گلبرگہ شہر ۔۔۔۔نانی کا گاؤں

  گلبرکہ شہر سے ہماری واقفیت بس اتنی ہے کہ جب کبھی گرمائ تعطیلات ملتیں ہمارا رخ گلبرگہ شہر  ہی کی طرف ہو تا کیونکہ وہ ہمارا ننھیال ہے ۔ جب بھی ہم گلبرکہ کی بات کرتے ہمارے ابو گلبرگہ کو  "گاؤں" کہہ کر ہماری والدہ محترمہ کو چڑاتے ۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ  حسب توقع ہی نکلتا ۔

"  گلبرکہ بالکل بھی گاؤں نہیں کہلاتا ۔ شہر ہے شہر ۔ "  

," لیکن حیدرآباد کے مقابلے میں تو گاؤں ہی سمجھا جائیگا ۔ " ابو چڑانے کا سلسلہ جاری رکھتے ۔ 

" گلبرکہ شہر جسے سات گنبدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ ریاست کرناٹکا کا ایک تاریخی شہر ہے ۔اور یہ بنگلور سے 623 کلو میٹر اور حیدرآباد دکن سے 200 سے زائد کلو میٹر  ہے ۔یہ آزادی سے قبل حضور نظام اور سلطنت آصفیہ کے زیر نگرانی ریاست حیدرآباد کا حصہ تھا ۔اسی تاریخی شہر میں قلعہ گلبرگہ بھی واقع ہے ۔

یہ شہر بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بھی رہا ہے ۔بہمنی دور میں یہاں پر اسلامی طرز  پر تعمیرات کی گئیں۔ 

ہماری والدہ بتانا شروع کر دیتیں اور ہم ہمہ تن گوش ہوتے ۔

ان اسلامی طرز و تعمیر پر مبنی عمارتوں پر زیادہ تر گنبد نظر آتے ہیں یہاں کئ بادشاہوں کے مقابر ،اولیاۓ کرام کے آستانے اور کئ مساجد ہیں ۔

ان میں جو سب سے بڑی گنبد ہے وہ درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز کی ہے اس کے علاوہ قلعہ حشام میں تاریخی جامع مسجد ہے جسے گنبدوں کی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔

سلطنت بہمینیہ کی یادگار ہفت گنبد  بھی ہیں جسے سات گنبد بھی کہا جاتا ہے ۔

گلبرکہ میں سری کشیترا گھانا پور مندر ہے سدھارتھ ٹرسٹ کا بدھاوہار بھی ہے ٹینک بینڈ روڈ پر شرانا بسویشور گارڈن ہے ۔

" امی جی آپ نے گلبرکہ کی درگاہ کا ذکر ہی نہیں کیا ۔ " ہم نے مداخلت کی ۔ تو وہ مسکرائیں ۔‌اور کہنے لگیں ۔

" اب میں اسی طرف آ رہی تھی ۔ گلبرکہ کو گلبرکہ شریف بھی کہا جاتا ہے چونکہ اس میں کئ صوفیاۓ کرام کے مزارات ہیں ۔اور کئ اولیاء اللہ کے مزارات ہیں جس میں شہنشاہ دکن حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی درگاہ ہے ۔حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز سلسئہ چشتیہ کے مشہور  صوفی بزرگ ہیں ۔ ان کے آستانے پر مسلم غیر مسلم  زائرین زیارت کے لیۓ  آتے رہتے ہیں ان کا عرس مبارک پندرہ  ذیقعد کو ہوتا ہے ۔ اور درگاہ میں چراغاں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ 

" "  اب اسکے جغرافیہ پر ایک نظر ڈالیں ۔تو ضلع گلبرگہ دکن کے سطح مرتفع پر واقع ہے اور دو اہم دریاؤں دریاۓ کرشنا اور دریاۓ بھیما سے سیراب ہو تا ہے ۔ یہاں آب پاشی کے کئ ذخائر ہیں ۔جوار مونگ پھلی چاول اور دال یہاں کی اہم فصلیں ہیں ۔یہاں کے پکوان میں جوار کی روٹی ،بھنا ہو ا گوشت ،پھلی کی چٹنی بہت مقبول ہیں ۔

صنعتی اعتبار سے گلبرکہ بسماندہ ضلع ہے ۔

" جی ۔ ہم بھی یہی کہہ رہے تھے کہ ایک پسماندہ ضلع ہے ۔ "

والد صاحب کہاں موقعہ چھوڑنے والے تھے۔ 

" لیکن تعلیمی اعتبار سے یہ شہر ملک میں ایک  اہم مقام رکھتا ہے ۔اس شہر  میں گلبرکہ یونیورسٹی بھی ہے اور ۔اسی طرح تین ڈنٹل کالجز  ،چار میڈیکل کالجس ہیں اور دس انجینیرنگ کالجس ہیں۔ 

اسکی تہذیب و تمدن کی بات کریں  تو یہ ایک ہمہ مذہبی شہر ہے یہاں تقریباً ہر مذہب کے لوگ بستے ہیں ۔ان میں آپس میں بھائ چارگی اور مروت کا برتاؤ دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہاں کبھی مذہب کی بنا پر جھگڑے فسادات نہیں ہو تے ۔ ۔ ہر مذہب کے لوگ بلا خوف وخطر اس شہر میں رہ سکتے ہیں 

گلبرگہ شہر رواداری اور ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کے لیۓ مشہور ہے ۔ یہاں اردو کنڑ زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ چونکہ یہ شہر  پہلے حیدرآباد دکن ریاست میں شامل تھا اس لیے بول چال میں دکنی زبان کا رنگ نمایاں ہے لیکن اس شہر پر مہاراشٹر  اور اسکی بولی کا بھی اثر نظر آتا ہے 

۔ اردو اور اردو ادب کے حوالے سے بھی  یہ شہر کافی زرخیز ہے ۔ ۔ 

 اس شہر کے کئ شعرا بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں جس میں سلیمان خطیب ،صغری عالم، فضل گلبرگوی اکرام باگ وغیرہ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہیں ۔ ۔ 

سلیمان خطیب کا شعری مجموعہ " کیوڑے کابن " دکنی زبان میں لکھا گیا ہے جسے پڑھتے ہوۓ قاری کو بےحد لطف آتا ہے ۔

ی شہر سے کئ اردو اخبارات  بھی شائع ہو تے ہیں جس میں روزنامہ انقلاب دکن قابل ذکر ہے ۔ اسکے علاوہ "کے بی این ٹائمز" بھی کافی مقبول روزنامہ ہے جو خواجہ بندہ نواز سوسائیٹی کے ٹحت جاری  ہو تا ہے ۔

اور آخری بات ۔۔۔امی نے ابو کو گھورا ۔

" اس شہر میں اکتوبر 2019۔میں‌ایر پورٹ بھی قائم ہو چکا ہے ۔ جس میں روزآنہ بنگلور حیدرآباد اور دوسرے کئ شہروں کے لیۓ فلائٹس چلتی رہتی ہیں ۔ 

تو حاصل کلام یہی ہے کہ گلبرگہ شہر روز افزوں ترقی کے منازل طۓ کرتا جا رہا ہے ۔ اس لیے اسکو گاؤں کہنا اسکی بے عزتی کر نے کے مترادف ہے ۔‌

امی نے جیسے بات ختم  ہونے کا اشارہ دیا ۔

" واہ ۔چلیۓ اس بات پر کھانے میں کیا بنا ہے یہ بھی بتادیں ۔ " ہم نے امی کو دیکھا ۔

" گلبرگہ کی تہاری " 

واہ ۔ چاہے حیدرآباد کی بریانی ہو کہ گلبرگہ کی تہاری ہم دونوں پکوان سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔

گلبرگہ کی تہاری عام طور پر نہاری کے ساتھ کھائ جاتی ہے ۔ جس کا اپنا ہی لطف ہو تا ہے ۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ گلبرگہ کو  گاؤں کہنا مناسب ہے یا نہیں ہم تہاری پر ٹوٹ پڑے ۔

ختم شد 

محمد ذیشان ۔۔۔حیدرآباد۔

ختم شد 









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ