سے متفق تھے ۔
تہذیب کو مہندی لگائ جا رہی تھی۔ جس کے چہرے پر خوشی کے جذبات سے زیادہ انہونیوں کا ڈر زیادہ تھا ۔
وہ باپ کے کمرے تک کئ بار جا کر واپس پلٹ آئ تھی ۔
انکے رعب دار چہرہ کا سامنا وہ نہیں کر پارہی تھی ۔دوسری طرف شمیم آرا تھیں جو کہ دل سے سارے کاموں میں جوش و خروش سے حصہ لے رہی تھیں ۔
******
آج وہ گھر پر تھا ۔ ٹی وی کھولے وہ فلم دیکھ رہا تھا ۔ ٹی وی اسکرین پر تشدد اور مار دھاڑ والے سین بار بار آ رہے تھے ۔ وہ چاۓ کا کپ ہاتھوں میں لیۓ فلم کا لطف لے رہا تھا ۔
تبھی دروازہ کی بیل ہوئ تھی ۔ اس وقت گھر میں کوئ نہیں تھا ۔ ٹیبل پر ریموٹ رکھ کر وہ دروازہ کھولنے گیا تھا ۔
" تم ۔۔" دروازہ پر عابد کو دیکھ کر اسے حیرانی ہوئ۔
" اشعر بھائ وہ تو میں یہ رقعہ ۔مطلب دعوت نامہ ۔۔۔" وہ ابھی بول بھی نا پایا تھا کہ اس نے کارڈ جھپٹ لیا تھا ۔اور اسے دیکھ کر تنفر سے بولاتھا ۔۔
" جاؤ ۔ماموں سے کہنا اشعر نے دعوت قبول کر لی ہے ۔ "
********
" " ہیلو طہ ۔۔ " ابوالکلام کے فون کرنے پر وہ چونک گیا آج وہ دوبہر کو ہی گھر آیا تھا ۔
اس وقت اسکے گھر میں کوئ نہیں تھے ۔ امی اربیہ رخشی آپا کے ساتھ خریداری کے لیۓ نکل گئ تھیں جبکہ نظیر صاحب دعوت دینے کا فریضہ انجام د ینے چل پڑے تھے ۔
اب دن ہی کتنے رہ گۓ تھے ۔
" اوہ ۔اچھا ۔میںدیکھتا ہوں ۔" انکی بات سن کر وہ کچھ دیر تک خالی الذہن بیٹھا رہاپھر کچھ یاد آنے پر اس نے پھر سے فون نکال کر کچھ نمبرز ملانے شروع کیۓ تھے۔
*************
گہذے سبز رنگ کے کرتے میں سرخ رنگ کی کڑھائ والا دوپٹہ اوڑھے وہ چپ چاپ یونہی اپنے ہاتھوں کی مہندی کو بغور دیکھ رہی تھی۔ اب دو دن ہی تو رہ گۓ تھے۔ اس کے بعد اسے باپ کا گھر چھوڑنا تھا ۔اور اسے طہ کی شرائط یاد آگئیں ۔ وہ صرف دن میں ابو سے ملاقات کے لیۓ آ سکتی تھی ۔اور تین مہینے میں ایک بار ہی اسے ابو کے گھر رہنے کی اجازت ہو گی ۔ یہ سوچتے اسے اپنے ابو پر بھی غصہ آنے لگا ۔
"کیسے رہے گی وہ اس طرح "۔ اور اسکے تو صرف ابو امی ہی تھے جو قریبی تھے ۔ اسکے ننہیال والے تو گاؤں میں رہتے تھے اور گا ؤں ں کی طرز زندگی گذارتے تھے اس لیۓ وہ کم ہی جاتی تھی ۔اب ددھیال میں تو صرف دو ہی پھپھو تھیں ۔ امینہ اربیہ سے اچھی خاصی دوستی تھی ۔
لیکن اسکے پاس رشتوں کا جمگھٹا نہیں تھا ۔مختصر زندگی اور مختصر ہی اسکے دوست تھے ۔
اگر وہ اپنے باپ سے بد گمان نا ہو تی تو کیا کرتی ۔
" تہذیب " ابوالکلام اسکے قریب آ کر ٹہر گۓ تھے ۔
" جی ابو " وہ چونک گئ اور جلدی سے اپنا دوپٹہ برابر کیاا تھا ۔
" اتنی دیر سے کن سوچوں میں گم تھیں ۔ دو بار تو آواز دے چکا تھا ۔ وہ شفقت سے بولے
آپ کیا کہہ رہے تھے ۔ "
" کچھ نہیں ۔کچھ دیر بات کرنا چاہتا ہوں ۔ " وہ اسکے قریب صوفہ پر ہی بیٹھے تو وہ سنبھل کر بیٹھ گئ تھی ۔
" تہذیب ۔جن حالات میں تمہارا نکاح ہوا اس کا تمہیں علم تو ہے ۔میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا ہے اور تمہیں مجھ سے کبھی کوئ شکایت نہیں ہو گی ۔ ان کا لہجہ نرم تھا ۔
" صابرہ تو میری بہن ہے اسکے بارے میں کیا کہوں وہ تو بلی کے بچوں تک سے شفقت اور نرمی سے پیش آتی ہے تو ساس کے طور پر وہ تمہارے لیۓ کبھی آزمائش نہیں بنے گی ۔
نظیر صاحب بھی کبھی غصہ کے تیز تھے مگر وہ بھی آج کل اپنی غصیلی فطرت کے بر عکس بہت متحمل اور صابر بندے بن چکے ہیں ۔اور رہے اربیہ اظہار اور رخشی ،ان سب سے تو تمہاری اچھی خاصی دوستی ہے۔تم انہیں بہتر جانتی ہو ۔ "وہ کہہ رہے تھے ۔
تہذیب خاموش سن رہی تھی ۔اس نے کبھی باپ سے دو بدو بات نہیں کی تھی ۔ وہ نرم مزاج باپ تھے لیکن اسکے باوجود وہ اولاد کے ساتھ فاصلہ رکھ کر بات کرنے والے انسان تھے ۔
" ابو ۔وہ تو سب ٹھیک ہے مگر ۔طہ اور آپ میں کئ باتوں کو لیکر اختلافات تھے ۔اور اسکے انداز کو آپ کبھی پسند نہیں کرتے تھے ۔تو پھر ۔ ۔۔۔" وہ اپنے ہاتھوں کو مروڑتے دھیمے انداز میں کہہ رہی تھی ۔
" اسکی شرا ئط ۔۔ووتو ماننے والی نہیں تھیں ۔ اس نے بالآخر باپ کے سامنے اپنے دل کا کھٹکا بیان کر دیا تھا ۔
" اسکے اور میرے بیچ جو بھی رنجش تھی وہ دور ہو گئ ہے یا جن حالات کے تحت وہ پیدا ہوئ تھیں وہ نہیں رہے تو اختلافات بھی نہیں رہے ۔
اور شرائط کا کیا ہے وہ بھی وقت کے ساتھ سب ختم ہو جائینگی ان شا ءاللہ۔ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے جیسے تسلی دی تھی ۔
" میں بس اتنا چا ہوں گا کہ تم میری بہن کے گھر میرا سر جھکنے نہیں دو گی اور ۔ جہالت کا مظاہرہ نہیں کرو گی "
" میں تو پڑھی لکھی ہوں ۔میں کیوں جہالت کا مظاہرہ کروں گی ۔ " اسے حیرانی ہوئ تھی ۔
" پڑھا لکھا شخص بھی جاہل ہو تا ہے اگر وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط نا سمجھے ۔ ایسے کئ مواقع آئیں گے جب تمہارے شعور تمہارے علم کا امتحان ہوگا ۔ایسے میں تمہیں ثابت قدم رہنا ہو گا ۔
وہ انکی باتیں بغور سن رہی تھی ۔
۔":ٹھیک ہے اب جا تا ہوں ۔تم بھی آرام کر لو ۔" وہ اٹھے تھے ۔
"جی ابو "انکی باتوں سے دل کو تھوڑی تقویت سی ملی تھی ۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔ موسم گرم تھا اس نے کھڑکی کھلی رکھی تھی جبکہ پردے کھینچ کر برابر کر دیۓ تھے ۔اور خود بیڈ پر لیٹ گئ تھی ۔ صبح سے انجان خدشوں میں گھری اب پر سکون سی ہوئ تھی تو گہری نیند اس پر غالب آ گئ تھی اس بات سے انجان کہ کوئ شکاری اس پر گھات لگا کر بیٹھا ہے ۔
جاری
یہ قسط کیسی لگی کمنٹ میں بتادیں ۔
********
"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں