میرے ہم نوا ۔۔۔قسط بائیس
میرے ہم نوا ۔۔۔قسط بائیس
تین مہینے بعد
ان تین مہینوں میں محتشم کی گمشدگی معمہ بنی رہی تھی ۔انکے گھر والوں نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ لکھوا دی تھی جس کا ابھی تک کوئ خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا ۔
********* ۔
وہ میز پرفائلزرکھے انہیں الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔ چہرے پر سنجیدگی تھی ۔جب نظیر صاحب وہاں آۓ تھے ۔
" طہ ۔ "
" جی ابا ۔ کیا بات ہے ۔ " اس نے قلم ایک جانب رکھ دیا تھا ۔
" ابوالکلام بھائ کی طبعیت بار بار خراب ہو رہی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے وہ بیٹی کی مستقبل کو لیکر بہت فکر مند ہیں "
" ابا یہ کوئ معمولی بات تو نہیں بہت بڑی بات ہے ۔وقت لگے گا حالات کو معمول میں آنے میں ۔" اس نے کرسی کی پشت پر اپنا سر ٹکا دیا۔
" ہاں ۔لیکن ہمیں اس برے وقت میں ان کا ساتھ دینا چاہیۓ " انکے لہجے میں ہمدردی اور رحم کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔
" ہم کیا کر سکتے ہیں ۔سواۓ دعا کے کہ یا تو محتشم بھائ آ جائیں یا پھر تہذیب کا کہیں اور اچھی جگہ رشتہ ہو جاۓ۔ " اس کے لہجے میں سادگی تھی ۔
" ہاں ۔لیکنطہ ابوالکلام بھائ نے تمہارا نام لیا ہے ۔ " وہ رک کر بولے تو وہ چونک گیا ۔اور کرسی سے سر اٹھایا ۔
" میرا نام ۔لیکنکیوں ۔ میں کہاں سے بیچ میں آ گیا ۔"
" وہ تہذیب کی شادی تم سے کرنا چاہ رہے ہیں۔ ۔ " نظیر صاحب نے جیسے اسکے سر پر بم پھوڑ دیا تھا ۔
" کیا ۔ " وہ شدید حیرت سے دو چار ہوا تھا ۔
" ماموں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں ۔ ہمارے اور انکے بیچ طبقاتی فرق بہت ہے ۔ ہمارے جینے کا ڈھنگ الگ ہے ۔ ہمارا انکے ساتھ کوئ جوڑ نہیں " وہ کافی ناراضی سے بولا تھا ۔
" " ہاں ۔لیکن شاید تمہیں اندازہ نہیں ۔ اڑتے اڑتے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ محتشم کی گمشدگی میں اشعر اور اسکے دوستوں کا ہاتھ ہے ۔ اور اکبر بھائ ابوالکلام پر اب زور ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی اشعر سے بیاہ دیں ۔
" کیا " اس نۓ انکشاف نے اسے اور حیران کر دیا ۔
" کیا اشعر اس حد تک گر سکتا ہے ۔ " "
" اسی بات کی فکر کھاۓ جا رہی ہے انہیں ۔جو بندہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اتنا گر سکتا ہے سوچو وہ آگے کسی اور کے ساتھ تہذیب کا رشتہ ہونے د ے گا ۔نۓ لوگوں کو گمراہ کرنا کونسا مشکل ہوگا ۔ اس کے لیۓ " انکی بات پر طہ کچھ دیر خاموش رہا تھا
" تو اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے اپنا داماد بنا لیں ۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔ آپ صاف جواب دے دیں ۔ " اسکے جہرے پر سختی سی آگئ تھی ۔
" کیوں ۔ اس میں غلط کیاہے ۔ انہوں نے خود تمہارا نام لیا ہے ۔ وہ تمہیں اس قابل سمجھتے ہو نگے تبھی تو انہوں نے تمہارا نام لیا ہو گا ۔ " وہ اب دلیل دے رہے تھے ۔
" ابا ۔ اگر ماموں نے کہا بھی تب بھی کیا انکی بیٹی ہمارے ساتھ ایڈجسٹ کر پاۓ گی ۔ اس نے اب ایک اورنکتہ اٹھا یا ۔
" بیٹے وہ تو ابھی دنیا جانتی نہیں ۔ ہم اسے محبت سے رکھیں گے وہ بھی رہ لے گی ۔ " اب وہ تھوڑا نرم ہو کر بولے تھے ۔
" ابا ۔ یہ بہت ہی احمقانہ بات ہو گی کہ وہ یہاں رہ لے گی ۔اس امید پر میں اس سے شادی کر لوں ۔ یہ تو پوری زندگی بھر کا ساتھ رہتا ہے ۔ اور سچ پوچھیں تو میں اپنی زندگی کو ایک تجربے کی نظر نہیں کر سکتا ۔۔وہ اب مکمل سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔اس نے رکھا ہوا قلم دوبارہ اٹھا لیا تھا ۔ یوں جیسے وہ اب بات ختم کر چکا ہو ۔
" ٹھیک ہے طہ ۔ ابھی اس بارے میں سوچو ضرور ۔ اور جواب مثبت میں دو گے تو ہم سب کو خوشی ہو گی ۔ " نظیر صاحب نے بھی بات ختم۔ کر نے کے انداز میں جواب دیا تھا اور خود بھی اٹھ گۓ تھے ۔
انکے جانے کے بعد طہ کچھ دیر تک سوچتا رہا پھر سر جھٹک کر اپنے کا م میں مشغول ہو گیا تھا ۔
۔
********** "
وہ ابھی ابھی آقس سے گھر آیا تھا ۔ صابرہ بیگم نے کھانا نکال کر اسے آواز دی تھی ۔وہ ہاتھ دھو کر دستر خوان پر بیٹھنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا ۔
" اس نے فون پک کیا اور ہیلو کہا ۔
" ہیلو ۔طہ ۔میں محتشم ہوں ۔ ایک پھنسی پھنسی آواز سن کر وہ سناٹے میں آ گیا ۔
" محتشم بھا ئ۔ آپ ۔۔وہ ایک ہی لمحہ میں حیرانی، خوشی کے جذبات میں مبتلا ہو ا تھا ۔
کیسے ہیں آپ کہاں ہیں ۔ وہ جلدی جلدی سوالات در سوالات کر رہا تھا ۔
" طہ ۔ میں اب ٹھیک ہوں ۔لیکن ابھی میں کہاں ہوں نہیں بتا سکتا ۔ بس جہاں بھی ہوں ۔ ٹھیک ہوں ۔ میں نے تمہیں ایک بات کے لیۓ فون کیا ہے ۔ میں اب دوبئ جا نے والا ہوں ۔ اسکے بعد میں شاید تم سے رابطہ نا کر سکوں ۔ لیکن تم ماموں کی بیٹی تہذیب سے شادی کر لینا۔ میں بہت گلٹی فیل کر رہا ہوں ۔پلیز ۔ میں نہیں چاہتا کہ ماموں کی عزت پر کوئ حرف آۓ۔ تم ہی یہ کر سکتے ہو ۔ اور کوئ نہیں ۔ پلیز ۔ میری بات کا مان رکھ لینا ۔ اتنا کہتے وہ فون بند کر چکے تھے ۔ اور طہ بس ہیلو ہیلو ہی کہتے رہ گیا ۔
جاری
"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں