میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔آٹھویں قسط

  " اظہار تمہیں پڑھنا نہیں ہے ۔" طہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔

" ہاں ۔ہاں پڑھنے ہی جا ؤں گا ۔چاہے بڑے بھائ کی شادی ہی ہو ۔ کتنی بورنگ زندگی ہے ۔ " وہ اپنا راگ الاپنے میں مصروف تھا ۔

" تمہیں بھنگڑا ڈالنا ہے ۔ ؟ " اس بار حیرت تھی ۔

" نہیں جی ۔ آپکی شادی پر تو مجھے قرنطینہ میں ہونا ہے ۔ پڑھنا ہے اور بس پڑھنا ہے ۔ " اسکے انداز پر اربیہ ہنسنے لگی تھی ۔ جبکہ نظیر صاحب اور صابرہ دبے دبے انداز میں مسکرا رہے تھے ۔

" کورنٹائن ہونا تمہارے لیۓ بہت اچھا ہو گا ۔ "  ہلکی مسکراہٹ آ گئ تھی ۔

" وہی ہو رہا ہوں اب ۔‌" وہ اپنے کمرے کی جانب بھا گا ۔

" لیکن اب تو بتا دیں ۔کیا دیں گے آپی کو ۔" 

" لا حول ولا قوتہ۔ اسکی سوئ تو بس وہیں اٹک گئ ہے ۔میرے پاس کم بجٹ ہے اس لیۓ ڈراپ کرہا ہوں ۔ " بلاآخر اس نے جواب دیا تھا ۔

" توبہ توبہ ۔ کیا زمانہ آ یا ہے ۔ دلہے کے پاس دلہن کو رونمائ میں دینے انگوٹھی کے پیسے نہیں ہیں ۔" وہ اندر سے ہی چلایا تھا ۔

 " چپ کرو گے تم ۔ مہر نقد دے رہا ہوں ۔ وہ کافی نہیں ہے کیا ۔ " اسے غصہ آ گیا تھا ۔

مہر تو واجب ہے وہ تو آپ کو دینا ہی پڑے گا ۔

" کچھ لوگ  وہ بھی نہیں دیتے ۔" امی نے آہ بھری تھی ۔

" اری او ۔بھاگوان ۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا نقد مہر دیتے تو علیحدگی کی بات سمجھی جاتی تھی ۔اس لیۓ نہیں دیا ۔ " ابا کو واضح کرنا پڑا ۔

" یعنی مہر ادھار رکھ کر رشتہ نقد کرتے تھے ۔ پہلے کے لوگ ۔ کمال ہے ۔ " اظہار آزادی راۓ کا اظہار خوب کر رہا تھا ۔گو کہ کمرے میں تھا ۔

" اظہار اب خاموش رہوگے کہ یا شام کا کھانا ۔۔۔۔" امی کا اتنا کہنا تھا کہ اظہار نے دروازہ بند کر دیا  تھا مطلب مکمل کورنٹائن ۔ 

اسکے اس انداز پر سب ہنسنے لگے تھے ۔

" طہ ۔ میرے پاس انگوٹھی ہے ۔وہی تم تہذیب کو دے دینا ۔ " امی اسے دیکھ کر کہہ رہی تھیں ۔

" امی ۔آپ بھی  ۔ میں ابھی یہ سب تکلفات وغیرہ میں نہیں پڑوں گا ۔پلیز ۔مجھے مجبور مت کریں کسی چیز کے لیۓ۔ " اسکے خشک سے انداز پر صابرہ بیگم نے خاموشی اختیار کر لی تھی ۔

امی کو جواب دے کر وہ اٹھا تھا اور اندر  کمرے میں جا کر لیٹ گیا تھا ۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ زندگی کی  بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا ۔کتنی آوازیں اپنی طرف آتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ اور ان آوازوں میں ایک آ واز نمایاں تھی ۔

" طہ ۔ اس وقت تم ہی انکی مدد کر سکتے ہو ۔ " 

 " لیکن ۔میں ۔۔" اسکی آواز آئ تھی ۔ 

" ہاں تم اور بس تم ۔مجھے تم سے بہت امید یں ہیں ۔ " ایک سرگوشی سنا ئ دی ۔

اور وہ کہانی کا ایک ایسا کردار بن گیا جسے خود پتا نہیں ہو تا کہ آ ااس سے کیا کام لیا جاۓ گا ۔

تہذیب ۔۔ایک عیش وعشرت میں پلی بڑھی جس کو خدا نے حسن اور ذہانت دونوں سے نوازا تھا ۔اسے کسی بھی چیز کے لیۓ کبھی خواہش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی ۔اسے تو ہر چیز بن مانگے مل جاتی تھی ۔ 

اور ایک وہ تھا اور اسکی زندگی تھی جہاں ہر گام میں صعوبتیں ہو تی تھیں ۔عیش تو کیا ہو تے ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو تی تھیں ۔ہر ماہ اپنا بجٹ بنا نے میں اور مہینے کے آخر تک اس بجٹ کو ایڈجسٹ کر نے میں گذرتا تھا ۔

کبھی کچھ رہ جاتا اور کبھی کچھ ۔

یوں جیسے زندگی کو عادت ہو گئ تھی ۔اسے ہر موڑ پر ہر چیز کے لیۓ  ترسا نے کی ۔ 

اس نے اچھے خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیۓ تھے ۔کیونکہ خواب تو دیکھ لیتے ہیں ۔مگر تعبیر ۔۔وہ تو نہیں ملتی ۔

جس طرح آج امی نے ادھار مہر کو لیکر ابا کو نشانہ بنا یا تھا وہ اسے نظر انداز نہیں کر پا تا تھا ۔ امی اکثر مذاق  میں ہی ذکر کرتیں تھیں مگر کرتی تھیں ۔ تب اسے لگا تھا عورت اپنے حقوق کو لیکر حساس ہو تی ہے ۔ اور وہ اس بات پر خائف تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے بھی ایسی صورت حال کا سامنا کر نا پڑے ۔اس لیۓ اس نے مہر نقد دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔لیکن آگے کیسے حالات آئیں گے اور تہذیب اور اسکی ازدواجی زندگی کیا موڑ لے گی وہ نہیں جانتا تھا ۔

******************

رابعہ ۔رابعہ ۔‌" اکبر سیٹھ اپنی بیوی کو آواز دے رہے تھے ۔جو اندر کمرے میں لیٹی تھیں ۔امینہ بھی وہیں تھی جبکہ اشعر اور اس کا چھوٹا بھائ باہر گۓ تھے ۔اکبر سیٹھ بازار سے آۓ تھے ترکاری کی تھیلی انہوں نے تخت پر رکھ کر آواز دی تھی ۔

" جی ۔ " رابعہ بیگم  باہر آگئ تھیں تبھی فون کی بیلز ہو نے لگی تھیں ۔

" ہیلو ۔ " رابعہ بیگم نے ہی فون اٹھا لیا 

" ہیلو ۔اسلام علیکم رابعہ ۔میں ابوالکلام بات کر رہا ہوں ۔ " بھائ کی رعب دار آواز بر رابعہ بیگم کو گمان ہوا کہ اب وہ بہت بڑی خبر دینے جا رہے ہیں ۔

" جی " 

" اگلے جمعہ ۔تہذیب کی رخصتی ہے ۔ میں نے عابد کو دعوت نامہ دے کر بھیجا ہے ۔ آپ سب کو دعوت ہے " ابوالکلام کے لہجہ  عام سا تھا جبکہ رابعہ بیگم نے بے ساختہ شوہر کی طرف دیکھا تھا۔ جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔

" اگلے جمعہ ۔ آپ نے رخصتی بھی رکھ دی ۔ " وہ شاکی ہو ئیں ۔

" رابعہ ۔شکوے شکایت اب آگے کے لیے رکھ دو ۔ اگر آؤگی تو ہم سب کو خوشی ہو گی۔ اگر نہیں آنا چاہو تو کوئ بات نہیں کسی کے آنے نا آنے سے  زندگی کے کام تو نہیں رکتے ۔ چلو ۔پھر ٹھیک ہے  سب کو سلام دعا ۔ " فون رکھ دیا گیا تھا ۔

" کیا کہا ابوالکلام بھا ئ صاحب نے ۔ " اکبر سیٹھ انہیں غصہ سی دیکھ رہے تھے ۔

" اگلے جمعہ رخصتی ہے ۔ ہم سب کو بلا یا ہے ۔ " وہ دبے دبے انداز میں کہہ کر اندر جانے لگی تھیں ۔

" اب ابوالکلام بھائ صاحب اور صابرہ بیگم نظیر صاحب کے گھر  ہمرے گھر کا کوئ فرد قدم نہیں رکھے گا ۔ چاہے خوشی کے شادیانے بج رہے ہوں یا میت رکھی ہوئ ہو ۔ " انکے انداز میں سفاکیت تھی ۔ 

رابعہ بیگم نے تڑپ کر اپنے شوہر کو دیکھا تھا ۔مگر وہاں جو تاثرات کی سختی تھی اس نے انہیں کچھ بھی بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا ۔

جاری 

آپ تمام قارئین کا بے حد شکریہ جو اس ناول کو پڑھ کر اپنی راۓ دے رہے ہیں ۔ 


*****





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ