میرے ہم نوا ۔۔۔قسط سولہ

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط سولہ 

" اپنے شوہر کو ،سسرال والوں کو سمجھانا چاہیۓ کہ ۔۔۔" 

" ماموں ۔ رخشی آپا بہت ڈرپوک ہیں وہ تو تیز اواز میں بات تک نہیں کر پاتیں ۔ اگر یہ سب انکے ہاتھ میں ہو تا تو وہ یوں بے بس ہو کر نا آتیں ۔ " طہ کو بولنا پڑا تھا ۔ابواکلام کی بات کاٹ کر ۔

" کب تک ایسے ڈر ڈر کر جیئۓ گی ۔ اسے مضبوط بننا چاہیۓ ۔"  ابوالکلام کے لہجے کی تلخی نے طہ کو بددل سا کر دیا ۔

" ٹھیک ہے ۔ماموں۔اب  میں چلتا ہوں ۔ " وہ اچانک اٹھ گیا تھا ۔ محتشم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ وہ ان دونوں کے بیچ جان بوجھ کر دخل نہیں دے رہے تھے ۔ مگر  طہ جس کے چہرے پر دبا دبا غصہ تھا کو جانے کے لیۓ اٹھتے دیکھ کر انہیں مداخلت کرنی پڑی ۔

" طہ ۔ اس طرح اٹھ گۓ ۔ بیٹھو تو " انہوں نے اسے بٹھا نا چا ہا تھا ۔ 

" نہیں محتشم بھائ ۔ میں چلتا ہوں ۔ " وہ ابوالکلام پر ایک سرد نظر ڈالتے اٹھ گیا تھا ۔ابوالکلام نے کچھ نہیں کہا تھا ۔طہ باہر چلا گیا تھا ۔

وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں ٹہری تھی ۔ اسے اب تک شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی کہ اس نے کیوں اس طرح ان دونوں کے بیچ مداخلت کی تھی ۔ اپنا موقف کیوں بتانا چا ہا تھا ۔ ان دونوں کی ہنسی اسے اب تک خجل کر رہی تھی ۔ چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔ ان ہی سوچوں میں گم وہ کھڑکی میں ٹہری تھی جب اس نے طہ کو غصہ سے باہر نکلتے دیکھا تھا ۔وہ بنا کسی کو دیکھے  باہر چلا گیا تھا۔

" اب اسے کس بات کا غصہ تھا جو وہ یوں چلا گیا ۔ " وہ سوچ میں پڑ گئ۔ تھی ۔ یہ پہلی بار نہیں تھا ۔ طہ اکثر ایسے ابوالکلام کے ساتھ کرتا تھا اور ابوالکلام بھی اکثر اس سے خفا ہی رہتے تھے ۔

***********

" وہ ابوالکلام کے گھر سے غصہ سے نکل تو آیا تھا مگر رخشی آپا کو دیکھ کر اسے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی ۔انکی ملتجی نظروں سے خوف آتا تھا ۔ وہ کچھ متفکر سا لیٹا تھا جب فون آیا تھا ۔

" ہیلو ۔ " اس نے فون کانوں سے لگا یا ۔

" اسلام علیکم طہ کیسے ہو ۔ " محتشم بھائ تھے ۔

 " جی ٹھیک ہوں ۔ محتشم بھائ۔ " 

" طہ ۔ مجھے ایک بات کرنی تھی ۔ تم نے دس ہزار روپیوں کی بات کی تھی تو میرے پاس رکھے ہو ۓ ہیں ۔ کچھ جمع کیۓ ہوۓ تھے ۔تو تم وہ لے لو ۔ جب تمہارے پاس رقم آۓ تو لوٹانا ۔ " انکی سنجیدہ سی آواز پر اسکی آنکھ بھر آئ ۔ اس رقم کو لیکر وہ بہت پریشان تھا ۔

 " لیکن محتشم بھائ میں جلدی نیہں لوٹا سکتا یہ رقم ۔ " 

" مجھے بھی ابھی فی الحال ضرورت تو نہیں ہے تو تم لے سکتے ہو ۔ " 

" جی ۔ٹھیک ہے ۔بھائ ۔ " اسکی آواز رندھ گئ ۔ اگر بات رخشی آپا کی نا ہو تی تو شاید وہ یوں کبھی رقم نا لیتا مگر بہن کی خوشیوں کے لیۓ وہ اپنی خودداری بھی قربان کر سکتا تھا ۔

" ٹھیک ہے ۔کل صبح دس بجے تک آفس آ جا نا ۔میں دے دوں گا ۔ اگر نہیں آ سکتے تو میں خود گھر پر آ جاؤں گا ۔ دینے کے لیۓ ۔ " انہوں نے تجویز بھی دی ۔

" نہیں محتشم بھا ئ۔ آپ مت آئیں ۔میں خود آؤں گا۔ " اسے اچھا نہیں لگا تھا کہ وہ بڑے ہو کر خود آئیں ۔ 

" اچھا ٹھیک ہے ۔ مگر کسی کو بھی بولنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ رقم میں نے دی ہے ۔ خوامخواہ فساد ہو گا ۔ ماموں کو بھی مت کہنا ۔ ٹھیک ہے ۔" وہ فون پر کہہ رہے تھے اور طہ نے ہاں میں ہاں ملائ تھی ۔ 

**********

آج اکبر سیٹھ کے گھر انکی دونوں بیٹیاں  مع دامادوں کے آئیں تھیں ۔   رابعہ بیگم بھی اپنی دونوں بیٹیوں کو دیکھ کر نہال ہو ئ جا رہی تھیں ۔ 

"  آپ کیا بات کرنا چاہ رہے تھے ابو ۔ جو ہمیں یوں بلا یا " 


جاری ہے ۔

قسط کیسی لگی ۔ پڑھ کر ضرور بتائیں۔





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ