میرے ہم نوا ۔۔۔قسط اکیس

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط اکیس 

" آپ تو یوں ہمت ہار گۓ ہیں جیسے کہ ہم مر گۓ ہیں ۔ آپ کے خیر خواہ ابھی موجودہیں ۔ " وہ اب انکے قریب آگۓ تھے اور قریب کی کرسی پر وہ خود بھی بیٹھ گۓ تھے ۔

" کیا کروں اکبر بھائ ۔میری تو ہمت ہی ٹوٹ گئ ۔ آپ سب کی موجودگی سے ڈھارس بندھی ہے ۔ ورنہ " ابوالکلام اپنے سینے پر ہاتھ رکھے بے چینی سے بولے تھے ۔

" اگر آپ ہاں کریں تو میں ابھی اور اسی وقت تہذیب کو اپنے اشعر کی دلہن بنا لوں ۔ " اکبر سیٹھ نے فوراً اپنا مدعا پیش کیا تھا ۔ ا ن کی بات پر ابوالکلام چونک گۓ تھے ۔ اور ان کی نظریں سامنے اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف اشعر پر پڑی تھیں ۔اسکے چہرے سے کچھ بھی فکر مندی ظا ہر  نہیں ہو رہی  تھی ۔وہ بہت آرام دہ انداز میں  ہنستے مسکراتے بات کر رہا تھا ۔ اس موقعہ پر بھی وہ ابوالکلام کے پاس نہیں آیا تھا نا ہی ان کی دل جوئی کی تھی ۔ ۔

" اکبر بھائ ۔میں اس وقت اتنا الجھا ہوا ہوں کہ کوئ بھی فیصلہ نہیں لے سکتا ۔ اس لیۓ ابھی تو کچھ کہہ نہیں سکتا ۔ ‌‌  اس وقت  میں کوئ بھی عجلت بھرا  فیصلہ لینے کے موقف میں نہیں ہوں ۔ " وہ بردباری سے بولے تھے ۔

" " بہرحال آپ کا بے حد شکریہ ۔ "  

" ماموں ۔ آپ وہاں چل کر کچھ دیر لیٹ جائیں ۔ میں خواتین کو گھر بھیج کر آتا ہوں  " وہاں طہ آ گیا تھا ۔ اور ابوالکلام وہاں سے اٹھ گۓ تھے ۔ اکبر سیٹھ بنا تاثر کے انہیں جاتا دیکھتے رہے ۔

 خواتین گاڑیوں میں بیٹھنے لگی تھیں ۔ شمیم ارا ابھی بھی  رو رہی تھیں جبکہ تہذیب بالکل خالی الذہن تھی  ۔اس کو اربیہ نے پکڑا ہو ا تھا ۔وہ رو نہیں رہی تھی لیکن اس کا وجود ہولے ہو لے لرز رہا تھا ۔ اسکے قدم سست تھے۔

یہ کیسی رخصتی ہو رہی تھی اسکی ۔ کوئ اس کی زندگی میں آیا بھی نہیں اور چلا بھی گیا ۔اسکے مہندی لگے ہاتھوں پر رنگ ابھی کچے تھے اور اب اسکی زندگی بے رنگ ہونے جا رہی تھی ۔ 

لوگوں کی باتیں دل چھلنی کر رہی تھیں ۔

 " پتا نہیں کیا مسئلہ تھا جو دلہا آیا ہی نہیں ۔"

" کیا پتا دلہا کا خود کا کچھ مسئلہ ہو ۔  " 

ایسے حالات میں قصور کسی کا ہو نا ہو مگر داغ ہر دو کو لگ جاتا ہے ۔

شمیم آرا کو یہی دکھ کھاۓ جا رہا تھا ۔انہیں‌ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ آج  انکی بیٹی  کو کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں سزا سنا دی گئ ہو ۔

دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی تہذیب کو دیکھ کر سب کی آنکھیں اشک بار تھیں ۔

۔خواتین گھر چلی گئیں تھیں جب کہ طہ ابوالکلام اور نظیر صاحب  وغیرہ رات بھر جا گتے رہے تھے۔ طہ محتشم کے ہر دوست شناسا کو فون پر فون کرتا جا رہا تھا ۔ کہیں سے تو کوئ خبر ملے ۔اس نے اپنے پولیس میں موجود دوستوں سے بھی محتشم کے بارے میں بتا یا تھا ۔اور کہہ دیا تھاکہ  انکے بارے میں جیسےہی کچھ پتا چلے وہ انہیں اطلاع دیں ۔ آخرفجر تک وہ وہیں رہے تھے اسکے بعد تھک ہار کر وہ لوگ  گھر کے لیۓ روانہ ہو گۓ تھے ۔ طہ اپنے کھر آ گیا تھا جبکہ نظیر صاحب ابوالکلام  کے ساتھ ہی تھے ۔ جنکی حالت غیر ہو تی جا رہی تھی ۔

دن گذرتےجا رہے تھے ۔ اب ایک ہفتہ ہو نے کو آ یا تھا ۔ محتشم کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا ۔ انکے والد اور دوسرے فیملی ممبرز گاوں واپس جا چکے تھے ۔ ابوالکلام کے گھر میں جو مایوسی نا امیدی کی لہر تھی وہ قائم تھی ۔ 

تہذیب اپنے کمرے میں چپ چاپ گھنٹوں بیٹھی رہتی ۔ اسے لوگوں کی طنزیہ نظریں بھلائ نہیں جا رہی تھیں ۔ 

" شاید لڑکی کا کردار صحیح نہیں ہے دولہے کو پتا چلا تو شادی کے لیۓ آ یا ہی نہیں ۔ " 

 ایسے معاملات میں عام طور بر لڑکی کا ہی قصور ہوتا  ہے ۔ کیا پتا کسی اور کو پسند کرتی ہو ۔اور دولہے کو خود ہی آنے سے منع کر دیا ہو ۔۔ " غرض یہ سب باتیں اسکے کان میں بھی پڑی تھیں جس سے وہ  ایک ذہنی اذیت سے گذر رہی تھی ۔

 جاری  



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر