میرے ہم نوا قسط ۔۔۔انیس
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط انیس
" اسلام علیکم " رابعہ بیگم کے گھر کی دہلیزہپر کھڑے ابوالکلام کو دیکھ کر اکبر سیٹھ کے گھر میں ہلچل سی مچ گئ تھی۔ امینہ بھاگ کر کرسی لے آئ تھی جبکہ رابعہ بیگم تخت پوش ٹھیک کر نے لگیں ۔ اکبر سیٹھ کو بھی خوش گوار حیرت ہو ئ تھی انہیں یوں اپنے گھر دیکھ کر ۔
" وعیلیکم اسلام ۔ابوللکلام بھائ ۔ آئۓ ۔یوں دروازہ پر کیوں کھڑے ہیں ۔ " انہوں نے بڑھ کر ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا تھا ابوالکلام کی شخصیت بارعب سی تھی ۔ وہ نا بلا ضرورت کسی کے گھر آتے تھے نا بلا ضرورت کسی پر کسی قسم کا بوجھ ڈالتیے تھے ۔ان کا خود چل کر گھر آنا بہت بڑی بات تھی ۔
وہ مسکراتے اندر آۓ تھے ۔ چہرے پر ایک مکمل خوشی کا احساس تھا ۔
" دراصل آپ سب کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں ۔ اپنی بیٹی تہذیب کی شادی کی۔ خوش خبری "۔ وہ ان لوگوں کے دلوں کی کیفیت سے بے خبر اپنی بات مکمل کر چکے تھے ۔ ایک لمحے میں سارے گھر میں خاموشی چھا گئ تھی ۔ سب جیسےہسکتہ میں آ گۓ ہوں ۔
" تہذیب کی شادی لیکن کسکے ساتھ طۓ کردی ۔ " رابعہ بیگم نے اپنے آپ کو بہت جلدی سنبھال لیا تھا ۔
" اپنے محتشم کے ساتھ ۔ تہذیب کے لیۓ محتشم سے زیادہ کون قابل ہو سکتا ہے ۔ " وہ کہتے جا رہے تھے اور سب کے دل جیسے چیرے جا رہے تھے ۔
" جی ۔خیر مبارک ہو ۔آپ کو بھائ ۔لیکن " اکبر سیٹھ تھوڑا جھجھکے ۔
" آپ نے ایک بار بھی مشورہ نہیں کیا ۔ ہم سے ۔" ان کے انداز میں شکایت تھی ۔
" بھئ ۔گھر کا دیکھا بھالا بچہ تھا ۔اس لیۓ کسی قسم کے مشورے کی ضرورت ہی نہیں پڑی ۔ " ان کے چہرے کی مسکراہٹ سے ہی انکی خوشی کا اندازہ کیا جا سکتا تھا ۔
اکبر سیٹھ ابوالکلام کے سامنے کچھ بھی بولنے سے قاصر تھے ۔وہ یوں تو انکے پیٹھ پیچھے بہت کچھ کہہ لیتے تھے لیکن روبرو بات کرنے کی ان میں ہمت نہیں تھی ۔ یہاں تو بات اشعر کی تھی جسکی نا اہلی اظہر من الشمس تھی ۔ اور محتشم کے سامنے اشعر کی بات کرنا گویا سورج کے سامنے چراغ دکھانے جیسا تھا ۔ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گۓ تھے ۔
کچھ دیر کے بعد ابوالکلام تو چلے گۓ لیکن انکے گھر میں ایک پل کو ماتم جیسی کیفیت ہو گئ تھی ۔
اشعر کو پتا چلا تو وہ حسب معمول ہنگامہ کرنے کے درپے تھا ۔
مگر اکبر سیٹھ نے اسے روک دیا تھا ۔
" تم اس محتشم جتنے قابل ہو نہیں کہ وہ اس پر تمہیں فوقیت دیتے ۔اس لیۓ خاموش رہو ۔ "
" کیوں خاموش رہوں ۔ کیا ہم اتنا بھی نہیں پوچھ سکتے ماموں سے کہ آخر انہوں نے بچپن میں کی گئ بات کو نظر انداز کیسے کیا " وہ چلا اٹھا تھا ۔
" کہا نا ۔ انتظار کرو اور دیکھو ۔ اس پالیسی پر عمل کرو فائدہ میں رہو گے ۔" وہ مکاری سے بولے تھے ۔
اور اشعر ان کے انداز پر خاموش ہو گیا تھا ۔
ا**********
سارے خاندان میں ہی اس شادی کے چرچے شروع ہو گۓ تھے ۔ ابوالکلام کی بیٹی کی شادی تھی سب ہی پر جوش تھے ۔
محتشم نے طہ کو ہی اپنی جانب کی تیاری کرنے کے لیۓ کہا تھا چونکہ انکا کوئ بھائ نہیں تھا ۔ سوتیلے بھائ تھے جو کہ چھوٹے تھے ۔ طہ بھی اپنے پورے دل سے اس شادی کی تیاری میں لگا تھا ۔ شادی کے سارے انتظامات اسی کے سپرد تھے ۔ اور وہ پورے خلوص سے اپنا کام انجام دے رہا تھا ۔
************
آج شادی کا دن آن پہنچا تھا ۔ طہ محتشمکے ساتھ انکے فلیٹ میں ہی تھا ۔ وہ ٹھیک سات بجے نکلنے والے تھے ۔محتشم کے کچھ دوست بھی تھے جو انکی کار میں ہی آ رہے تھے ۔
دلہن عروسی جوڑے میں ملبوس میریج ہال پہنچ چکی تھی ۔
اور دلہن کی خوبصورتی سے سب مبہوت سے تھے ۔ ڈارک میر و ن رنگ کا شرارہ جس پر سنہری سرخ سبز ،ریشمی دھاگوں کی کڑھائ تھی جسکے دامن پر سرخ سبز موتی ٹنکے تھے ۔ سرخ سبز چوڑیوں اور سونے کے کنگن سے سجے ہاتھ جس پر مہندی کی چھب ہی الگ نظر آ رہی تھی ۔ سرخ گھونگٹ جو چہرے کے سامنے تک ڈالا گیا تھا جس سے دلہن کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔مگر سرخ گھونگٹ سے اسکے چہرے کی جھلک لوگوں کو مسحور کر رہی تھی ۔ بلاشبہ اس پر آج بہت روپ چڑھا تھا ۔
جاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں